کیا کرونا وائرس سے جنگ ہار رہی ہے دنیا؟

 

کیا کرونا وائرس سے جنگ ہار رہی ہے دنیا ؟

 

نتیجہ فکر :- محمد تفضل عالم مصباحی پورنوی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی 9889916329

 

چین کی سرزمین ووہان کو کرونا وائرس کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے. اس کی شروعات کیسے اور کس وجہ سے ہوئی اس میں ماہرین کی آراء مختلف ہیں.

 

ابتدائی دور میں ماہرین کرونا وائرس کو پلیگ وائرس(طاعون 1857/98) کے مثل سمجھ رہے تھے. آئیے مختصر طور پر پلیگ وائرس (طاعون) کو سمجھ لیتے ہیں. 1857ء میں جب ہندوستان اپنی آزادی کی جدوجہد میں انگریزوں سے جنگ لڑ رہا تھا . اسی زمانے میں پیرس کی سرزمین پر پلیگ وائرس کے اثرات تیزی سے پھیلنے لگے. ہیلتھ سسٹم کے فقدان اور ڈاکٹروں کی کمی کے باعث ایک طویل عرصے تک اس کے اثرات باقی رہے. یہ وائرس دھیرے دھیرے اپنا دامن پھیلاتا ہوا ہندوستان کو اپنی گرفت میں لے لیا. اس وقت ہندوستان میں اس کے سینکڑوں معاملات درج ہوئے. اور سینکڑوں لوگوں کی موتیں بھی ہوئیں . مگر مغربی ممالک میں اس نے جم کر تباہی مچائی. جس سے تقریباً 10 لاکھ لوگ مرے. اس کا سائنسی نام A influenza A virus(a / paris 1857/98(H1N1)) ہے. دور جدید میں میڈیکل سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ انسان کے جسم میں موجود باریک سے باریک ذرات کو نمایاں شکل میں دیکھانے والی، بدنی ٹمپریچر کی پیمائش کرنے والی، خون کی روانی کو جانچنے والی اور دیگر امراض کی موجودہ ہیئت کو بتانے والی مشین تیار کر چکی ہیں. اس کے باوجود دنیا کرونا وائرس سے مقابلہ کرنے میں ناکام و نامراد نظر آ رہی ہے.

 

پلیگ وائرس سے اس زمانے میں دس لاکھ افراد مرے تھے اور اس کے بر عکس کرونا وائرس سے اب تک 601207 سے زائد اموات ہو چکی ہیں ایں ہنوز جاری است. اکیلے ہندوستان کی بات کی جائے تو اس کے کل معاملات 1055932 سے زائد اور 26508 سے بڑھ کر موتیں ہو گئیں ہیں. ستم بالائے ستم کہ کرونا وائرس کا قہر دن بدن جوش مارتا ہوا ریکارڈ توڑ بڑھتا جا رہا ہے.

 

میڈیکل سائنس کے میدان میں نمایاں مقام رکھنے والے ممالک جیسے چین، اٹلی، جاپان، ہندوستان، برازیل، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا اور امریکہ تقریباً 6/ مہینوں سے اس کی ویکسین بنانے میں رات دن صرف کر رہے ہیں اس کے باوجود ہیومین ٹرائل میں ناکام نظر آ رہے ہیں. یہ وائرس اتنی تیزی سے اثر انداز ہوتی ہے کہ سامنے والے کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی. یہ نہ ذات دیکھتی ہے نہ مذہب و ملت، نہ تھالی بجانے والے کو پہچانتی ہے نہ لائٹ آف کرنے والے کو ، نہ گئو موتر سے نہانے والوں کی قدر کرتی ہے نہ سیاسی کرسیوں پر بیٹھے کمبختوں کی. اسی وجہ سے ماہرین کو ایسا لگتا ہے کہ دنیا کرونا وائرس کے ہاتھوں شکست کھا رہی ہے.

 

کرونا وائرس نے ایسا قہر ڈھایا کہ خواب غفلت میں سوئے ہوئے افراد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا. بازار، مالز، کارخانے، اسکول، مدارس، تعلیمی و غیر تعلیمی اداروں کو مقفل کرا دیا. ملکی معیشت کو پٹری سے اتار دیا. بے روزگاری، بھوک مری، غریبی، مفلسی اور تنگدستی کو انسانوں کا مقدر بنا دیا. ترقی کی راہ کو تنزلی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا. اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود سیاست اپنی طوائفانہ رقص کرنے میں لگی ہوئی ہے. خرید و فروخت کا بازار گرم ہے. کرسی کی طمع ذہن و دل کو شیطانیت میں مشغول رکھا ہے. سوشل ڈسٹینسنگ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہے. سیاسی جلسے کرائے جا رہے ہیں. پھر بھی کہتے ہیں کرونا وائرس کی شرح کیسے بڑھ رہی ہے؟ تعجب ہے.

 

کرونا وائرس کے معاملات کا دیگر ممالک میں بڑھنے کے تعلق سےاگرچہ کچھ ممالک ایک دوسرے پر طعنہ زنی کر رہے ہوں . مگر میرا ماننا ہے کہ اس کے فروغ میں سب کے سب برابر کے شریک ہیں. جب چین میں کرونا وائرس کے واقعات بڑھنے لگے. چین تمام ممالک کو اس کی تباہیوں سے آگاہ کیا. مگر کسی بھی ملک نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا. اور نہ کوئی اس کے لئے درست انتظامات کئے. بلکہ اس کے بر عکس سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی زندگی کو مستحکم کرنے میں لگی رہیں. اپنی کمزوریوں، ناکامیوں اور سست روی کو چھپانے کے لئے سائنسی آلات کو چمکانے کی جگہ سیاست چمکانے میں لگے رہے. جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے.

 

جس وقت کرونا وائرس کے دو چار کیس دہلی میں رونما ہوئے اس وقت ہمارے جملے باز وزیراعظم امریکی راشٹرپتی ڈونالڈ ٹرمپ اور اس کی بیٹی کی آمد پر کروڑوں روپے خرچ کرکے احمد آباد کی اسٹیڈیم پر جشن منا رہے تھے . ٹرمپ کی آمد کو اپنی کامیابی اور بھارت کے عصمت کا تابندہ ستارہ بتانے میں نہیں تھک رہے تھے. اس کا نتیجہ دیکھیں کہ آج ہندوستان میں کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہزاروں افراد اس سے مر چکے ہیں. اگر وقت رہتے کرونا وائرس سے لڑنے کی اسکیم بناتے تو لوگوں کی جانیں بچ جاتی، بچے یتیمی کے داغ سے داغدار نہ ہوتے، ماؤں بہنوں کا سہاگ نہ اجڑتا، غریبی مفلسی مقدر نہ بنتی، غریب مزدور دو وقت کی روٹی کے لیے نہ ترستے اور نہ ہی ملک کا نظام درہم برہم ہوتا. اب بھی وقت ہے ہاسپٹلرز میں ڈاکٹروں، وینٹی لیٹروں، دوائیوں کا درست انتظام کریں. تاکہ ملک کا بھلا ہو.

 

کرونا وائرس کے بڑھتے دور میں تمام عوام الناس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کریں. حکومت کی بنائ ہوئی گائیڈ لائنس کی پیروی کریں تاکہ کرونا وائرس کے معاملات مزید نہ بڑھے. ڈاکٹروں، نرسوں، ہیلتھ ورکرز اور پولیس کرمیوں سے نہ الجھیں ان کی قدر کریں.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *