معاشرے میں کچھ ایسا بھی ہوتا ہے؟

معاشرے میں کچھ ایسا بھی ہوتا ہے؟

عبدالرشید تیمی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

 

اس ترقی یافتہ دور میں ہر فرد بشر ترقی کے اعلی منازل طے کرنے کے لیے انتھک کوششیں کررہا ہے ، ایک شخص کے پاس اگر ایک گاڑی ہوتی ہے تو دوسرے کی خواہش فوراً ہی ہونے لگتی ہے ، ایک اچھا سا گھر اگر میسر ہوتا ہے تو مزید ایک اور بنگلہ کی آرزو ہونے لگتی ہے ، ایک بچہ ہوتا ہے تو دوسرے بچے کی چاہت ہونے لگتی ہے،اور اس طرح ہر آئے دن وہ نت نئی خواہشات میں اس قدر ملوث نظر آتا ہے جس کی تکمیل قرب موت بھی نہیں ہوپاتی ہے، اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کو اپنے سے کمتر دکھانے میں اپنی پوری توانائی صرف کرتا دکھائی دیتا ہے ، اور اس طرح یہ مذموم شئے اک فطری عادت کی طرح ہمارے بیچ گھر کر گئی ہے، بات کچھ کڑوی ہے مگر ہے سچ، جس کا مشاہدہ ہر آیے دن ہم کرتے رہتے ہیں

آپ کسی بھی میدان میں بنظر غائر مطالعہ کریں گے تو یہ چیزیں سامنے آئیں گی کہ اس عالم فانی کا ہر فرد اپنے سے اوپر کسی بھی شخص کو دیکھنا اور سننا گوارہ نہیں کرتا ہے ، اگر ایک محلے میں ایک مکتب ہے تو دوسرے محلے والے بھی ایک مکتب کی بنیاد ڈال دیتے ہے، گاؤں میں ایک اچھا سا ادارہ قائم ہونے کے باوجود ایک دوسرے گاوں والے کسی دوسرے ادارے کی بنیاد کی تیاری میں منہمک ہوتے ہیں، ان دنوں تو سیکڑوں کی تعداد میں ادارے کھل رہے ہیں ،

( اللہ خیر کا معاملہ کرے) ایک ملک اپنے سے کمزور ملک کو ہمیشہ اپنے پنجہ میں رکھتا ہے ، جب ہم بات کرتے ہیں اداروں کی تو وہاں بھی یہ وبا پائی جاتی ہے کہ ان اداروں میں بھی بڑے اساتذہ اپنے سے چھوٹے کو نہایت ہی حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہے،سینئر طلبہ اپنے جونیئر سے کلام تو دور سلام میں بھی پہل نہیں کرتے، آپ میدان تجارت کو دیکھیں، ایک دکاندار کو دوسرے دکاندار کی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ ان کے دکان سے آج کچھ خریداری ہوئی یانہیں، ایک محرر اک اچھی تحریر لکھتا ہے تو ان کے اپنے ہی لوگ لائک کر کے آگے نکل جاتے ہیں کہ کہیں یہ مجھ سے آگے نہ نکل جائے،

چند روز قبل کی بات ہے فلمی دنیا کا اک اسٹار جسے سشانت سنگھ کے نام سے جانا جاتا تھا وہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال کر عوام الناس کے قلوب واذہان کو ششدر پریشان کر رکھا ہے ، خبروں کے مطابق مانا یہ جارہا ہے کہ کچھ بالی وڈ اداکار سشانت کی راہ میں سنگ گراں بن کر حائل تھے ، یہی نہیں بلکہ بالی ووڈ کے کچھ اسٹاروں نے اسٹیج سے ان کا مذاق بھی اڑایا، اخیر میں کافی پریشان ہونے کے بعد وہ اپنی جان کو موت کے حوالے کردیا، اور ہمیشہ ہمیش کے لئے دار فانی کو لبیک کہ کر عالم بقا کی طرف روانہ ہوگئے،

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے قرب وجوار میں زندگی بسر کرنے والوں کا خیال رکھیں ، انہیں اپنے آپ سے محفوظ رکھیں ، زبان، دل اور ہاتھ سے انہیں کسی طرح کی تکالیف نہ دیں، کسی کو حقیر اور کمتر نہ سمجھیں،

اللہ ہم سب کو صحیح سوچ کی توفیق دے۔آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *