موت پر ملال

موت پر ملال ”

تحریر۔۔ فیض اکرم بشیرالدین

 

دل شکستہ حال ہے زبان پے لرزہ طاری ہے ذہن ودماغ میں ایک عجیب سی ہلچل بپاہے سماج شخصیات کی آہٹوں کو ترس رہی ہیں گھرآنگن سنسان بکھری پڑیں ہیں مسجدکی جائےنمازوں پربیتابی نمایا دکھ رہی ہیں جیسے صدیوں سےکسی کے منتظرہوں،

ہائےاللہ “یہ کیا ہو گیا یہ کیسے لمحات ہیں کیسی گھڑی کا آمدورفت ہے یہ ہونہ ہو قیامت کی ضرور نشانی اور علامات ہیں یہ سانحہ یہ خطرات یہ مصائب ومشکلات یہ آفات وآلام سب ہم نادانوں کیلئے نشان عبرت ہے

دوستو! آئےدن روز بروز دنیامیں خصوصاً برصغیر میں اموات کی خبریں طوالت کیساتھ موصول ہورہی ہیں اور اس فہرست میں ایسےایسے شخصیات کےنام درج ہیں کہ جسےپڑھنےسننے کےبعد دل سینوں میں ہچکولے کھانے لگتےہیں ایک اچھا خاصہ تندرست انسان بھی خبر سن کر یہ سوچنےپر مجبور ہوجاتاہے کہ اب ہماری زندگی کی بھی ٹکٹ کٹنےہی والی ہوگی اپنی سنہری زندگی سے اپنے نفس کو انحراف کرلیتاہے نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دوچار قدم چلنے کے بعد بےچارے ابدی نیند کو سوجاتےہیں،

ایسےہی چند کبار علماء وشخصیات کانام سرفہرست آتاہے جواب تک بیتے چندایام میں دار بقا کوچل بسے

قابل ذکر بات یہ کہ! آج ہی صبح تقریبا 10بج کر کچھ منٹ میں رفیق خاص محترم مطیع الرحمان کا نیپال بھٹھین سے /کال آیا اور میرے فون کی گھنٹی بجنےلگی جیسےہی میں نے کال رسیب کیا فورًا موصوف دوست نےسلام عرض کیا میں نے جواب بھی دیا اور خیریت دریافت کرنےکےبعد موصوف نے ایک عجیب دکھرا اور تکلیف دہ بات بیان کرنے لگے اور انہوں نے بتایاکہ آج ہی فجرکےوقت شیخ عبدالستار مدنی صاحب بھٹھین کے والد محترم اس دنیاسے کوچ کرگئے انا للہ و انا الیہ راجعون “جس سے آج نیپال کی زرخیزمٹی سے لبریز سبزوشادابی اور لہلہاتے نہر ونالے والی بستی ماتم کےماحول میں اپنی ادھوری سانس لے رہی ہیں ۔۔اللہ خیرکرے

دوستو! ہمیں یہ بات خوب معلوم ہوجانی چاہئے کہ بھارت دیش میں حکومت کیطرف سے سونپی گئ کالےقانون اور اس لاک ڈاؤن کے درمیان کا سانحہ شمارے سے باہرہے چونکہ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ شاہین باغ میں اپنی مستقبل کی بہتری کےخاطرلڑتی ماؤں کی گود سے دودھ پیتابچہ جداہوگیاتو کہیں کسی کانوجوان بیٹا اس دارفانی سے چل بساتو کہیں سینکڑوں عورتیں بیوہ ہوگئیں تو کہیں ڈاکٹرلقمان السلفی “جیسی عظیم المرتبت مایہ ناز شخصیت مدارس وجامعات کو ویران چھوڑکر ہمارے بیچ سے رخصت ہوگئے،

یہ سب ہمارے ہاتھوں کی کاشت ہے جوہم بوتےہیں اسی کا کاشت بھی کرتےہیں “دوستو! یقین جانیں ملک سے بڑی بڑی ہستیوں کی موت ہوجانا ہمیں ضرور کسی بات پر متنبہ کررہی ہیں اور خواب خرگوش میں لت پت مردہ ضمیر انسانوں کوبیدار کراناچاہتی ہیں اور راہ حق کیطرف گامزن بھی ”

توکیاہمیں اب بھی ہوشمند نہیں ہو جانا چاہئے کہ کل جوہمارے ساتھ ہنستے مسکراتے کھیلتے اور کھاتےتھے غرض یہ کہ معاشرے کی پیچیدہ مسائل کاسدباب اور اسکا حل بھی ایک ساتھ بیٹھ کر کرتے تھے،

افسوس”توتب ہوتاہے جب ایک چلتاپھرتا جنہیں کسی طرح کا کوئی مرض بھی لاحق نہ ہو “جب مالک کی طرف سے بلاواآجاتاہے تولبیک کہہ بیٹھتےہیں اور کئ ایسے افراد تھے جنکی موت اسی طرح سے ہوئ اور گردوپیش کےلوگوں کو ایسالگا کہ جیسےبجلی کی تاڑ ذہن وقلب سےہوکر گزری ہو

 

خیر۔۔اللہ سب کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلی ترین جگہ نصیب فرمائے اللہ جملہ مرحومین کوغریق رحمت کرے قبرکو نورنکہت سےبھردے آمین یارب

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *