حیات ابراہیم اسوہ و نمونہ

 

حیات ابراہیم اسوہ و نمونہ

محمدی روبینہ عندلیب ابوالکلام

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قال تعالیٰ:(انا اعطیناک کالکوثر فصل لربک وانحر) سورہ الکوثر :١/٢

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:(من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقربن مصلانا)ابن ماجہ ٢٥٤٩

اسلامی مہینوں میں تمام ہی مہینے خیر وبرکت سے معمور ہوتے ہیں لیکن ذی الحجہ کا مہینہ اور خاص کر اس میں دس ایام اپنے دامن میں ڈھیر سارے فرحت وسرور پنہاں کیے ہوتے ہیں اس کہ آنے سے قبل ہی مسلمانوں میں تقرب الہی کا ایک نیا جوش و ولولہ بیدار ہونے لگتا ہے دنیا کے تمام ہی مسلمانوں میں ایثار وقربانی کا ایسا دل آویز جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کی مثال اس جیتی جاگتی دنیا میں ملنی مشکل ہے دیگر اقوم و ملل اس دل کو خوش کرنے والے مہینے اور طریقۂ ابراہیمی سے محروم ہیں۔

آج میں نے جس تاریخ ساز اور عبرتناک موضوع کے لیۓ اپنی قلم کو تھاما ہے وہ تاریخ انسانی کا وہ زریں وسنہرا واقعہ ہے کہ اگر قرآن کے مقدس پر یہ موتی آیات کی شکل میں بکھری نہ ہوتی تو مضبوط سے مضبوط ایمان والوں کو اس حقیقت پر آمنا و صدقنا کہنا گراں ہوجاتا۔

یہ تو حیات ابراہیم کی ایک ادنی سی جھلک ہے ان کی مکمل حیات مبارکہ جرأت مندی وسرفروشی کی اعلی ترین مثال ہے قدم قدم پر ان کو آزمائشوں نے گھیرا مشکلات وپریشانی نے ان کا خیر مقدم کیا ابھی ایک آزمائش کا خاتمہ ہونے کو ہوتا کہ دوسری آزمائش اپنا پر پھیلائے ان کی راہ میں حائل ہوجاتی قرآن نے ان کی زندگی کے اکثر وبیشتر گوشوں کو واضح کر دیا ہے کہیں واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی کے لقب سے سرفراز کیا گیا ہے تو کہیں ان کی زندگی کو مسلمانوں کے لیے اسوہ وآئڈیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ ابراہیم والذین معہ فرما دیا گیا ہے۔

بچپن سے بڑھاپے تک کی زندگی آزمائشوں سے گھری ہوئی ہیں آپ بت پرستانہ ماحول میں آنکھیں کھولے جب آپ کو یقین آگیا کہ دنیا کی ہر شئے فانی ہے تو یہ اعلان کر دیا یقوم انی بری مما تشرکون اور فرمادیا انی وجھت وجھی للذی فطر السماوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین ضلالت کی پر پیچ راہوں کو تج کر کے ہدایت کی ہموار راہوں کو اپنا نصب العین قرار دیا توحید کے احکام کو ڈنکے کی چوٹ پر قوم و والد کے سامنے پیش کیا والد کو نصیحت کرتے ہوئے کہا یاابت لم تعبد مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیا

اے میرے والد آپ کیوں! اس کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سن سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے نہ آپ کو کسی قسم کا فائدہ پہنچا سکتا ہے

والد وقوم کے انکار کے باوجود مایوسی کو اپنے دل پر راج کرنے نہیں دیا بلکہ بے باکی سے بتوں کے عبادت خانے میں گھس کر ان کو ڈھادیا اور مشرک قوم سے معافی وتلافی کی بجائے نار نمرود کو ترجیح دی

نار نمرود میں ڈالے گئے جس وقت خلیل اللہ

پہول بن بن کےشراروں نے قدم چوم لیا

اللہ تعالیٰ نے صرف آپ کو آزمایشوں میں ڈال کر یونہی حیران وپریشان تن تنہا چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہر ہر آزمایشوں میں آپ کا ساتھ دیا اور کامیابی سے سرفراز کیا

اس کے باوجود جب کوئی امید کی کرن نظر نہیں آئ تو رب کے حکم سے آباء واجداد قوم وطن کی محبت جاہ ومنصب پاوں تلے روند کر اپنے ایمان کی رداء کو سنبھالتے ہوئے اس وطن کو الوداع کہہ دیا

ابھی آزمایشوں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا پچاسی سال سے تجاوز کر گیے لیکن اولاد کی نعمت سے محروم بارگاہ ایزدی میں مناجات وفریادکرتے رہے رب ھب لی من الصالحین بس دعاء مانگنے کی دیر تھی اور فبشرناہ بغلم حلیم کے ذریعے ان کو خوشخبری سے نوازدیا گیا ابھی خوشی نے ان کے قلب ورح میں اپنا ڈیرا ڈالا ہی تھا کہ یہ حکم ھوا کہ اپنی بیوی وبچے کوبے آب وتاب چٹیل میدان میں تن تنہا چھوڑ آیں وہ بھی ایسا میدان جہاں میلوں میل تک آدمی چھوڑ جانور تک کا نام ونشان نہیں تھا پانی تو کیا دور دور تک تری بھی نظر نہیں آتی تھی کوی نہ رازداں نہ غمخوار بھوک و پیاس کا غلبہ دودھ پیتے بچے کا بہوک وپیاس سے برا حال پھول سا چہرہ کملایا ہوا سانس رک رک کر چل رہی گلا خشک ایڑیاں رگڑ رہا تھا ممتا بھری سامنے بیٹھی بچے کی حالت کو دیکھ کر ماں پر اضطراب کی کیفیت چھا جاتی ہے پانی کی تلاش وبسیار میں ادھر ادھر نظر دوڑاتی ہے مگر ہر نظر نامراد لوٹ آتی ہے کبھی صفاء سے مروہ کے چکر کاٹتی ہے تو کبھی مروہ سے صفاء کے آخر ان کی محنتوں وقربانیوں کو دیکھ کر رحمت الہی جوش میں آئ اور پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا جو آج آب زمزم کے نام سے جانا جاتا ہے اور اللہ کو حضرت ہاجرہ کی یہ ادا اتنی پسند آئ کہ اسے حج کے ارکان میں شامل کر تے ہوئے فرمایا ان الصفاء والمروۃ من شعائر اللہ

جب اس آزمائش سے نجات ملی اور مشکلیں چھٹ گیئ تو باپ بیٹے بے تحاشہ خوش ہوگیے ابھی چند ہی دن ایک دوسرے کے ہمراہ سانسیں لیے تھےکہ ایک رات حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کو وہ اپنے لاڈلے واکلوتے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے راہ الہی میں قربان کر رہے ہیں تو بیٹے کو بلا کر کہا (قال یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری)

بیٹے نے بلاتردد جواب دیا (قال یابت افعل ما تومر ستجدنی ان شاءاللہ من الصابرین)

کہنے اور سننے میں تو یہ بات نہایت ہی آسان معلوم ہوتی ہے کہ ایک باپ نے اللہ کی رضاء کے لیے اپنے معصوم بیٹے کو قربان کر دیا لیکن اس کارنامے کو انجام دینے کا ظرف کویئ اس باپ سے پوچھے جس کی ہزاروں منتوں وآرزووں کے بعد اکلوتی اولاد ہوئی ہو اور اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ اولاد حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرح اطاعت شعار وخدمت گزار ہو تو غور کریں اس باپ کو اپنے بیٹے کس قدر دلی لگاو اور الفت ومحبت ہوسکتی ہے

مگر نہیں یہ تو دنیاوی محبت والفت ہے جو والدین اپنی اولاد سے واقعی محبت کرتے ہوں تو یقینا ان کی یھی خواہش ہوگی کہ ان کی اولاد آخرت میں کامیاب وکامران ہو اور جس کا دل نور وایمان سے منور ہو جس کا جگر قربوالھی کا متمنی ہو تو وہ رضاے الھی کے لئے اپنی ایک اولاد کیا ہزاروں اولاد کو راہ الھی میں قربان کر سکتے ہیں کہ حتی کہ اپنی جان عزیز کا نذرانہ بھی پیش کر سکتا ہے دنیا جب سے بنائ گئ ایثار وقربانی کا ایسا انوکھا واقعہ منظر عام پر نہیں آیا یہ ایسا واقعہ ہے کہ عالم کون ومکاں پر سکتہ طاری ہوگیا زمین ویران اور آسمان خاموش تھا کاینات کا ذرہ ذرہ محو حیرت تھا

اللہ نے اس ادا کو دیکھتے ہوئے اس سنت کو زندہ رکھنے کے لئے صاحب استطاعت پر قربانی فرض کردیا گیا اور فرمادیا (وترکنا علیہ فی الآخرین) ایثار وقربانی وجانثاری ،تقوی وطھارت، مومنانہ صورت وسیرت مجاہدانہ کردار کا حامل ہےاللہ تعالیٰ کا فرمان ہے(قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی لللہ رب العالمین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ان اللہ لا ینظر الی اجسادکم ،والی صورکم،ولکن ینظر الی قلوبکم )مسلم ٢٥٦٤اور فرمایا (من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقربن مصلانا ابن ماجہ ٢٥٤٩

سوچیے قربانی کا مقصد کیا صرف یھی ہے کہ راہ الہی میں جانور قربان کردیا جائے اور انواع واقسام کے کھانے سے دستر خوان کو مزین کر دیا جائے امیروں کو اپنے گھر کی زینت بنالی جائے اور بچا کچا گوشت فریج میں بھر کر رکھ دیا جائے اور غریب صرف حسرت ویاس بھری نگاہوں سے اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ کر اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر دیکھتے رہیں کہ اس نے اتنے روپے کی قربانی کی اور فلاں نے اتنے روپے کی کی

افسوس آج تو قربانی کا مقصد رضاے الھی کم ہی ہے بلکہ ہر کوئی ایک دوسرے کو کمتر دکھانے اور اپنے آپ کو برتر دکھانے کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے کو بے دریغ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں اس بات کی پرواہ کیے بغیر کے اس قربانی کا انہیں کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں دنیا میں تو نامدار ہوہی جایں گے پر افسوس آخرت میں کہیں بھی ان کی یہ قربانی ان کے نیک کاموں کی فہرست میں نہیں ہوں گی

تو مسلمانوں قربانی اور سنت ابراہیمی کے کچھ پیغامات ومطالبات ہیں جن کو ہمیں اپنانا چاہیے اور صرف رضائے الٰہی کے لئے اور قرب الٰہی کے لئے اپنے جانور قربان کر نا چاہئے گرچہ کہ کم ہی کیوں نہ لیکن وہ ریاء ونمو وتصنع سے مبراہ ہوں

یہ تھے حیات ابراہیم کے کچھ پھلو جن پر روشنی ڈالی گیی

اب آخر میں الہ العالمین سے دعاء گو ہوں کہ الہ العالمین تو ہم تمام لوگوں کو سنت ابراہیمی کو اپنانے اور آیڈیل بنانے کی توفیق دے اور ہماری قربانی میں

اخلاص پیدا کر اور ریاء وغیرہ سے پاک رکھ اور ہم تمام کی قربانی کو قبول کر

آمین تقبل یا رب العالمین

 

الکاتبہ♥️

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *