ہم جنس پرستی اور مسلم معاشرہ

ہم جنس پرستی اور مسلم معاشرہ

 

تحریر : حسان عبد الغفار

 

ہم جنس پرستی (یعنی ایک ہی جنس کے دو لوگوں کا آپس میں جنسی تعلقات قائم کرنا) ایک نہایت ہی قبیح، شنیع ناشائستہ اور بہیمانہ فعل ہے جو اپنی کراہت، قباحت، شناعت، اور برائی میں اس قدر غلاظت لئے ہوئے ہے کہ ذوق سلیم اور صالح طبیعت اس کے نام ہی سے کراہت محسوس کرتی ہیں۔

لیکن افسوس کہ بد قسمتی سے اس فعل بد نے مسلم معاشرے کو بھی اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اسے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت قانونی تحفظ اور درجہ بھی مل گیا۔قطع نظر دین و مذہب کے، انسانیت اور فطرت سلیمہ بھی عزت و ناموس اور اخلاق و اقدار کی پاسبان اور معین ہوا کرتی ہے۔

اسلام چونکہ عین انسانی فطرت کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ مکارم اخلاق اور پاکیزہ کردار کی تعلیم دیتا ہے اور فرد وافراد کی جسمانی، روحانی، قلبی اور فکری تمام تر گندگیوں اور خباثتوں کا تزکیہ اور تطہیر کر کے ایک صالح معاشرہ تشکیل دیتا ہے اور اپنے متبعین کو باحیا رہنے اور عزت و ناموس کی حفاظت کا تاکیدی حکم دینے کے ساتھ ایسی چیزوں سے سختی سے روکتا ہے جو لوگوں کے لئے مضر اور ان کی فطرت کے لئے لا مناسب ہوں۔

لواطت اور ہم جنس پرستی کا ارتکاب روئے زمین پر سب سے پہلے لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا۔

اس قوم نے جنسی خواہشات کی تکمیل کے لئے حلال اور مباح عورتوں کو چھوڑ کر اپنے ہی جنس کے نو عمر و نوخیز اور بے ریش لڑکوں کا انتخاب کر لیا تھا اور انھیں کے ساتھ اپنی جنسی خواہشات پوری کرنے لگی تھی ۔

اللہ کے نبی حضرت لوط علیہ السلام نے انھیں اس فحاشی اور قبیح فعل سے روکا، لیکن اس بے حیا، بد فطرت، بے ضمیر اور عقل کی اندھی قوم نے اللہ کے برگزیده نبی کی ایک نہ سنی بلکہ بدستور اور جرم میں ملوث رہی، آخر کار قہار وجبار رب ذوالجلال کی قہر نے اس سرکش اور فحش کی معتاد قوم کو اپنے دامن عذاب میں لے لیا اور پانچ قسم کے سخت ترین عذاب کا ذائقہ چکھا کر آن واحد میں صفحہ ہستی سے ان کا نام ونشان مٹا دیا اور رہتی دنیا تک لوگوں کے سامان عبرت بنا دیا تاکہ رہتی دنیا بھر کے تمام اہل وخرد اس سے نصیحت حاصل کریں، اپنے آپ کو خواہشات نفس اور غیر فطری عمل سے بچائیں، اللہ کے حرام کردہ باتوں سے پرہیز کریں اور اپنے اندر محسوس کریں کہ کہیں ان کی مشابہت لوط علیہ السلام کے بدکردار قوم سے نہ ہوجائے ۔

 

*قارئیں کرام* بعض نفسیاتی مریض اور نفس کے بچاری جو اس قسم کی آلودگیوں میں مبتلا ہیں، یہ راگ الاپنے نظر آتے ہیں کہ کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے اور جنسی آگ کو سرد کرنے کا نسخہ کیمیا بھی ۔مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر مرد اسی طرح ہم جنس پرست اور عورتیں اس شوق اور زلف گیر کی اسیر ہوتی رہیں تو دین ومذہب تو دور کی بات انسانیت کا کیا ہوگا؟ نتیجتا لوگ بے حیا اور بے غیرت ہوجائیں گے، ذہنوں میں سکون کی جگہ تناؤ اور دلوں میں ایمان کی جگہ خباث اور گند لے لے گی۔

ستم ظریفی صرف یہی نہیں کہ تنظیم آئی ایل جی اےInternational Lesbian. Gay. Bisexual. Trans and Inter-sex Association جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں بسنے والے ہم جنس پرستوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے 110 ممالک میں متحرک ہے جس میں ترکی سمیت کئی مسلم ممالک بھی شامل ہیں بلکہ ڈوب مرنے کا مقام تو یہ ہے کی اس بلا اور مصیبت سے ہمارا مسلم معاشرہ بھی محفوظ نہیں رہا اور بے شعور سے لیکر باشعور تک کئی لوگ اس خوشنما مہلک مرض عظیم کے گرویدہ ہوتے جا رہے ہیں اور ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس اقدام عمل میں آرہا ہے ۔

 

*قارئین کرام* انسان فطری(natural) اور طبعی(physical) طور پر اپنے صنف مخالف کی طرف مائل ہوتا ہے جس کے بنیادی مقاصد میں سے ایک خاندان کی تشکیل بھی ہے اسی لئے مرد و عورت کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی ترکیب مقاصد زوجیت کے عین مطابق بنائی گئی ہے، تاکہ فطرت کا منشاء پورا ہو۔

لھذا جو لوگ اس فطرت اور منشا کے برخلاف ہوتے ہیں وہ نہ صرف فطرت سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں، بلکہ انحراف کے سبب دینی، اخلاقی مفاسد کے ساتھ متعدد جسمانی اور نفسیاتی مصائب کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔

بر سبیل تذکرہ چند نقصانات کا ذکر فوائد سے خالی نہیں ہوگا

 

*دینی نقصان* یہ بد ترین فعل سخت ترین کبیرہ گناہ اور ناقص الایمان ہونے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات شرک باللہ اور تعلق لغیر اللہ کا سبب بھی بن جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قہر اور غضب بھی حلال ہوجاتا ہے۔

 

*اخلاقی نقصان* اخلاقی نقصان تو بے شمار ہیں مثلا: شرم و حیاء کا جنازہ اٹھ جاتا ہے

قلوب سخت ہو جاتے ہیں

مروءت و رجولت کے فقدان کے ساتھ عزت، کرامت اور شجاعت وبہادری کافور ہو جاتی ہے،

برائی کی خواہش ہمیشہ انگڑائی لینے لگتی ہے اور فعل بد کے ارتکاب پر انسان جری ہوتا ہے، اس کے ارادے کمزور اور اس کی شخصیت مجروح ہوجاتی ہے، نیز معاشرے کی نظروں میں گرنے کے ساتھ خود کی نظروں میں گر جاتا ہے۔

 

*جسمانی بیماری* اس بھیانک فعل سے جو عظیم بیماریاں جنم لیتی ہیں ان کی ایک لمبی فہرست ہے

 

(1) *ایچ آئی وی* (Human Immonu decency virus) یعنی ایسا وائرس جو انسان کے دفاعی نظام کو تباہ کر دے اور وہ امراض کے خلاف دفاع نہ کر سکے۔

(2) *ایڈز* ( A cquired Immunodefency Syndrome) یعنی ایسا مرض جس میں انسان کا دفاعی نظام امراض کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو دے۔

ایڈز کے پھیلنے میں جہاں دیگر عوامل از قسم تبادلہ خون، متاثرہ سوئی کا استعمال وغیرہ کارفرما ہوتے ہیں، وہیں ناجائز جنسی تعلقات انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ جنسی تعلقات عموما تین قسم کے ہوتے ہیں

زنا- دخول مقعد یعنی ہم جنس پرستی اور اورل سیکس جسے اصطلاح میں” Rimming) ” کہتے ہیں ۔

یاد رہے کہ امریکہ میں ہر تین ہم جنس پرستوں میں سے دو ایڈز کا شکار ہیں لھذا جو شخص بھی فطری اور مذھبی طریقوں سے ہٹ کر جنسی تعلق استوار کرتا ہے اسے ایڈز کا بے رحم پنجہ جکڑ لیتا ہے اور اس کے لئے سوائے موت کے کوئی اور راستہ نہیں رہتا۔

(3) *کلامیڈیا* ( Chlamydia) .امریکہ میں ہر سال تقریبا 4 ملین مرد و زن اس موذی مرض شکار ہوتے ہیں اس کا باعث جراثیم ہوتے ہیں جو کہ متاثرہ مرد یا عورت کے ساتھ ناجائز جنسی یا ہم جنسی تعلقات یا اورل سیکس کی وجہ سے کسی شخص کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔

(4) *اعضائے مخصوصہ کے پھوڑے* (Genital Warts). امریکہ کے بعض شہروں میں جنسی جنسی تعلقات قائم کرنے والے نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کا پچاس فیصد اس مرض کا شکار ہوتا ہے نیز یہ مرض کئی تکالیف کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتا ہے ۔

 

(5) ) *ہیپا ٹیٹس بی* ( Hepatitis-B). یہ خبیث مرض عضو مخصوص کے مقعد یا منہ وغیرہ میں دخول سے لاحق ہوتا ہے۔امریکہ میں ہر سال تقریبا تین لاکھ افراد اس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔

 

(6) *شنکرائیڈ* (Chankroid)۔ یہ نہایت ہی خطرناک بیماری ہے یہ لگاتار جسم کے اندر بڑھتے رہتا ہے اور اعضائے توالد کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

 

(7) *ایل جی وی* ( Lymphro Granuloma Anguil). اس مرض کی وجہ سے عضو مخصوص پر چھالے پیدا ہوتے ہیں اور چند دنوں کے بعد رانوں کے جوڑ کے پاس انڈے کے برابر پھوڑا ظاہر ہوتا ہے اور یہیں سے مریض کی تکالیف کا آغاز ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ آتشک اور سوزاک بھی ہے جس کے خطرناک نتائج عموما لوگوں کو معلوم ہیں اور انھیں کو بھیانک پوشیدہ امراض (Veneral Diseases) قرار دیا جاتا ہے ۔مزید بیماریوں کی تفصیل جاننے کے لئے ” جنسی تعلقات اسلام اور جدید سائنس کی روشنی ” نامی کتاب کی طرف رجوع کر سکتے ہیں ۔

یاد رہے کہ ہم جنس پرستوں کے اندر جنس کے احساسات بھی ختم ہوجاتے ہیں اور ایک مدت کے بعد وہ اس قدر ضعفِ جنسی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ پھر فطری و طبعی ملاپ کے قابل نہیں رہتے، ایسے افراد قوّت ارادی کھو بیٹھتے ہیں، ان کے چہرے کی رونق کافور ہو جاتی ہے اور اعضائے جسم کمزور پڑ جاتے ہیں اور ساری زندگی سرگردانی اور پریشانی میں گزارتے ہیں۔

سچ فرمایا تھا صادق المصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ :لم تظهَرِ الفاحشةُ في قومٍ قطُّ حتَّى يُعلِنوا بها إلَّا فشا فيهم الطَّاعون والأوجاعُ الَّتي لم تكُنْ مضت في أسلافِهم الَّذين مضَوْا”( ابن ماجه 4019 حسن)

’’جب کسی قوم میں فحاشی اورعریانی ظاہرہوجائے اوراس کو علانیہ کرنے لگے تو ان میں طاعون کی بیماری پھیل جائے گی اورایسی ایسی بیماریاں پیدا ہوں گی جو ان کے آباء واجداد میں نہیں تھیں”.

 

*اسباب وعلل*

ہم ان اسباب کو دینی اور دنیوی دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

(1) *دینی اسباب* دینی اسباب میں سب سے اہم ایمان کی کمزوری اور صلوات خمسہ کی عدم ادائیگی ہے اور جہالت وکم علمی اس پر مستزاد ہے نیز تربیت کا بھی کافی گہرا اثر رہتا ہے۔

(2) *دنیوی اسباب* دنیوی اسباب کی فہرست کافی طویل ہے جن میں سے چند کا تذکرہ ازحد ضروری ہے۔

 

(1) *گندی اور فحش فلمیں* فحش ،ننگی اور گندی فلمیں ہمارے نو عمروں کو آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں خواہ انٹرنیٹ سے یا گاؤں،شہر اور قصبوں میں موجود دوکانوں سے۔

نیز جن ملکوں میں ہم جنس پرستی کی اجازت ہے ان میں سے کچھ ممالک میں اس موضوع پر فلمیں بھی بن رہی ہیں جیسے ھندوستان میں “مامی” ” دوستانہ ون” اور دوستانہ ٹو” نامی فلمیں کافی اہم ہیں۔اسی طرح ترکی میں فلم Zenne میں ہم جنس پرستی سے متعلق ایک حقیقی واقعے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ 2008میں پیش آیا تھا ۔

ظاہر کہ جب بچہ میڈیا پر یہ سب دیکھے گا تو وہی کرنے کی بھی کوشش کرے گا جیسے بچے کرکٹ دیکھ کر کرکٹر بننے کی ضد کرتے ہیں ۔فلمیں دیکھ کر خود کو ہیرو ہیروئین سمجھنے لگتے ہیں۔

 

یہی عمر تو عادتیں بناتی اور بگاڑتی ہے، اس عمر میں بھٹکنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور بچپن میں ہم جنس کے ساتھ کسی عمل میں انھیں لذت آجائے تو پھر وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔

(2) *فحش لیٹیچر* جسے پڑھ کر جنسی ہیجان مشتعل ہوتا ہے اور لوگ اس قبیح فعل سے اس آگ کو سرد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اب تو بھارت میں مرد ہم جنس پرست جریدے ”تفریح“ کی اشاعت شروع ہو چکی ہے ۔یہ میگزین جب مارکیٹ میں آتا ہے تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے۔ اس میگزین کی اشاعت جولائی2011 میں شروع کی گئی تھی۔ جس میں نوجوانوں اور جنسی مسائل سے متعلقہ مضامین کے ساتھ ساتھ انڈرویئر پہنے ہوئے ماڈلز اور جدید کاروں کی تصاویر شائع کی گئیں تھیں۔

 

(3) *صحبت بد* غلط لوگوں سے یاری خصوصا اس مرض کے مریض سے دوستی سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ لا محالہ اپنے ساتھی کو اس لذت کا عادی بنا دے گا۔

 

(4) شادی شدہ حضرات کا بچوں کے سامنے پوشیدہ افعال وحرکات کو انجام دینا، کچی عمر کے بچوں کا ایک بستر پر سونا اس آلودگی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح فضول قسم کے مذاق جو ہم جنسوں کے بارے میں ہوتا ہے اور ایسی بے ہودہ محفلیں اس طرف کھینچ لے جانے کا سبب بنتی ہیں۔ قوم لوط کے سلسلے میں آتا ہے کہ

’’ان کی مجالس اور بیٹھکیں طرح طرح کے منکرات اور برے اعمال سے آلودہ تھیں، وہ آپس میں رکیک جملوں ، فحش کلامی اور پھبتیوں کا تبادلہ کرتے تھے، ایک دوسرے کی پشت پر مکّے مارتے، قمار بازی کرتے، بچوں والے کھیل کھیلتے تھے، گزرنے والوں کو کنکریاں مارتے تھے اور لوگوں کے سامنے برہنہ ہوجاتے ۔

اس قسم کے گندے ماحول میں ہر روز انحراف اور بدی کی شکل میں رونما ہوتا ہے، ایسے ماحول میں اصولی طور پر برائی کاخوف ختم ہوجاتا ہے اور لوگ اس طرح اس راہ پر چلتے ہیں کہ کوئی کام ان کی نظر میں برا اور قبیح نہیں رہتا۔

 

*علاج و معالجہ*

اسباب کی طرح علاج کو بھی ہم دینی و دنیوی دوحصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں

(1) *دینی و روحانی علاج*

نماز کی پابندی انسان کو اس شنیع فعل سے بچا سکتی ہے کیونکہ اس کے اس قدر تاثیر ہے جو اس سم قاتل کے لئے تریاق سے بھی بڑھ کر ہے اللہ فرماتا ہے :إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (سورۃ عنکبوت 45)

نفلی روزہ بھی جنسی خواہشات اور بہیمانہ رگوں کو کچل کر نفس انسانی کا تزکیہ اور تطہیر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ومن لم يستطعْ فعليه بالصومِ . فإنه له وجاءٌ .(مسلم 1400)

“جو شادی کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کا توڑ ہے”؛

اسی طرح قرآن مقدس کی بغور تلاوت ،عواقب اور انجام میں غور فکر، نفس کا محاسبہ، قبروں کی زیارت، موت اور مابعد کی زندگی کی یاد اور نیک لوگوں کی مصاحبت بھی کافی حد تک معین اور مددگار ثابت ہو سکتی ہیں ۔

 

(2) *دنیوی علاج* سب سے پہلے ماہر ڈاکٹر سے اپنا علاج کرائیں۔

بےحیا اور بےغیرت دوستوں اور خبیث محفلوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔

گندی فلموں بلکہ موبائل ہی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ سونے سے احتراز کریں ۔

وساوس اور غلط خیالات سے بچنے کی کوشش کریں ۔

 

اسی طرح اگر کسی شخص کو یہ علم ہو جائے کہ اس کا کوئی عزیز، قریبی یا کوئی اور شخص اس فعل بد کا گرویدہ ہو گیا ہے یا اس میں غلط حد تک دلچسپی رکھنے لگا ہے تو پھر حکمت اور دانائی کے ساتھ اس کا علاج کرنے کی سعی کرے۔اس کے لئے وہ درج ذیل اقدامات اختیار کر سکتا ہے۔

 

متاثر شخص کو ایمان اور تقوی کی تلقین کرے اور محبت کا صحیح مفہوم اجاگر کرتے ہوئے یہ بھی بتلائے کی محبوب سے محبت کا معیار اللہ کی رضا ہو نہ کی اس کی صورت مورت۔

فریق ثانی کو رابطہ اور ملاقات سے منع کرے۔

متاثر اگر عالم ہے تو اسے علمی اور دعوتی امور میں مشغول کردے۔

متاثر اور غیر متاثر دونوں کو بری صحبت اور یاری سے حتی الامکان گریز کرنے کی تلقین کرے کیونکہ اس فعل کے عادی شخص کو اس قدر شعور نہیں ہوتا کہ کون اس کے حق میں بہتر ہے اور کون بدتر، نیز اگر شعور ہو تب بھی شہوت کے نشے میں اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

اگر ممکن ہوسکے تو اسے موبائل اور فلم بینی کے دوسرے اسباب سے دور رکھے۔

 

اسی طرح اگر کسی کو یہ محسوس ہو کہ وہ خود کسی پر فریفتہ ہو رہا ہے تو معاملہ بگڑنے سے پہلے وہ اپنے آپ کو سنبھال لے۔ اس کے لئے وہ درج ذیل اقدام کو اختیار کر سکتا ہے ۔

اس سے اپنے تعلقات یکسر ختم کر دے۔

اس کی تصویر دیکھے نہ ہی اس کی آواز سنے، نیز اس ملاقات کرنے کی کوشش بھی نہ کرے خواہ وہ اس کا عزیز اور قریبی ہی کیوں نہ ہو۔

سلف صالحین کی زندگیوں کا مطالعہ کرے پھر اپنے اور ان کے درمیان موازنہ کرے کہ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے لئے اپنی جان قربان کردی اور ایک میں ہوں جو اپنے محبوب کا دلدادہ بن گیا ہوں اس کی باتیں پڑھنے اور سننے کا گرویدہ اور اس سے اپنی خواہشات کی تکمیل کا وسیلہ سمجھ رہا ہوں ۔

ساتھ ہی ان مصیبتوں اور آفتوں کو بھی سامنے رکھے جو اس قبیح فعل کے نتیجے میں آدبوچتی ہیں ۔

مثلا اس کا رشتہ خالق سے کٹ کر مخلوق سے جڑ جاتا ہے خواہ مخواہ کی پریشانی، دکھ ،غم مصیبت لگ جاتی ہے اور آخرت کا سخت ترین عذاب اس پر مستزاد ہوتا ہے ۔

*اہل علم اور فضل کی ذمے داری*

چونکہ یہ فعل نہایت تیزی کے ساتھ مسلم معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے لھذا ضروری ہے کہ اہل علم اپنے دروس اور خطبات میں اسے موضوع بحث بنائیں کیونکہ جو کام تقریر اور دروس سے ہو سکتا ہے وہ تحریر سے شاید نہ ہوسکے کیوں ایک بڑے طبقے کی اس تک رسائی نہیں ہو پاتی ہے ۔

نیز وہ لوگ انسان کی شکل میں جانور ہیں جو اپنی خبائث طبعی وگندہ ذہنی کے سبب عذاب الٰہی کو دعوت دیتے ہیں اگر ایسے ہوا وہوس پرست اور انسانی خواہشات میں مبتلا لوگوں کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا تو وہ وقت دور نہیں کہ ہمارے معاشرے سے بھی یورپ وامریکہ کی طرح شرم وحیا اور اچھے برے کی تمیز مٹ جائے اور اللہ نہ کرے فطرت کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے کیونکہ اس فعل بد کی وجہ سے وہ تباہی وبربادی جو صدیوں میں آنے والی ہوتی ہے بہت جلد آجاتی ہے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *