نیپالی زبان کی ترویج و اشاعت:وقت کی اہم ضرورت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نیپالی زبان کی ترویج و اشاعت :وقت کی اہم ضرورت

تحریر : عبداللہ ندوی

ہمارا وطن عزیز نیپال جغرافیائی اعتبار سے ایک چھوٹا سا ملک ہے، یہاں کے ہرے بھرے اور گھنے جنگلات، بلند پہاڑ، پوری دنیا میں معروف و مشہور ہے، دنیا کی آٹھ بلند ترین چوٹیوں میں سے ماونٹ ایورسٹ ( Mount Everest ) سب سے بلند اور اونچی چوٹی ہے، جو ہمارے وطن عزیز ملک نیپال میں واقع ہے، ملک نیپال میں مختلف نوع نسل و رنگ اور مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگ رہتے بستے ہیں، حالانکہ نیپالی زبان یہاں کی “سرکاری”زبان ہے، یہاں کی اقتصادی اور معاشی حالت نہایت ہی خستہ اور کمزور ہے، جس وجہ سے یہاں کے اکثر و بیشتر لوگ بیرون ملک سعودی عرب، قطر، دبئی، بحرین، کویت، اسلامی و غیر اسلامی ممالک کا سفر کرتے رہتے ہیں، تاکہ اپنی اقتصادی و معاشی حالات کو بہتر اور مضبوط بناسکیں، مختصر یہ کہ نیپال چند عرصہ قبل تک ایک ہندو “راسٹ” دیش تھا مگر 2008ء کے انقلاب کے بعد یہ ایک جمہوری ملک میں تبدیل ہو گیا، مگر پھر بھی یہاں کے آئین و قوانین میں کوئی خاص ترمیم اور بدلاو نہیں آیا، مسلمانوں کے حقوق و مطالبات جس طرح راجا مہاراجہ کے دور میں پامال ہورہے تھے وہ ہنوز ابھی بھی بدستور جاری ہے، یہاں بود و باش اختیار کر نے والے مسلمان عموما نا خواندہ و پسماندہ ہیں، جو یہاں کی سرکاری زبان “نیپالی زبان” سے بالکل ناآشنا اور نابلد ہیں، ان کا اپنا کوئی اسکول، کالجز، یونیورسٹی، معیاری لائبریری، اسلامی سینٹر، میڈیا، نیوز چینل کچھ بھی دستیاب نہیں جن سے ان کی اولادیں خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکیں، اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو دور کر سکیں اور نئی نسل کی آبیاری بروقت کر سکیں اور انہیں کوئی مثبت فائدہ مند سوغات یا پیغام دے سکیں، ابھی بھی وقت ہے کہ نیپالی زبان کی نشر و اشاعت کی جائے اپنی بول چال میں اس کا استعمال کیا جائے سیکھنے اور سکھانے کا ماحول پیدا کیا جائے اپنے افکار و خیالات و نظریات کو بلند کیا جائے، ارباب حل و عقد، ذمے داران مدارس و مکاتب، ذی شعور حضرات، قوم و ملت کے دانشوران و رہنما حضرات، اور اسلامی لیڈران و قائدین بروقت ان باتوں پر توجہ مرکوز کریں، ان شاء اللہ العزیز کامیابی مقدر ہو کر رہیگی، کیونکہ نیپالی زبان کو “سرکاری زبان” ہونے کے اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، جس کا سیکھنا اور سکھانا وقت کا اہم تقاضا ہے، تاکہ ہمیں کسی بھی سرکاری دفاتر، بینک، عدالت، مالپوت ، پولیس اسٹیشن، اور دیگر کسی بھی مقامات پر پریشانیوں اور الجھنوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور ہم بلا جھجک ٹیبل ٹھوک کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں، اور یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ہم نیپالی زبان پر مکمل دسترس حاصل کر یں،تاکہ ہم زندگی کے ہر شعبے اور ہر میدان میں یہاں کے آئین و قوانین کے مطابق کامیابی حاصل کرسکیں، اہل مدارس طلبہ و طالبات پر خوب محنت کریں بالخصوص نیپالی اور انگریزی زبان میں ان کو ماہر بنائیں، تاکہ وہ پست ہمتی اور حوصلہ شکنی کا شکار نہ ہوں، بلکہ بلند خیالات و نظریات کے حامل و مالک ہوں، اور روز افزوں ترقی کے منازل طے کرتے رہے، جس ملک میں ہم رہتے بستے ہیں وہاں کی زبان سے شناسائی وطن پرستی کی دلیل اور علامت ہے، اور اس سے لاعلمی، بے تعلقی، بے فکری، بے خیالی، بے توجہی و بے التفاتی،اور عدم دلچسپی جاہلانہ اور احمقانہ فعل ہے، اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمیں اپنی زبان سیکھنے سکھانے اور اس کی ترویج و اشاعت کی لگن اور محنت شروع کر دینی چاہئے تاکہ ہم اپنی شناخت اور ملی تشخص کو برقرار رکھ سکیں، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو،آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *