خدایا یہ کیا ہو رہا ہے؟

خدایا یہ کیا ہو رہا ہے؟

محمد فاروق حیدر علی

مورول کے ایک عظیم شخصیت جس نے اپنی پوری زندگی خدمت خلق میں گزار دی جس نے اللہ رب العالمین کی عطاء کردہ مال و دولت کو اس کے رضا کے لیے خرچ کیا اور بقول استاد محترم فضیلة الشيخ صدر عالم السلفی کہ “جب مدرسة العلوم الإسلامية مورول کو کچھ زمین خرید نے کی خواہش ہوئی تو اس کے اراکین حضرات نے جب ان سے رابطہ قائم کی تو انہوں نے بلا جھجک دو لاکھ روپیہ دی جس کی وجہ مدرسة العلوم الإسلامية اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کی”

اس کرہ ارضی پر اللہ رب العالمین نے جب انسانیت کی تخلیق فرمائی تو اس کے آرام و راحت، چین و سکون اور فرحت و سرور کے لیے ہر وہ چیز پیدا کیا جس کی انہیں سخت ضرورت تھی تو اللہ رب العزت نے ایک قانون نافذ کیا اور انہیں یہ حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا “ياايها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم ،سورة البقرة، 172″ اے ایمان والو تم ہماری حلال کردہ پاکیزہ رزق (چیز) کو کھاو ” اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ ” طیبات ” کیوں استعمال کیا آخر وجوہات کیا ہیں؟ تو جب ہم یہ آیت اور کتاب و سنت کی دیگر آیات و احادیث اور انسانی ساخت پر غور کرتے ہیں تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ انسانی جسم ایک مشین ہے جس کی تحفظ کے لئے صرف اس غذا کا استعمال کرنا کار آمد ثابت ہوتا ہے جس کو اللہ رب العالمین نے لفظ “طیبات” سے تعبیر کیا ہے لیکن افسوس کہ کرہ ارضی پر بسنے والا انسان اللہ رب العزت کے نافذ کردہ قانون کی مخالفت کی ان سے اعراض کیا جس کی پاداش میں باری تعالیٰ نے ہمیں اور پوری انسانیت کو کرونا وائرس جیسے بھیانک وبا سے دوچار کیا جس کی لپیٹ میں لاکھوں افراد آگئے اور اس دنیا فانی کو ہمیشہ ہمیش کے لیے الوداع کہہ دیا ان ہی میں سے علم و ادب کے مشہور و معروف بستی مورول کے ایک عظیم شخصیت جس نے اپنی پوری زندگی خدمت خلق میں گزار دی جس نے اللہ رب العالمین کی عطاء کردہ مال و دولت کو اس کے رضا کے لیے خرچ کیا اور بقول استاد محترم فضیلة الشيخ صدر عالم السلفی کہ “جب مدرسة العلوم الإسلامية مورول کو کچھ زمین خرید نے کی خواہش ہوئی تو اس کے اراکین حضرات نے جب ان سے رابطہ قائم کی تو انہوں نے بلا جھجک دو لاکھ روپیہ دی جس کی وجہ مدرسة العلوم الإسلامية اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کی” تو وہ

عظیم شخصیت نوشاد رحمۃ اللہ کی ہے جس کی وفات نے پوری بستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جن کی نماز جنازہ 20/6/2020 کو ممبئی میں ظہر کے بعد عصر سے کچھ قبل اداکی گئی میں اور پوری بستی کے لوگوں نے استاد محترم فضيلة الشيخ صدر عالم السلفی حفظہ اللہ کی امامت میں بعد نماز مغرب غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔

ابھی ہم لوگ ایک غم سے نکلے بھی نہ تھے کہ دوسرا غم سایہ فگن ہو گیا جب ہم لوگ عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے نکلے تو میں نے دیکھا کہ دالان میں لوگوں کی ایک جم غفیر موجود ہے ہر اطراف سے عورت و مرد کی آوازیں آرہی ہیں جب میں قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ سلطانہ (سلطانہ محمد فضل الرحمن) آپی کی وفات ان کے سسرال بریار پور میں ہو گئی ہے یہ سننا ہی تھا کہ نگاہیں بھر آئی اور زباں سے یہ بے تحاشا نکل گیا “خدایا یہ کیا ہو رہا ہے” ابھی تو ایک غم سے نکلا بھی نہ تھا کہ دوسرا غم سایہ فگن ہو گیا لوگوں کے کہنے کے مطابق ان کے سسرال والے ان پر بہت زیادہ ظلم و زیادتی کرتے تھے ان کے بھائی آزاد صاحب نے ہم لوگوں کو بتایا کہ مغرب سے کچھ قبل ہی میں نے سلطانہ آپی سے بات کی تھی تو وہ بالکل ٹھیک تھیں اور ابھی ان کے موت کی خبر آرہی ہے

 

جب سے ہندوستان میں لاک ڈاؤن سایہ فگن ہوا اس وقت سے آج تک علم ادب کی بستی مورول کو بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا رمضان المبارک کے آخری عشرے میں روشنی محمد حیدر علی اپنی ذہنی توازن کھو دی، رمضان ختم ہونے کے بعد اسلم صاحب کس ایکسیڈنٹ ہو گئے، مرغوب صاحب فالج (paralysis) کے بیماری میں مبتلا ہو گئے جو ان دنوں سیتامڑھی میں زیر علاج ہیں اور شہاب الدین صاحب جو مہینوں سے بیمار ہیں وہ دہلی میں زیر علاج تھے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا آخر کار ان کے لڑکوں نے انہیں گھر واپس لے آئے۔

اخیر میں اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ اے باری تعالیٰ جن لوگوں کی وفات ہو گئی ہے ان کی مغفرت فرما ان کے خطاؤں کو معاف کرے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما اور جو لوگ بیمار ہیں انہیں تو صحت کاملہ عاجلہ عطا فرما. آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *