موت ایک خاموش واعظ و ناصح

موت ایک خاموش واعظ وناصح

قسط 2

محمد طیب محمد خطاب السلفی

جمعية الدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات في المجمعة ـ السعودية ـ

 

محترم قارئین!

موت جب آتی ہے تو کسی کا پاس ولحاظ نہیں کرتی ، نہ بڑا دیکھتی ہے نہ چھوٹا، نہ بادشاہ دیکھتی ہے نہ امیر، نہ رئیس دیکھتی ہے نہ وزیر، نہ نیک دیکھتی نہ بد ، نہ مومن دیکھتی ہے نہ کافر ، نہ دولتمند دیکھتی ہے نہ فقیر، نہ طاقتور دیکھتی ہے نہ کمزور، نہ عالم دیکھتی ہے نہ جاہل ، نہ یہ دیکھتی ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے ، نہ یہ دیکھتی ہے کہ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں ہیں ، آدمی اپنے گھر اور گھر والوں میں ہوتا ہے کہ موت اس کو آجاتی ہے ، آدمی اپنے آفس میں کام کررہا ہوتا ہے کہ موت اس کو دبوچ لیتی ہے، آدمی سفر میں ہوتا ہے کہ اس کو موت آپہنچتی ہے، کب اور کس وقت آدمی کو موت آجائے کسی کو پتہ نہیں، ایک موثوق آدمی نے بتایا کہ ہماری مسجد میں ظہر کی نماز کے وقت ایک عورت کا جنازہ لایا گیا، ہم نے ظہر کی نماز اداکی ،پھر اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی جس کا جنازہ لایا گیا تھا، پھر جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو ایک مرد کا جنازہ لایا گیا، ہم نے حسب معمول پہلے عصر کی نماز پڑھی پھر اس کے بعد اس مرد کی نماز جنازہ پڑھی، لیکن مسجد کے امام نے نہ تو عصر کی نماز پڑھا ئی اور نہ جنازہ کی نماز، جب ہم نے متوفی (میت) کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا یہ اسی مسجد کے امام کا جنازہ تھا جس نے تم کو ظہر کی نماز اور عورت کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔ (منقول کتاب ’’زدنی علما‘‘ للدکتور عبد الرحمن طالب)

نیز کتاب ’’ زدنی علما‘‘ کے مرتب دکتورعبد الرحمن طالب تحریر فرماتے ہیں کہ مجھ سے شہر طائف کے ایک داعی ومبلغ نے بیان کیا ہم لوگ جنازہ لے کرقبرستان میں پہنچے، جیسے ہی ہم نے اپنے کندھوں سے جنازہ نیچے اتارا اور در خواست کی کہ میت کا کوئی قریبی رشتہ دار قبر میں اترے کہ اچانک ایک نوجوان کی آواز سنائی دی، جو قبرستان کے دروازہ پر اپنی گاڑی کے ساتھ کھڑا تھا، وہ ہماری طرف دوڑا آرہا تھا ، اس کے چہرے کا رنگ بدلہ ہوا تھا، اور آواز لگارہا تھا انتظار کرو، میں اس میت کو قبر میں اتاروں گا ، لوگ اس کی حالت کو دیکھ کر تعجب میں پڑگئے اور پوچھا کیا تم میت کے رشتہ دار ہو؟ اس نے کہا نہیں، میں ایک تائب انسان ہوں اور چاہتا ہوں کہ میت کو اس کی قبر میں اتاروں ، میت کے رشتہ داروں نے اسے اجازت دیدی، جیسے ہی وہ قبر میں اترا کہ اندرونِ قبر اس کو بھی موت آگئی، اللہ نے سچ فرمایا ہے ( اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ ) ’’تم جہاں بھی ہوگے موت تمہیں پا لے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہوگے‘‘(سورہ نساﺀ آیت : ۷۸)

(وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ) ’’اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ زمین کے کس خطے میں اس کی موت واقع ہوگی‘‘ (سورہ لقمان آیت : 34)

اس داعی کا بیان ہے کہ پھر ہم نے پولیس والوں کو فون کرکے سرکاری کارروائیاں مکمل کرنے کی درخواست کی ، پھراس نوجوان کو بھی ( ساری کارروائیاں تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ کے بعد) اسی کے بغل میں واقع دوسری قبر میں دفنادیا گیا ۔

عبرت ونصیحت کی بات یہ ہے کوئی انسان نہیں جانتا کہ ملک الموت کب اس کی روح کو قبض کرنے کے لئے اس کے پاس حاضر ہوجائے ، اس لئے انسان کو ہمیشہ اس کےلئے تیاری کرنا چاہئے اور بکثرت اعمال خیر کرنا چاہئے ، بہت زیادہ موت کو یاد کرنا چاہئے، اور ہمیشہ نیک اعمال کرنے کےساتھ حسن خاتمہ کی دعا کرنا چاہئے، اور اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ کیا وہ اپنے موجودہ حال و اعمال سے راضی اور مطمئن ہے۔

جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد طیب محمد خطاب السلفی

جمعية الدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات في المجمعة ـ السعودية ـ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *