مجھے دریا سے شکایت نہیں طغیانی کی

مجھے دریا سے شکایت نہیں طغیانی کی

قسط دوم

 

ذکاء اللہ عبید اللہ

آج میڈیا چینلوں کی جانب سے اسلام اور مسلمان کے خلاف جس قدر ہرزہ سرائی کے تعفن انگیز مناظر دیکھنے اور کرخت صفت کلام سننے میں دن بدن آ رہے ہیں کسی مسلمان کے لیے زہر ہلاہل سے کم نہیں، ملکی میڈیا ہو یا عالمی پر عزم منصوبے کے ساتھ جب موقع ملا تو اسلام جیسے پر امن ، بے داغ صفت مذہب کے خوش نما ،دل کش اور خوب رو چہرے پر تارکول ملنے کی گھٹیا سازش کرتا رہا ،اس کی تلبیس کاری میں روز افزوں ترقی ہوتی نظر آ رہی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے اس ترقی یافتہ زمانہ میں جو کہ خواندگی اور ذہنی اپج کا دور ہے کوئی ایسا سورما نہیں جو ایسے دریدہ ذہن لوگوں کے ملغوبے کو اپنی دانائی سے فرو کرنے میں کامیاب ہو(آنکھیں دید کو ترستی ہیں) بسا اوقات بعض اسلامی اسکالرز کو تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ٹی وی چینلوں پر مدعو کیا جاتا ہے پر افسوس کسی قدر تشفی بخش جواب مخالف کو نہیں دے پاتے یہ مہمان برائے نام اسلامی اسکالرز ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیم میں حقیقت میں صفر ہوتے ہیں حال ہی میں میں ٹی وی پر ایک دبیٹ دیکھ اور سن رہا تھا جس میں چھ میں پانچ مسلم اور ان میں بھی تین علما تھے مگر افسوس ان کا جاہلانہ رویہ خاکم بدہن کسی کو اسلام کے تئیں بد ظن کرنے والا تھا ایک صاحب اس چینل سے جسے ہزاروں لوگ دیکھتے رہے ہوں گے تبلیغی جماعت کو کافر قرار دے دیا اور آپس میں ایسی بے ہودہ گوئی شروع کی کہ مسلم طبقہ کا سر شرم سے جھک جائے ۔

لمحہ فکریہ کہ ہم مسلمانوں نے (کیوں کہ اغیار اہل حدیث، بریلوی،شیعہ ،دیوبندی اور تبلیغی میں تفریق نہیں کرتے بلکہ ان کی نگاہ میں سب مسلمان ہیں)خود اسلام کے روح افزا چہرے کو مسخ کیا اور اپنا تمسخر اڑایا۔

سکہ افسوس کا دوسرا پہلو یہ ہے ملک ہندوستان میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ تعلیم یافتہ ہے جس میں الحمد للہ علما، پروفیسرز ،اسکالرز،ڈاکٹر، کثیر التصانیف اور سیاست ،سماجیات اور عصر حاضر پر دست کمال رکھتے ہیں بسا اوقات ان کا مشاہدہ سوشل میڈیا پر ہوتا رہتا ہے لیکن افسوس یہ شخصیتیں اس محاذ سے بے توجہ اور لاپرواہ نظر آ رہی ہیں ممکن ہے کہ کوئی عمل قدغن ہو مگر درد ملت ہونے کی ضرورت ،ملت کی بقا اور تحفظ کا خیال ہونا چاہیے قوموں کے زوال کا ایک اہم سبب انارکی اور انا پرستی ہے خصوصا علما(خاص کر علمائے اہل حدیث ) طبقہ کو پیش قدمی کی ضرورت ہے ممکن ہے کل ہمارے عقائد پر حملہ ہو (جیسا بعض فروعی مسائل میں دیکھنے کو ملتا ہے جس کا ذکر آگے آئے گا ان شاء اللہ ) اور ہم معجزے کے منتظر ہوں۔

 

چمن میں تلخ نوائی مری قبول کر

کہ زہر کرتا ہے کار تریاقی

 

 

 

جاری

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *