موت ایک خاموش واعظ و ناصح

موت ایک خاموش واعظ وناصح

قسط 4

محمد طیب محمد خطاب السلفی

جمعية الدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات في المجمعة ـ السعودية ـ

 

حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب کو مخاطب کرکے فرمایا : (يا كعب حدثنا عن الموت؟ فقال نعم يا أمير المؤمنين: هو كغصن كثير الشوك أدخل في جوف رجل فأخذت كل شوكة بعرق ثم جذبه رجل شديد الجذب فأخذ ما أخذ وأبقى ما أبقى) ’’اے کعب تم ہمیں موت کے بارے میں بتاو ؟ تو حضرت کعب نے فرمایا: اے امیر المومنین : موت ایک کانٹے دار ڈالی ہے جو آدمی کے جسم میں داخل کی جائے ، وہ کانٹے دار ڈالی جسم کے رگ وریشے کو پکڑلے پھر کوئی شخص اس کو زور سے کھینچے پھرجس کولینا ہو لےلے اور جس کو چھوڑنا ہو چھوڑدے‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو اللہ کی راہ میں جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے تھے : (إن لم تقتلوا تموتوا والذي نفس محمد بيده لألف ضربة بالسيف أهون من موت على فراش) ’’ اگر تم جہاد نہ کرو اورمرجاؤ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جہاد کرتے ہوئے ہزاروں تلواروں کی زد میں آکر مرنا بستر پر مرنے سے زیادہ آسان ہے‘‘

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ بھی فرمان ہے : (إنَّ أخوف ما أخاف عليكم إتباع الهوى وطول الأمل ؛ فأما إتباع الهوى فيصد عن الحق , وأما طول الأمل فينسي الآخرة ؛ ألا إن الدنيا ارتحلت مدبرة , والآخرة مقبلة , ولكل واحدة منهما بنون ؛ فكونوا من أبناء الآخرة , ولا تكونوا من أبناء الدنيا ؛ فإن اليوم عمل ولا حساب , وغداً حساب ولا عمل) ’’مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ خواہش نفس کی پیروی اور طویل آرزو میں مبتلا ہوجانے کا خوف واندیشہ ہے کیوں کہ خواہش نفس کی پیروی انسان کو حق پر عمل کرنےسے روک دیتی ہے اور طویل آرزو آخرت کو بھلادیتا ہے، اور خبردار یہ دنیا پیٹھ پھیر کر بھاگ رہی ہے اور آخرت سامنے آرہی ہے، اور ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں اس لئے تم آخرت کے بیٹے بنو، دنیا کے بیٹے نہ بنو، کیوں کہ آج عمل کا دن ہے حساب نہیں ہے اور کل حساب ہے عمل نہیں ہے‘‘

شداد بن اوس کا بیان ہے: مومن انسان پرموت سب سے زیادہ ہولناک ہے اور یہ موت ٓآرے کی چیر اور قینچی کی کاٹ سے بھی زیادہ سخت ہے, اگرمیت کو زندہ دیا جائے اور وہ دنیا والوں کو موت کی تکلیف کے بارے میں بتادے تو نہ وہ دنیا کے عیش وآرام سے محظوظ ہو اور نہ نیند سے لطف اندوز ۔

محترم قارئین !

یہ جان لیں ہم سب عنقریب لوگوں کے کندھوں پر اٹھاکر قبرستان لے جائے جائیں گے اور اپنے اعمال کے مطابق بدلہ دیئے جائیں گے اسوقت دنیا کی حقیقت ہم پر منکشف ہوگی پھر ہم میں سے ہر ایک دنیا میں واپسی کی تمنا کر ے گا تاکہ نیکی کریں لیکن کیا ہماری واپسی ہوگی، ہر گزنہیں۔ اس لئے دور اندیش اورعقل مند انسان ان لمحات کے لئے تیار رہتا ہے اورعاجز انسان اپنے نفس کو خواہش کے پیچھے لگادیتا ہے اور اللہ سے محض طویل آرزوئیں رکھتا ہے۔

دلوں کی قساوت وسختی اورغفلت ولاپرواہی کو دور کرنے کے لئے موت سب سے بہتر ناصح ہے جو نفس کو خواہشات کی پیروی سے روکتی اور موت یاد دلاتی ہے، اور یہ شعور بیداررکھتی ہے کہ انسان عنقریب دنیا کی زندگی سے آخرت کی طرف منتقل ہوجائے گا ، طبرانی کی یہ حدیث کفی بالموت واعظا گرچہ ضعیف ہے لیکن اس خاموش واعظ وناصح سے موثر کوئی واعظ وناصح نہیں ، اس لئے عقلمند اور دور اندیش انسان کو چاہئے موت کے لمحات کو ذہن نشیں رکھیں اور اپنی عافیت وسلامتی سے متعلق دھوکے میں نہ رہیں کیوں کہ موت اچانک آتی ہے ۔

موت کا تعلق اللہ تعالی کی قضا وقدر سے ہے جسے اللہ تعالی نے ہر ذی روح کے لئے مقرر کر رکھا ہے،

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں دوستوں اور ساتھیوں کی موت ایک سمجھدار مسلمان کے لئے بڑا محرک ہے کہ وہ اپنا جائزہ لے اور اپنی غفلت سے بیدار ہو، اللہ سے توبہ کرے اور اللہ سے ملاقات کی بہترین تیاری کرے، قرآن کریم میں اللہ تعالی نے پینتیس سے زیادہ مقامات پر موت کا تذکرہ کرکے ہمیں ہماری غفلت سےچوکنا اور ہوشیار کیا ہے، فرمان الہی ہےقُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ. {الجمعة:8) ‘‘

اس لئے اے میرے بھائیو ! اللہ تعالی سے سچی توبہ کریں اور قبل اس کے آپ کو اچانک موت آئے نما زکی پابندی اور فرائض دین کی ادائیگی میں جلدی کریں ورنہ آپ جس حال میں ہیں نادم وشرمندہ ہوں گے پھر وہ ندامت وشرمندگی آپ کو کچھ فائدہ نہیں دے گی ۔

 

محمد طیب محمد خطاب السلفی

جمعية الدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات في المجمعة ـ السعودية ـ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *