کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

 

*کبھی اےنوجواں مسلم تدبربھی کیاتونے!*

ازقلم:محمدضیاءالحق ندوی

 

 

باسمہ تعالی

نوجوان امت مسلمہ کا سرمایہ ,ریڑھ کی ہڈی اورمستقبل کے معمارہیں،دور شباب انسان کی زندگی کاقوی و اہم ترین دورہوتاہے،کسی بھی قوم وملک کی کامیابی و کامرانی ،اقبال مندی و سربلندی،ترقی و خوشحالی میں نوجوانوں کااہم رول و کردارہوتا ہے،وہ قومیں خوش قسمت اور ہمیشہ سرخرورہتی ہیں جن کے نوجوان فولادی قوت وطاقت کے مالک ہوتے ہیں، قرآن نے باہمت، باشعور،متحرک اور پر عزم نوجوان جن کےاندر غیر متزلزل ایمان موجود تھاان کی اس طرح تعریف کی ہےارشاد ہے “ہم تمہارے سامنےان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتےہیں. یہ کچھ نوجوان تھےجواپنے پروردگارپرایمان لائےتھے،اورہم نےان کو ہدایت میں خوب ترقی دی تھی. اورہم نےان کے دل خوب مضبوط کردئے تھے یہ اس وقت کاذکر ہے جب وہ اٹھے،اورانہوں نےکہاکہ : ہماراپروردگاروہ ہے جوتمام آسمانوں اورزمین کامالک ہے،ہم اس کےسوا کسی کومعبودبناکرہرگز نہیں پکاریں گے،اگرہم ایساکریں گے توہم یقینا انتہائی لغوبات کہیں گے” سورہ کہف ١٣,١٤

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسی عمرکو غنیمت جاننے کی تلقین فرمائی ہے حضرت عمروبن میمون رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتےہوئےفرمایا”پانچ چیزوں کوپانچ چیزوں سےپہلے غنیمت جانو:دور شباب و جوانی کوبڑھاپےسےپہلے. صحت وتندرستی کو بیماری سےپہلے. خوشحالی کوناداری سے پہلے. فراغت کومشغولیت سےپہلے. زندگی کوموت سےپہلے” نسائی رقم الحدیث ١٠٥١٥

باہمت اورپرجوش نوجوان ہمیشہ اسلامی انقلاب کےنقیب رہےہیں، انقلاب خواہ سیاسی ہویا اقتصادی،سماجی ہویا عسکری،معاشرتی ہو یا ملکی،ان تمام میدانوں میں نوجوان کاکردار نہایت اہم اورکلیدی ہوتا ہے، نوجوانی کی عمراپنے آپ کو سنوارنے اور اس میں نکھارپیداکرنے کی ہوتی ہے،جوانی زمانہ نشاط، اصل کارکردگی،اورعبادت سےلذت حاصل کرنےکا وقت ہے، نوجوانوں اٹھو امت کی باگ ڈور سنبھالو، اپنے اندر عقابی روح پیدا کرو اور ایسا انقلاب برپا کردو کے باطل انگشت بدنداں حیران و ششدر ہوجائیں چنانچہ علامہ اقبال رحمۃاللہ علیہ نےاس دور جوانی کی بہترین و دلکش عکاسی کی ہے.

 

” *شباب جس کاہےبےداغ، ضرب ہےکاری* ”

 

عمرکےاسی دورمیں نوجوان صحابہ رضی اللہ عنہم نے بڑےبڑےکارنامےانجام دیئے. جوانی کی اسی عمرمیں حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ نے قیادت کی باگ ڈور سنبھالی،یہی وہ عمر ہے جس میں حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ نے دربارنبوت سےسیف اللہ کا لقب حاصل کیا،اسی عمر میں ابن تیمیہ ،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اورامام غزالی رحمھم اللہ جیسے مجددعلوم کی گہرائیوں میں اترے. اسی عمرجوانی میں صلاح الدین ایوبی. طارق بن زیاد اورمحمدبن قاسم رحمھم اللہ نےاسلامی تاریخ کواپنے کارناموں سےتابناک کیا.

الغرض بےشمار شخصیات نے اسی عمرمیں بڑےبڑےمعرکے اور کارنامےانجام دیئے اور آج بھی دیئےجاسکتےہیں، لیکن اس وقت امت کے نوجوانوں میں سب سے بڑاالمیہ یہ ہےکہ وہ دینی تعلیمات اوراسلامی تاریخ سےبالکل نابلد ہیں، انہیں اسلامی فتوحات کا کچھ علم نہیں،اسلاف کے کارناموں سےکوئی واقفیت نہیں،وہ قرآن کے مطالعے اورتدبر وغوروفکر سے کوسوں دورنظرآرہےہیں، کسی بھی ترقی اور فلاح وبہبود کےلئے اسلامی تہذیب وتاریخ اورعلمی ورثہ سے باخبر رہنا نہایت لازمی ہے، اے ملت اسلامیہ کے سپوتوں! کبھی تونےاس بات پرغور بھی کیاہےکہ توجس قوم کافرد ہے وہ کسی زمانے میں نہایت عظیم الشان تھی،تجھےاس قوم نے پالاہے جس نے ایران جیسی سپرپاورسلطنت کو سرنگوں کردیاتھا. تیرے اسلاف عرب کےصحراء سےاٹھےجہاں وہ محض شتربانی کرتےتھےاور شان وشوکت کےباوجود بادشاہت میں بھی فقیری اوردرویشی کی زندگی بسر کرتے تھے لیکن انہوں نےتمام دنیاکونہ صرف تہذیب وتمدن سکھایا بلکہ اخلاق وکردارکاوہ اعلی معیارقائم کیاکہ جس کی مثال نہیں ملتی. اےامت کےنوجوانوں حقیقت تویہ ہے کہ آج تمہیں اپنے آباؤ واجداد اور بزرگوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے.

*کبھی اےنوجواں مسلم تدبربھی کیاتونے*

*وہ کیاگردوں تھاتوجس کاہےاک ٹوٹاہوا تارا* .

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *