موت ایک خاموش واعظ و ناصح

موت ایک خاموش واعظ وناصح

قسط 3

 

محمد طیب محمد خطاب السلفی

جمعية الدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات في المجمعة ـ السعودية ـ

محترم قارئین!

درج ذیل حدیث پرغور کریں جو غا فل انسان کو بیدار کرنے کے لئے کافی ہے، جب کہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب وہاں پہنچ جائے جہاں اس کے دوست واحباب پہنچ چکے ہیں، وہاں پہنچ کر وہ دنیا کی کسی چیز کی تمنا نہیں کرتے بلکہ تمنا کرتےہیں توصرف یہ کہ اسے دورکعت نماز پڑھنے کا موقع مل جائے جب کہ اس کے اور عمل کے درمیان موت حائل ہوچکی اور وہ دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہوچکا ہے جو حساب کی جگہ ہے نہ کہ عمل کا مقام ۔

قارئین کرام ! ہمیں اللہ کا شکرو احسان بجالانا چاہئے کہ ہم زندہ ہیں، اور اس روئے زمین پر چل پھر رہے ہیں، اس لئے قبل اس کے موت ہمارے اور ہمارے عمل کے درمیان حائل ہو اللہ تعالی کی اطاعت کرلیں، نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرلیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ (أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ ، فَقَالَ : ” مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ ؟ ” فَقَالُوا : فُلانٌ ، فَقَالَ : ” رَكْعَتَانِ أَحَبُّ إِلَى هَذَا مِنْ بَقِيَّةِ دُنْيَاكُمْ ” ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک قبر کے پاس سے ہوا توآپ نے فرمایا یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے کہا فلاں آدمی کی قبر ہے ، تو آپ نے فرمایا: اسےدورکعت نماز تمہاری دنیا کی باقی چیزوں سے زیادہ محبوب ہے‘‘ (معجم اوسط للطبرانی علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے)

اس لئے انسان کو چاہئے جبتک اللہ تعالی نے اسے مہلت دے رکھی ہے ، اس کی موت میں وقت باقی ہے ،

اسے چاہئے کہ اپنی لمبی عمر سے فائدہ اٹھالے، اپنی عمر کو غنیمت سمجھے اور زیادہ سے زیادہ نماز پڑھ لے، کیوں کہ دورکعت نماز دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے، اس کا احساس آدمی کو اس وقت ہوگا جب اس کو موت آجائے گی، اور اس کا عمل منقطع ہوجائے گا ،اوروہ اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا، اس وقت وہ تمنا کرے گا اسے دوبارہ دنیا میں بھیجدیا جائے تاکہ وہ دورکعت نماز پڑھ لے، اس لئے انسان کو چاہئے کہ جب اللہ نے اسے زندگی دے رکھی ہے تو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھالے۔

حضرت عبداللہ بن عمرسے روایت ہے انھو ں نے فر ما یا میں رسو ل اللہ ﷺ کی خد مت میں حا ضر تھا، ایک انصا ری صحا بی آئے، انھو ں نے نبی ﷺ کو سلام کیا پھر کہا اے اللہ کے رسول (أَىُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ قَالَ : أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا قَالَ فَأَىُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ قَالَ : أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا أُولَئِكَ الأَكْيَاسُ) ’’ کون سا مومن افضل ہے؟ آپ نے فر ما یا جس کا اخلاق زیا دہ اچھا ہو ، انھو ں نے کہا کو ن سا مو من زیا دہ عقل مند ہے ؟آپ نے فر مایا جو موت کو زیا دہ یا د کرتاہو ۔ اور اس کے بعد ( کے مر احل ) کے لئےزیا دہ اچھی تیا ری کرتاہو ۔ یہی عقل مند ہے ‘‘ (أَخْرَجَهُ ابن ماجه كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالِاسْتِعْدَادِ لَهُ ،حسن ، الصحيحة للألباني 1384 )

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ( كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى ثُمَّ قَالَ يَا إِخْوَانِي لِمِثْلِ هَذَا فَأَعِدُّوا ) ’’ہم ایک جنازے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور اتنا روئے کہ مٹی تر ہو گئی، پھر فرمایا: بھائیو! اس (قبر) کے لئے تیاری کر لو‘‘ ( سنن ابن ماجه ۔كِتَابُ الزُّهْدِ باب الحزن والبکاء)

قبر آخرت کی پہلی منزل ہے جس کی تیاری موت سے پہلے ہی ہوسکتی ہے، لہذا زندگی کے جو چند دن میسر ہیں ان سے فائدہ اٹھالیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (إذا أمسيت فلا تنتظر الصباح وإذا أصبحت فلا تنتظر المساء، وخذ من صحتك لمرضك ومن حياتك لموتك) ’’ جب تم شام کرلو تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح کرلو تو شام کا انتظار نہ کرو، اور اپنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت سمجھو، اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے غنیمت جانو‘‘

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (ما ألزم عبد قلبه ذكر الموت إلا صغرت الدنيا عنده، وهان عليه جميع من فيها(

’’جس بندہ نے موت کی یاد کو اپنے دل میں بسالیا دنیا اس کے سامنے ہیچ ہوگئی ، اور دنیا کی تمام چیزیں اس کی نگاہ میں معمولی ہوگئی‘‘

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے ) كان يجمع كل ليلة الفقهاء فيتذاكرون الموت والقيامة والآخرة، ثم يبكون حتى كأن بين أيديهم جنازة( ’’ کہ وہ ہررات علما ﺀوفقہاﺀکو جمع کرتے موت اور آخرت

کا آپس میں تذکرہ کرتے پھر روتے گویا ان کے سامنے کوئی جنازہ ہو‘‘

امام قرطبی رحمہ اللہ اپنی کتاب (التذکرۃ) میں لکھتے ہیں : (من أكثر ذكر الموت أكرم بثلاثة أشياء: تعجيل التوبة، وقناعة القلب، ونشاط العبادة، ومن نسي الموت عوقب بثلاثة أشياء: تسويف التوبة، وترك الرضا بالكفاف، والتكاسل في العبادة( ’’جو شخص موت کو بکثرت یاد کرتا ہے اسے تین چیزیں نصیب ہوتی ہیں توبہ میں جلدی کرنا، دل کو قناعت پسند بنانا، اور عبادت میں سرور وتازگی محسوس کرنا اور جو شخص موت کو بھلادیتا ہے وہ تین آفتوں میں مبتلا کردیا جاتا ہے توبہ کرنے میں ٹال مٹول کرنا، گزراوقات کے لئے اس کے پاس جوکچھ موجود ہو اس پر راضی اور خوش نہ رہنا اور عبادت میں سستی برتنا‘‘

حسن بصری رحمہ اللہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ایک بیمار شخص کی عیادت کے لئے گئے تو دیکھا کہ وہ موت کی بے ہوشیوں میں ہے تو اس کی تکلیف اور سختی کو دیکھ کر واپس آگئے، رنگ بدلا ہوا ہے، گھر والوں نے کھانا دیا تو کہا کھانا پینا لے جاو، میں نے آج موت آتے دیکھی ہے میں تو اب نیک اعمال کروں گا تا آنکہ موت کو پالوں (بحوالہ التذکرہ للقرطبی)

تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : (شيئان قطعا لذة الدنيا : ذكر الموت , وذكر الوقوف بين يدي الله)’’ دو چیزیں دنیا کی لذتوں کو ختم کردیتی ہیں موت کی یاد اور اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا تصور اوریاد‘‘

جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد طیب محمد خطاب السلفی

جمعية الدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات في المجمعة ـ السعودية ـ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *