کیا رسول اللہ ﷺ با حیات ہیں؟

کیا رسول اللہﷺ باحیات ہیں؟؟

 

از قلم: محمد ساجد کانپوری

 

اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ سارے انبیاء کرام علیہم السلام انسان تھے۔ اس لئے ان پر وہ تمام بشری عوارض طاری ہوئے جو عام انسانوں پر طاری ہوتے ہیں انہیں عوارض میں سے موت کا عارضہ بھی ہے جس سے تمام انبیاء و رسل دو چار ہوئے۔ قرآن و حدیث اور تاریخ و سیرت کی کتابوں میں انبیاء و رسل کی موت اور ان کے قتل کئے جانے کے واقعات ملتے ہیں، تمام انبیاء کرام بشمول جناب محمد رسول اللہﷺ کی موت کے بارے میں ایک جامع آیت ملاحظہ فرمائیں:

 

*وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ  ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ ۞*

ترجمہ:اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو صرف (اللہ کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت پیغمبر گزرے ہیں بھلا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ (یعنی مرتد ہوجاؤ گے) اور جو الٹے پاؤں پھرجائے گا تو اللہ کا کچھ نقصان نہیں کرسکے گا اور اللہ شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا۔ (١)

 

مشہور روشن خیال دیوبندی مفسر قرآن (مولانا عبدالماجد دریابادی) اس کے سوالیہ انداز اور شان نزول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“مطلب سوال کا یہ ہے کہ جب دین کی حقیقت تمہاری نظر میں ثابت ہو چکی تو اب قاصد یا پیغمبر کی زیست یا وفات کا اس حقیقت و صداقت پر کیا اثر؟؟

غزوہ احد میں جب حضور ﷺ کو زخم پہونچا اور کسی شیطان نے افواہ اڑا دی کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ تو بعض صحابہ کرام نے اس انتہائی صدمہ انگریز خبر سے بددل اور شکستہ خاطر ہو کر میدان جنگ چھوڑنا شروع کر دیا اور منافقین کی وقتی طور پر بن آئی تھی۔ انہوں نے برابر طنز کرنا اور ارتداد کی ترغیب دینا شروع کر دی تھی، آیت میں ان سب پہلوؤں کی جانب اشارہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات میں ابھی کئی سال کی مدت باقی تھی۔ لیکن امت کو ابھی سے اس کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔” (٢)

 

اسی طرح سورہ زمر میں ہے جو کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی۔

اس کے نزول کے حالات یہ تھے کہ کفار و مشرکین رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔ اور آخرت سے غافل ہو کر بڑی سرکشی کی زندگی گزار رہے تھے، اس سورہ میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ آخر ایک وقت ایسا آئے گا کہ نبی آپ بھی فوت ہو جائیں گے اور یہ لوگ بھی.. پھر قیامت کے روز معاملہ اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا.

یہ رہی وہ آیت کریمہ:

 

*اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ ۞*

ترجمہ:(اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بھی مر جائیں گے اور یہ بھی مرجائیں گے (٣)

 

یہ آیات رسول اللہ ﷺ اور تمام انبیاء کرام کی موت پر دلالت کرتی ہیں اس سلسلے میں آغاز عہد صدیقی کا ایک اہم سبق آموز واقعہ ملاحظہ فرمائیں:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کو موت لاحق ہوئی۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ مقام سنح میں تھے ادھر لوگوں کا حال یہ تھا کہ غموں سے نڈھال تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو اپنا صبر و ضبط اس درجہ کھو بیٹھے تھے اور بدحواس ہو گئے کہ انہوں نے خیال کیا کہ آپ ﷺ پر موت نہیں طاری ہوئی، انہوں نے یہ کہا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آپ کی وفات ہو گئ ہے میں اس کی گردن مار دوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے رسول اللہﷺ کو بوسہ دیا اور حمد و صلاۃ کے بعد بلیغ خطبہ دیا اور وفات رسول کے بارے میں مذکورہ قرآنی آیات تلاوت فرمائی اور بڑے مومنانہ عزم واستقلال سے کہا:

*ألا من کان یعبد محمداًﷺ فإن محمداًﷺ قد مات ومن کان یعبد ﷲ فإن ﷲ حی لا یموت۔*

ترجمہ: لوگو سنو! جو لوگ محمد ﷺ کی عبادت کرتے تھے تو یقیناً آپ ﷺ پر موت طاری ہو گئی اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ زندہ جاوید ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔ (٤)

 

مذکورہ بالا دلائل سے یہ صاف ثابت ہوتا ہے کہ انسان ہونے کے ناطے جس طرح تمام انبیاء و رسل پر موت طاری ہوئی اسی طرح ہمارے آخری نبی جناب محمد رسول اللہ ﷺ بھی اس دنیا فانی سے انتقال فرما چکے ہیں..

لیکن افسوس صد افسوس!

ہمارے بریلوی و دیوبندی حضرات کا اس مسئلے میں بھی قرآن و سنت کے بالکل برعکس ایک غیر اسلامی عقیدہ ہے، ان کا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح آپﷺ اپنی زیست میں باحیات تھے بالکل اسی طرح آج بھی زندہ ہیں اور لوگوں کی دعا و پکار سنتے ہیں..

 

در اصل ان کا ایسا عقیدہ اس وجہ سے کیونکہ ان کا یہ ماننا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور دوسرے انبیاء و اولیاء کائنات میں ملکیت و اختیار اور تصرف رکھتے ہیں اور لوگوں کی فریادرسی کرتے ہیں۔ اس عقیدہ کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انہیں زندہ اور پکار سنے والا مانا جائے،

چنانچہ احمد رضا بریلوی صاحب کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء و اولیاء پر موت طاری نہیں ہوتی، بلکہ انہیں زندہ ہی دفن کردیا جاتا ہے اور انکی قبر کی زندگی دنیا کی زندگی سے زیادہ قوی اور افضل ہوتی ہے۔

 

جیسا کہ جناب احمد رضا بریلوی انبیاء کرام کے متعلق لکھتے ہیں:

“انبیاء کرام علیہم الصَّلَاة والتسلیم کی حیات حقیقی، حسی دنیاوی ہے ان پر تصدیق وعدہ الٰہی کے لئے محض ایک آن کی آن کو موت طاری ہوتی ہے پھر ان کو ویسے ہی حیات عطا فرما دی جاتی ہے۔ اس حیات پر وہی احکام دنیویہ ہیں۔ ان کا ترکہ بانٹا نہ جائے گا۔ ان کی ازواج کا نکاح حرام، نیز مطہرات پر عدت نہیں۔ وہ اپنی قبور میں کھاتے پیتے، نماز پڑھتے ہیں۔” (٥)

 

*ایک لـغو اسـتدلال!!*

جناب احمد رضا بریلوی نے جو یہ استدلال کیا ہے کہ آپ ﷺ پر موت طاری نہ ہونے کی وجہ سے آپ کا ترکہ نہیں تقسیم کیا گیا اور آپ کی ازواج سے نکاح حرام ہے تو یہ استدلال نہایت لغو ہے۔ اس لیے کہ حضرت فاطمہ و عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے خلیفہ وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آپﷺ کے ترکہ سے میراث کا مطالبہ کیا تھا، اگر وہ دونوں جانتے کہ آپ کی وفات ہی نہیں ہوئی ہے تو میراث کا مطالبہ بھلا کیوں کرتے؟

بہرحال ان دونوں نے مطالبہ کیا اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ذکر کیا:

*”سمعت رسول ﷲﷺ یقول لا نورث ما ترکنا صدقة”*

ترجمہ: مینے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم انبیاء کے ترکے میں وراثت نہیں جاری ہوتی۔ ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے۔ (٦)

 

اور دوسری بات یہ کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات سے نکاح اس لئے حرام تھا کیونکہ وہ “امہات المؤمنین” کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اور اسی وجہ سے انہیں عدت گزارنے کی ضرورت نہ تھی۔

یہ بات تو بہت مشہور و مسلّم اور بدیہی ہے جس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں۔

 

اسی طرح ایک اور بریلوی مصنف رقمطراز ہوتے ہیں:

” انبیاء کرام اپنی قبر میں زندہ ہیں وہ چلتے پھرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور کلام کرتے ہیں اور کے معاملات میں تصرف فرماتے ہیں۔” (٧)

بریلوی حضرات کے عقیدے کے مطابق جب صحابہ کرام نے رسول اللہﷺ کو دفن کیا تو آپ زندہ تھے..

 

چنانچہ احمد رضا بریلوی صاحب لکھتے ہیں:

قبر شریف میں اتارتے وقت حضور ﷺ” امّتی، امّتی” فرما رہے تھے۔ (٨)

 

اور یونہی احمد رضا بریلوی کے ایک پیروکار جناب کاظمی لکھتے ہیں:

” جس وقت حضور ﷺ کی روح اقدس قبض ہو رہی تھی اس وقت بھی جسم میں حیات موجود تھی” (٩)

 

ایک دوسرے بریلوی جناب احمد یار گجراتی لکھتے ہیں:

“ہمارے علماء نے فرمایا کہ حضور ﷺ کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں، اپنی امت کو دیکھتے ہیں اور ان کے حالات و نیات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں۔ یہ آپ کو بالکل ظاہر ہیں اور ان میں کوئی پوشیدگی نہیں۔” (١٠)

 

 

رسول اللہﷺ اور دوسرے انبیاء کے بارے میں بریلوی علماء کا یہی عقیدہ ہے جو کہ ان کی تصنیفات و ملفوظات میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ عقلی و نقلی دلائل کے بالکل برخلاف اور غیر اسلامی فکر ہے..

 

اللہ رب العالمین ہمیں تمام باطل عقائد سے بچا کر دین حق پر باقی رکھے..

آمین یارب العالمین!!

 

 

 

حوالہ جات:

 

١-سورۃ نمبر ٣ آل عمران آیت نمبر ١٤٤

٢-تفسیر ماجد:ج١،ص٦٥١ (مطبوع لکھنؤ)

٣-سورۃ نمبر ٣٩ الزمر آیت نمبر ٣٠

٤-الجامع الصحیح للبخاری: ج١، باب مناقب أبي بکر، ص٥١٧ (مطبوعہ ہند)

٥-ملفوظات احمد رضا بریلوی:ج٣، ص٢٧٦

٦-الجامع الصحیح للبخاری : ج٢، کتاب الفرائض (مطبوع ہندیہ)

٧-حیات النبی الکاظمی: ص٣ (مطبوعہ ملتان)

٨-رسالہ “نفی النفی عمن اناربنورہ کل شیء” مشمولہ مجموعہ رسائل رضویہ: ص١٧

٩-حیات النبی للکاظمی: ص١٠٤

١٠-جاء الحق از احمد یار گجراتی : ص١٥

سیرت نبوی اور غیر اسلامی افکار: ص٢١-٢٧

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *