رسم جہیز اور ہمارا معاشرہ

 

رسم جہیز اور ہمارا معاشرہ

از: محمد طاسین ندوی

باسمہ تعالی

جس سماج میں ہم نے پروش پائی ہے، رہتے, بستے ہیں وہ یقینا ایک محترم، معزز، عظیم، اور مجتمع سماج ہے اللہ نے دین اسلام کے پیرو کار ہی کو دنیا کی اعلی و ادنی، بیش بہا و ارزاں ہر چیز سے مہتم بالشان ، معزز،محترم بناکر اس دنیاء آب و گل میں وجود بخشا اور کھرا و کھوٹا،حق وباطل، جائز ومباح، حرام و حلال کے بارے میں بہت ہی ارفع و اعلی دستور سے نوزا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسكتم بهما : كتاب الله وسنتي ” رواه مالك

میں نے تمہارے مابین دوچیزیں چھوڑی ہیں تم ان دونوں کو تھامے رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے. وہ کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور احادیث رسول مجتبی ہیں ,ہاں اگر اس اصول نبوی کو بھلا دیا جائیگا، احادیث کی کتابوں میں ہی بند کردیا جائیگا تو یقینا وہ ساری کمیاں، خرابیاں،بگاڑ،بدامنی،ہمارے سماج،مجتمع،ومعاشرے میں لاعلاج بیماریوں کی طرح عریاں اپنی بزم سجائیں گی ،نہ جانے کتنے لوگ اس کے لقمۂ تر ہوجائیں گے، کیونکہ نکاح انسانی فطرت کے ایک ضروری تقاضے کو جائز طریقے  سے پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اگر اس جائز طریقے پر رکاوٹیں عائد کی  جائیں روڑے اٹکائے جائیں یا اس کو مشکل بنایا جائے تو  اس کا  لازمی نتیجہ بے راہ روی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص اپنی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے  جائز راستے مسدود پائے گا تو اس کے دل میں ناجائز راستوں کی طلب پیدا ہوگی،  جو انجام  کار معاشرے کے بگاڑ کا ذریعہ بنے گی حدیث رسول ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر کوئی ایسا شخص تمہارے پاس رشتے کا پیغام بھیجے جس کی دین داری اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس کا نکاح کرادو، اگر ایسے نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور وسیع فساد ہوجائے گا‘‘رواہ الترمذی

اور ہم بحیثیت ایک مثقف و مھذب، تعلیم یافتہ و عالم فرمان رسول فرد کے مجتمع بھی اس لاعلاج بیماری سے بچ سکیں گے ؟ذہن میں ضرور سوال پیدا ہورہا ہوگا وہ بیماری ہے کونسی، اور کیسی تو صرف طائرانہ نظر ڈالیں اپنے جاں بلب معاشرہ پر، سسکتی بلکتی والدین پر جن کے گھروں میں صنف نازک ہیں کیا پوزیشن ہیں ایسے افراد مجتمع کی، اگر صاحب ثروت ہیں اور ان کے پاس بیٹاں ہیں تو وہ کیا کچھ نہیں دیتے اپنے ہونے والے داماد کو اور اگر ایک غریب و لاچار فرد جس کے پاس بیٹاں ہیں وہ کیا کرے اپنی ساری جائداد جو بہت مختصر ہوتی ہیں ان ناعاقبت اندیش بھکاری پر بھینٹ چڑھادے یا شادی کے بعد مفلوک الحال، محتاج و درماندہ ہوکر کاسئہ گدائی لیے اپنے بچوں کی پروش و پرداخت، تعلیم و تعلم کے لئے چندہ بٹورے. ہم تو یہ ضرور کہیں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن کیا ہماری اس بول سے یا اتنا کہ دینے سے یہ بدامنی ختم ہوجائیگی؟ نہیں ہرگز نہیں. اور یہ یاد رکھئیے! صاحب ثروت ہوں یا فقیرو مسکین اپنے ہونے والے داماد کو یونہی نہیں دیتے بلکہ یہ بھیکاری سمدھی، داماد ،یا ان کے متعلقین مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے یہ یہ سامان تعیش چاہئیے، اتنے مال و زر چاہئیے پھر جاکر رشتہ پکا ہوگا،اورجب اس طرح کے بھیک منگے کی مانگ پوری نہیں ہوتی یا کچھ کسررہ جاتی ہے تو اس وجہ سےیا تو رشتہ نہ ہو پاتا ہے اگر ہوگیا تو طلاق کی نوبت آجاتی ہے اخباروں کی یہ خبرسرخیاں بنی رہتی ہے کہ فلاں نےاپنی بیوی فلانۃ کوصرف گاڑی یا بھرپورجہیزنہ ملنےپر قتل کردیا،اوراس بےچاری کو ان کےسسرال والوں نےمار پیٹ کر بدحال کردیا تو کہیں آگ میں جلادیا. روزمرہ اس طرح کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں ،کتنی پشیمانی کی بات ہے کیا یہی شادی و نکاح ہے جسکے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا ہے “إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤنة” رواه النسائي ٩٢٢٩

سب سے عمدہ بہتر نکاح برکت کے اعتباروہ جو اسراف ابذار سے پاک ہو

جن رسموں سے ہمارامعاشرہ دوچار ہے اسکی شریعت میں کوئی نظیر و دلیل نہیں بلکہ

اس معاشرہ کو جہنم بنانے والے، شادیوں کو مشکل سے مشکل ترین بنادینے والے ڈکیٹ، اچکے ،بدمعاش نےکبھی یہ سوچا کہ اگر ہم نے جہیز کے لئے دست درازی کیا تو معاشرہ کہاں تک بدحال ہوگا، نہیں بالکل نہیں اگر یہ دوسروں کے ٹکڑے پرجینے والے، دست سوال دراز کرنے والے ناسور، بھیگ منگے اپنے بارے میں بھی سوچا ہوتا تو معاشرہ کی بیٹاں شادی کی آس لیے اپنی عمر کی اکثر دہائیاں یونہی نہ بتاتیں. ایک بڑا المیہ یہ کہ جاہل و ان پڑھ تو درکنار اب علماء دین،مفتیان شرع متین، مدعیان عالمِ قرآن وحدیث بھی ان کے سُر میں سُر اور تال میں تال ملانے کی جہد میں سرگرادں و حیراں ہیں پیشکش کرتے ہیں کہ اگر فلاں ابن فلاں جو کہ ڈاکٹر،انجنئیر،بزنس مین ہے ہمارے جگر پارہ سے شادی کریگا تو فلاں فلاں گراں قدر سامان کے ساتھ ساتھ فور ولیر گاڑی میں ھدیہ کرونگا. افسوس صد افسوس ہے ایسے مدعیان علوم نبوت پر کہ آخر سماج کو قعر مذلت تک ڈھکیلنے اور شادیاں جو بالکل آسان تھی سخت ترین بنانے میں ان پڑھ بھیکاری اور ہم علماء بھی ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں. ہمیں بھی بس اتنی فکر ہوتی ہیکہ کسی طرح میری بیٹی و جگر پارہ کا مناسب اور عمدہ رشتہ لگے اچھی جگہ شادی ہوجائے جو دینا لینا ہوگا دیکھا کر یا چھپا کر کیا جائیگا.

قارئین کرام! کیا یہی دین پسند اور دیندار لوگوں کا طرہ امتیاز ہیکہ سماج اور سوسائٹی کے افراد کا رخ جہیز کے طرف کریں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہمارا شیوہ ہی

یہ ہوکہ اس کے رخ موڑنے کی بھر پور کوشش کریں اور ایسی شادیاں جس میں شریعت اسلامیہ کے اصول و ضوابط روندے جارہے ہوں اسکا بائیکاٹ کریں لوگوں کو سمجھائیں دین کی تعلیم عام کریں اور شادی جو آج کل بہت ہی بھاری بھرکم چیز بن گئی ہے اسے آسان بنانے کی سعئ پیہم کریں کیونکہ یہی ہماری ذمہ داری ہے اور ہم علماء وارثین انبیاء ہیں ان حضرات نے جو اعمال و افعال انجام دیے اب ان کی ساری ذمہ داری ہمارے ناتواں اور نحیف ولاغر کاندھے پر ہیں اگر ہم نے درست و صحیح باتوں کی ترویج کیا, لوگوں تک پہنچانے کی جتن کی تو ہم کامیاب ہیں ورنہ ہم بھی مجرموں کی فہرست سے باہر نہیں ہوسکیں گے.

اللہ تعالی ہمیں جہیز جو ایک ہندوانہ اور جاہلانہ رسم اور رشوت جیسی لعنت اس سے دور رکھے، معاشرہ و سماج کو بھی اس ناسور سے نجات دے، حفاظت فرمائے تاکہ نکاح وشادی آسان ہوسکے. وماذلک علی اللہ بعزیز.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *