حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ

 

عبدالعلیم بن برکت اللہ سراجی عمری

 

 

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ خلافت بنی امیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے۔ جن کو پانچواں خلیفۂ راشد تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ کا اسم گرامی ابو حفص عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم آپ کی والدہ محترمہ کا نام ام عاصم تھا جو عاصم بن عمر الخطاب کی بیٹی تھیں گویا عمر فاروق کی پوتی ہوئیں۔ اس لحاظ سے آپ کے رگوں میں فاروقی خون تھا۔

آپ کی پیدائش 61ھ میں مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ آپ کی پرورش ناز و نعم کے ماحول میں ہوئی کیونکہ آپ کے والد محترم مصر کے گورنر تھے آپ کے پاس دولت و ثروت کی فراوانی تھا جس کا اثر ان کے خلیفہ بننے سے پہلے زندگی پہ دیکھا جاتا ہے وہ عمدہ لباس زیب تن کر کے اپنے زلفوں کو سنوار کر مشک عنبر لگا کر چلتے تھے اور جس راستے سے نکل جاتے وہ راستہ خوشبو سے مہک اٹھتا تھا۔

اگر آپ کے والد نے ناز ونعم میں رکھا تو تعلیم و تربیت میں بھی کوئی کمی نہیں رکھی۔ آپ نے کئی جلیل القدر صحابہ کرام کے درس میں شامل رہے۔ آپ بچپن ہی میں حفظ قرآن کے دولت سے مالا مال ہوگئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت تمام خلفائے بنی امیہ پر روشن ہے۔

707م میں ولید بن عبد الملک کے خواہش کے مطابق آپ کو مدینہ کی گورنری دی گئی تھی۔ اور آپ نے بھی اس گورنری کو اس شرط پر قبول کیا کہ ہم ظلم و زیادتی سے بعید رہیں گے۔

تمام اخلاقی خوبیوں کے باوجود طبیعت ابھی شاہانہ وقار سے برقرار تھی۔ آپ کا ساز و سامان کئی اونٹ پہ لاد کر لایا گیا۔ چنانچہ آپ 707م سے 713م تک مدینہ کے گورنر رہے اس دوران بہترین سیاست سے عدل وانصاف سے حکومت اور اہل حجاز کا دل جیت لئے۔ مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع آپ کے زمانہ گورنری کا شاندار کارنامہ ہے۔اس کے بعد ولید نے گورنری سے الگ کر دیا۔ لیکن سلیمان بن عبد الملک آپ سے بہت خوش تھے چنانچہ مرنے سے پہلے عمر بن عبد العزیز کو اپنا نامزد مقرر کر دیا۔

سلیمان بن عبد الملک کے وفات کے بعد آپ کو ہشام بن عبد الملک منبر پہ لے جاکر کھڑا کردیا۔ آپ اس عظیم ذمہ داری سے دور بھاگ رہے تھے آپ کو پتہ چلا جب منبر پہ کھڑا کر دیا تو آپ کا جسم لرزاں تھا اور آپ پر گھبراہٹ کا عالم طاری تھا کیونکہ آپ خود خواہش ظاہر نہیں کئے تھے اور نا ہی آپ امید کرتے تھے۔

پھر اس کے بعد آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

 

”لوگو ! میری خواہش اور عام مسلمانوں کی رائے لئے بغیر مجھے خلافت کی ذمہ داری میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے میری بیعت کا جو طوق تمہاری گردن میں ہے خود اسے اتارے دیتا ہوں، تم جسے چاہو اپنا خلیفہ بنا لو”

 

جب آپ نے یہ بات کہی تو لوگوں نے کہا ہم آپ کو اپنے لئے پسند کر لئے اس کے بعد آپ نے پھر فرمایا:

 

”اے لوگو! جس نے خدا کی اطاعت کی ،اس کی اطاعت انسان پر واجب ہے جس نے خدا کی نافرمانی کی، اس کی نافرمانی لوگوں پر ضروری نہیں۔میں اگر اللہ تعالٰیٰ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت ضروری جانو اور اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو میری بات نہ مانو”

 

لوگوں نے ایک بار پھر آپ کی تائید کی اس طرح آپ نے بیعت عامہ کے بعد اپنے کام کا آغاز کیا۔ خلیفہ مقرر ہونے کے بعد عوام کے درمیان آئے تو استقبالا لوگ کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔

 

”اے لوگو! اگر تم ہمارے اعزاز میں کھڑے ہو گئے تو ہم بھی کھڑے ہو جایا کریں گے۔ اگر تم بیٹھو گے تو ہم بیٹھیں گے۔ لوگ خدا کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالٰیٰ نے کچھ باتیں انسانوں پر فرض کیں اور کچھ سنن قرار دیں۔ جنہوں نے ان کی پابندی کی وہ کامیاب ہوئے اور جس نے ان کا لحاظ نہ رکھا وہ تباہ ہوا”

دور خلافت آپ کم سے کم درہم والا کپڑا پہنتے تھے وہی آپ پہلے ہزاروں درہم کا کپڑا پہنتے تھے آپ منصب پاکر اس طرح خاکسار ہوگئے۔ خلافت بنی امیہ میں آپ کی خلافت آفتاب کے مانند ہے۔ دوبارہ عہد صدیقی اور عہد فاروقی کو دنیا میں زندہ کیا گیا۔ اور اسلام کا بول بالا ہوا۔

آپ منصب خلافت پانے کے بعد لوگوں سے مشورہ لے کر کام کرنے لگے۔ جس سے فائدہ یہ ہوا کہ حکومت مضبوط ہوگئی غریبی ختم ہوگئی۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی صدقہ لینے والا نہیں بچا لوگ رات میں چپکے سے اٹھ کر صدقہ دینے لگے۔

رجب 101ھ میں بیمار پڑ گئے کسی نے چند اشرفیوں کے خاطر آپ کو زہر دے دیا۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اس کو معاف کر دیا اور اشرفیوں کو بیت المال میں جمع کروا دیا۔ طبعیت جب زیادہ خراب ہوگئی تو آپ نے اپنے بعد خلیفہ یزید بن عبد الملک کے نام وصیت لکھوائی جس میں انہیں تقوی کی تلقین کئے۔ 25 رجب 101ھ مطابق 10 فروری 720م کو آپ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ اس وقت آپ کی عمر 39 سال تھی آپ کو حلب کے قریب دیر سمعان میں سپرد خاک کیا جو شام میں پڑتا ہے۔

آپ نے اپنے دور میں ترقی کئے۔ آپ رعایا کی فلاح و وبہبود کے لئے وسیع پیمانے پر اقدامات کئے۔ خلیفہ بننے سے پہلے نو مسلموں سے جزیہ اصول کیا جاتا تھا آپ نے اس کو ظلم قرار دیکر ختم کر دئےآپ نے بیت المال کی حفاظت کا نہایت سخت انتظام کیا، دفتری اخراجات میں تخفیف کردی۔ ملک کے تمام معذورین اور شیر خوار بچوں کے لیے وظیفے مقرر کیے۔ نو مسلموں پر جزیہ معاف کردینے سے آمدنی گھٹنے کے باوجود سرکاری خزانے سے حاجت مندوں کے وظائف مقرر کیے لیکن ناجائز آمدنیوں کی روک تھام، ظلم کے سدباب اور مال کی دیانتدارانہ تقسیم کے نتیجے میں صرف ایک سال بعد یہ نوبت آگئی کہ لوگ صدقہ لے کر آتے تھے اور صدقہ لینے والے نہ ملتے تھے۔ اور آپ نے جگہ جگہ سرائے بنوائے۔ شراب کی دوکانیں بند کردیں۔

آپ نے اپنے دور میں علم کی اشاعت پر خصوصی توجہ دی۔ آپ نے تدریس و اشاعت میں مشغول علمائے کرام کے لیے بیت المال سے بھاری وظیفے مقرر کرکے ان کو فکرِ معاش سے آزاد کر دیا۔ آپ کا سب سے بڑا تعلیمی کارنامہ احادیثِ نبوی کی حفاظت و اشاعت ہے۔

 

آپ کے دور میں بڑے پیمانے پر تبلیغ اسلام کے باعث ہزاروں لوگ مسلمان ہوئے جن میں سندھ کے راجہ داہر کا بیٹا جے سنگھ بھی شامل تھا۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *