ترک دعوت موجب ہلاکت ہے

ترك دعوت موجب ہلاکت ہے ۔۔۔۔۔

از قلم – محمد محب اللہ بن سیف الدین المحمدی ، سپول بہار .

 

دعوت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے ۔۔۔۔نداء طلب تجمع ،دعاء ، سوال ،استمالہ ۔۔۔۔وغیرہ اور اصطلاح شرعی میں: اللہ پر ایمان لانے، انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان لانے، ان کی تصدیق کرنے اور وہ جو حکم دیے اور جوبتاۓ ان پر سرِ اطاعت خم کرنے کا نام دعوتِ الی اللہ ہے۔اسی طرح ارکان ِ اسلام ( نماز ، روزہ، زکوٰۃ ، حج وغیرہ) پر عمل پیرا ہونے کو ۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا : الدعوة إلي الله ” هي الدعوة إلي الإيمان به وبما جاءت به رسله بتصديقهم فيما أخبروا به وطاعتهم فيما أمروا وذالك يتضمن الدعوة إلي الشهادتين وإقام الصلاة وإيتاء الزكوة وصوم رمضان وحج البيت والدعوة إلي الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت والإيمان بالقدر خيره وشره والدعوة إلي أن يعبد العبد ربه كأنه يراه. …..۔ بحوالہ ۔۔مجموع فتاوئ لابن تیمیہ۱۵۸ تا ۱۵/۱۵۷ ۔۔۔۔

اس دنیا میں انسان کے وجود کا ہدف وحید ہی یہی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت کرے اس کے اوامر کو بجا لاے اور نواہی سے اجتناب کرے لیکن شیطان جس نے اپنے إغواء واضلال کے جال بچھاۓ رکھا ھے۔ انسان کو جادۂ حق سے ہٹا دیتا ہے۔ اور یہ شیطان کی سرشت ھیکہ وہ انسانوں کے پیچھے لگا رہتا ہے۔

لہذا جب بھی انسان اللہ کی بندگی کے علاوہ دوسرے کی بندگی کرنے لگتا تھا تو اللہ ان کی اصلاح کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجتے ۔۔۔ چنانچہ یہ سلسلہ حضرت نوح سے شروع ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی ،۔ نیز اس کام کو مزید آگے بڑھانے کے لئے امت محمدیہ کو خیر امت کے لقب سے ملقب کر کے یہ ذمہ داری اسکے کاندھے پر ڈال دی ۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتا ہے-” كنتم خير أمة أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله…

معلوم ہوا کہ دعوت وتبلیغ امربالمعروف ونہی عن المنکر اصلاحِ نفس،واصلاح مجتمع کا کام اس امت کی ذمہ داری ہےاور اسکا فرض منصبی ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعوت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ” ولتكن منكم أمة يدعون إلي الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر وأولئك هم المفلحون ( سورة آل عمران ١٠٤) ترجمہ ۔۔۔ تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیئے جو بھلائی کی طرف بلاۓ اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برۓ کاموں سے رو کے اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” أدع إلي سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم باللتي هي أحسن ( سورة النحل ١٢٥) ترجمہ۔۔ اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے

محترم قارئین : دعوت وتبلیغ حسب استطاعت اور بقدر علم ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے گویا کہ اس امت کا ہر فرد اپنی جگہ پر داعی ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔۔ بلغوا عني ولو آية ، وحدثوا عن بني اسرائيل ولا حرج ومن كذب علىّ متعمداًفليتبواؤ مقعده من النار ( صحيح البخاري ٣٤٦١) ترجمہ۔۔ میری بات ( میرا پیغام) لوگوں کو پہنچاؤں اگرچہ ایک ہی آیت ہو ( یا ایک ہی مسئلہ ہو) اور بنی اسرائیل کے واقعات تم بیان کرسکتے ہو ۔ ان میں کوئی حرج نھیں اور جس نے مجھ پر تعمداً جھوٹ باندھا تو اسے اپنے جہنم کے ٹھکانے کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔ لہذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کی اخروی زندگی اور روحانی امراض سے شفایابی کی طرف پوری توجہ دے ۔اور جاں بلب انسانیت کی علاج کے لیے مستعد ہو جائیں ۔آج حالت بدتر ھے ، انسانیت پر نزع کا عالم طاری ہے قریب ھے کہ تباہی وہلاکت کے مہیب وعمیق غار میں گرجائے ۔ایسے کریٹکل کنڈیشن میں دعوتی ذمہ داری مزید دہ چند ہوجاتی ہے ۔ اور اگر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں تہاون وتغافل برتا گیا تو یہ ایک بہت بڑا جرم ہے اور ہر جرم کی سزا مقرر ہے جیسا کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ اس جرم کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھ چکے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا” لعن اللذين كفروا من بني اسرائيل على لسان داؤد وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون كانوا لا يتناهون عن منكر فعلوه لبئس ما كانوا يفعلون ( سورة المائدة ٧٨ ۔۔ ٧٩) ترجمہ ۔۔۔ بنی اسرائیل کے کافروں پر داؤد اور عیسی بن مریم کی زبانی لعنت کی گئ اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے آپس میں ایک دوسرے کو برۓ کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے ۔ جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وہ بہت برا تھا۔

أصحاب السبت کا واقعہ بہت مشہور ہے ، اللہ ‌نے فرمایا ” وأسئلهم عن القرية التي كانت حاضرة البحر يعدون في السبت اذ تأتيهم حيتانهم يوم سبتهم شرّعا ويوم لا يسبتون لا تأتيهم كذالك نبلوهم بما كانوا يفسقون ( سورة الأعراف ١٦٣) يعني ۔۔ ساحل بحر قلزم پر واقع ایک یہودی بستی ( ایلاۃ) والوں کے لیے بطور آزمائش سنیچر کے دن مچھلی کا شکار حرام کردیا گیا چنانچہ ان یہودیوں نے امراللہ کی مخالفت کر ڈالی اور منع کردہ دن میں بھی مختلف حیلے بنا کر مچھلیوں کے شکار کرنے لگے ۔۔۔۔ تو اس سلسلے میں اس بستی کے افراد ۳ گروہوں میں تقسیم ہو گئے (١) ایک گروہ برابر حکم عدولی کرنے والوں کو منع کرتے رہے (٢) ایک گروہ نے سکوت اختیار کیا (٣) تیسرا گروہ نا فرمانوں وسرکشوں اوراللہ کے حدود کو پار کرنے والوں کا تھا ۔۔۔اللہ تعالیٰ اگلی آیت میں فرمایا ” فلما نسوا ما ذكروا به أنجينا الذين ينهون عن السوء وأخذنا الذين ظلموا بعذاب بئس بما كانوا يفسقون .. پس انکی سرتابی کے خاطر عذاب نے انہیں پکڑ لیا اور بندر بنا دئےگئے اللہ نے انھیں لوگوں کو بچایا جو امربالمعروف ونہی عن المنکر کا کام کرتے تھے

اللہ نے قرآن مقدس کے اندر بصراحت فرمایا ” فلولا كان من القرون من قبلكم أولوبقيّة ينهون عن الفساد في الأرض إلا قليلا ممن أنجينا منهم وأتبع الذين ظلموا ما أُترفوا فيه وكانوا مجرمين (سورة هود ١١٦) ترجمہ۔۔ پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوۓ جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے سواۓ ان چند کے جنھیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی ظالم تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئیے جسمیں انھیں آسودگی دی گئی تھی یعنی ازمنۂ سابقہ میں فساد ودمار کو روکنے والے اور منکر پر نکیر کرنے والے معدودۓ چند تھے ۔ اور ہم نے ان سب کو ھلاک کردیا سواۓ ان چند اچھے لوگوں کو بچا لیا جو لوگوں کو فساد فی الارض سے روکتے تھے اور منکر پر نکیر کرتے تھے۔۔۔۔۔۔

اب چند احادیث جسمیں ترک دعوت پر عقاب وسزا کی پیشین گوئی ہیں ۔ قارئین كي نظر میں لانے کی کوشش کرتا ہوں

 

(١) حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ” مثل القائم على حدود الله والواقع فيها كمثل قوم استهموا على سفينة فأصاب بعضهم أعلاها وبعضهم أسفلها فكان الذين في أسفلها إذا استقوا من المارى مرّوا على من فوقهم فقالوا لو أنا خرقنا في نصيبنا خرقا ولم نؤذ من فوقنا ،فإن يتركوهم وما أرادو اهلكوا جميعا ،وإن أخذوا على أيديهم نجوا ، ونجوا جمىعا ( صحيح البخاري ٢٤٩٣) قال ابن حجر رحمه الله في الفتح .. وفيه استحقاق العقوبة بترك الأمر بالمعروف ..

ترجمہ۔۔۔۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ راوی حدیث کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں اور خلاف ورزی دیکھکر خاموش رہنے ( یعنی منکر پر نکیر نا کرنے والوں) کی مثال ایسی ہے جیسے ان لوگوں کی جنھوں نے کسی جہاز میں بیٹھنے کیلئے قرعہ اندازی کی کچھ لوگوں کے حصے میں نچلی منزل آئی اور دوسروں کے حصے میں اوپر کی منزل اب نچلی منزل والے جب پانی لیکر بالائی منزل والوں کے پاس سے گذرۓ تو انھیں اس سے تکلیف پہنچی ، یہ دیکھکر نچلی منزل والوں میں سے ایک نے کلہاڑی لی اور جہاز کے پیندۓ میں سوراخ کرنے لگا بالائی منزل والے اسکے پاس آۓ اور کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے اس نے جواب دیا تمہیں ہماری وجہ سے تکلیف پہنچی اور ہمارا پانی کے بغیر گذارا نھیں اب اگر اوپر والوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو اُسے بھی بچا لیا اور خود بھی بچ گیئے اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اسے بھی ہلاک کیا اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا۔

(٢) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا : ياايها الناس إنكم تقرؤون هذه الآية ” ياايها اللذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضلّ اذا اهتديتم وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن الناس أذا راؤا ظالما فلم يأخذوا على يديه أوشك أن يعمهم الله بعقاب منه ( سنن الترمذي ٣٠٥٧) ترجمہ ۔۔ اۓ لوگوں تم یہ آیت پڑھتے ہو ۔۔ياايها اللذين آمنواعليكم أنفسكم لايضركم من ضل اذا أهتديتم . ۔۔۔ اور میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو ( ظلم کرتے ہوۓ ) دیکھیں پھر بھی اس کا ہاتھ پکڑ نہ لیں ( اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں ) تو قریب ھے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آجائے

 

(٣) حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : مامن رجل يكون في قوم يعمل فيهم بالمعاصي يقدرون على أن يغيروا عليه فلا يغيروا إلا أصابهم الله بعذاب من قبل أن يموتوا ( سنن ابوداؤد ٤٣٣)

ترجمہ۔۔ جو کوئی ایسی قوم میں ہو کہ ان میں اللہ کی نافرمانیاں کی جارہی ہوں اور وہ لوگ ان کے اصلاح وتغیرحال پر قادر ہوں اس کے باوجود وہ انکی اصلاح نہ کریں اور انھیں نہ بدلے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان سب کو انکے مرنے سے پہلے عذاب دیگا

محترم قارئین : ان قرآنی آیات واحادیث صحیحہ سے یہ بات مترشح ہو جاتی ہے کہ آج مسلمانوں نے دعوتی فریضہ کو چھوڑۓ رکھا ھیں جسکے نتیجے میں وہ طرح طرح کی دنیاوی عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک بڑا المیہ وتازیانہ ہے ، آج پورے عالم کا منظر نامہ انتہائی افسوس کن ہے ہر طرف شرک وکفر ،الحادوزندقہ ،قبرپرستی وپیر پرستی ، وآراء پرستی اندھی تقلید واندھ بھکتی کا زناٹے دار سیلاب ھے ۔۔۔۔ قصہ مختصر یہ کہ آج پوری دنیا مسائل کے بھوبل میں جھلس رہی ھے عقائد کی بات کرۓ تو یہ ایک ناگفتہ بہ مسئلہ ھے ،اخلاقی اعتبار سے دیکھیں تو پورا عالم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

اب ایسے حالات میں اگر مسلمان غفلت شعاری میں رھیں تہاون وتغافل کا چادر نہ پھینکیں میدان دعوت میں نہ اترۓ توڈر ھے کہ اللہ کا عذاب آجائے اور خسران الدنیاءوالآخرۃ ہمارا مقدر ہو جاۓ ۔ ضرورت ہے کہ اس امت کے افراد ہوش کے ناخن لے۔ کوہِ حراء کے پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرۓ انسانیت کادرد وغم ہدایت ورحمت کی فکر اور آخرت اور محاسبۂ الہی کا خطرہ پیدا کرۓ ۔۔ ۔۔۔۔ اگر دعوتی شعور کی تربیت ہوگئی اور مستقل طور پر میدانِ دعوت میں کام کرنے کی شۂ مل گئ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ إن شاء الله یہی ہمارۓ لئے اکسیرِ اعظم ہے ۔۔وماعلينا إلا البلاغ وصلي الله على نبيينا محمد وبارك وسلم

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *