سنت ابراہیمی قربانی کی حقیقت و فضیلت

باسمہ تعالی

*سنت ابراہیمی قربانی کی حقیقت و فضیلت*

از: محمدضیاءالحق ندوی

 

ہر قوم و ملت کے مدعیان نے خود ساختہ فرحت و انبساط کے ایام طے کئے ہیں

لیکن مذہب اسلام کے علم برداروں کے لئے اللہ جل جلالہ وعم نوالہ نے سال میں دو یوم خوشی کے متعین فرمائے ہیں ایک عید الفطر جو دو ماہ پہلے گرز چکی دوسری عید قرباں جو چند یوم بعد آیا چاہتی ہے قربانی کیا ہے؟ علماء نے لکھا ہیکہ لفظ”قربانی “قربان سےمشتق ہے. جس کا مطلب ہے”كل ما يتقرب به إلى الله من ذبيحة أوغيرها”ہروہ چیز جس کے ذریعہ اللہ جل شانہ کی قربت طلب کی جائے . فرمان باری تعالی ہے “واتل عليهم نبأابني آدم بالحق إذ قربا قربانا” سورہ مائدہ ٢٧

اصطلاح شرع میں قربانی نام ہےمخصوص جانورکا مخصوص دنوں میں اللہ کی رضاکےلئے ذبح کرنااوراس کاحکم اللہ جل شانہ نےقرآن مجید میں دیا ہے چنانچہ ارشاد باری ہے “فصل لربك وانحر “اس آیت میں” نماز “سےنمازعیدالاضحی اور “نحر”سےقربانی کاوجوب ثابت ہوتاہے.

قربانی کاآغازسیدنا حضرت آدم علیہ السلام کےزمانےسےہوا قرآن مجید میں اللہ جل شانہ کاارشاد ہے:”اور ان کےسامنےآدم کےدوبیٹوں کاواقعہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کرسناؤجب دونوں نےایک ایک قربانی پیش کی تھی،اوران میں سےایک کی قربانی قبول ہوگئ ،اوردوسرےکی قبول نہ ہوئی. اس نےکہا کہ:میں تجھےقتل کرڈالوں گا. پہلےنےکہاکہ اللہ توان لوگوں سے”قربانی “قبول کرتاہے جومتقی ہوں. سورہ مائدہ ٢٧

روایات سےثابت ہوتاہےکہ حضرت آدم علیہ السلام کےایک بیٹےہابیل نےبارگاہ ایزدی میں ایک عمدہ جانورکی قربانی پیش کی تھی، جس کی قربانی قبول کرلی گئ تھی. اور دوسرےبیٹےقابیل نےکچھ غلہ پیش کيا تھا ،جس کو قبول نہیں کیاگیا. جس سےمعلوم ہواکہ قربانی سیدناحضرت آدم علیہ السلام کےزمانےسے شروع ہوئی اورامت محمدیہ تک ہرملت و مذہب کااس پرعمل رہاہے، قرآن مجیدمیں ایک اورجگہ اللہ جل شانہ کا ارشادہے:”اورہم نےہرامت کےلئےقربانی اس غرض کےلئےمقررکی ہےکہ وہ ان مویشیوں پراللہ کانام لیں جواللہ نےانہیں عطافرمائے ہیں.

قربانی ایک مہتم بالشان عبادت اورشعائراسلام میں سے ہے. قربانی ، ابراہیمی سنت نیزسیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اوران کے سعادت مندفرزند حضرت اسمعیل علیہ السلام کی یادگار ہے حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ سے سوال کیا:یارسوال اللہ :یہ قربانی کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : تمہارےباپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے.صحابہ رضی اللہ عنہم نےعرض کیا : ہمیں قربانی کرنےسے کیافائدہ ہوگا؟فرمایا:ہربال کےبدلے میں ایک نیکی ملےگی. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نےعرض کیا:یارسول اللہ! اون کےبدلےمیں کیا ملےگا ؟فرمایا :اون کےہر بال کےبدلےمیں نیکی ملے گی. ابن ماجہ. کتاب الاضاحی.

قربانی کااصل مقصداور اس کی روح جان کانذرانہ پیش کرنا ہے ، چنانچہ اس سےانسان میں جاں سپاری اورجاں نثاری کاجذبہ پیداہوتا ہے ، قربانی خواہ جانی ہویا مالی یا کسی اور چیز کی بہرحال کامیابی اور اللہ سے قربت حاصل کرنے کابہترین ذریعہ ہواکرتی ہے.

قربانی کی بڑی فضیلت اور تاکیدآئی ہے اوراس عمل میں بڑا اجروثواب ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:ایام قربانی میں کوئی نیک عمل اللہ تعالی کےنزدیک قربانی کاخون بہانےسے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں. قیامت کے دن قربانی کاجانوراپنے بالوں ، سینگوں اور کھروں سمیت آئےگااور قربانی کاخون زمین پر گرنےسےقبل اللہ کےنزدیک قبولیت حاصل کرلیتاہے. لہذاخوش دلی سےقربانی کیاکرو. ترمذی. کتاب الاضاحی

قربانی ایسے آزاد ،مقیم، مسلمان پر واجب ہے جس کےپاس اپنی اصل ضروریات کے علاوہ کوئی بھی سامان یانقدرقم اتنی موجودہو جوساڑھےباون تولہ چاندی کی قیمت کو پہونچ جائے،ضرورت سے زیادہ کپڑے،برتن وغیرہ بھی اگراتنی قیمت کےہوں توقربانی واجب ہوجائےگی. اور جوشخص وسعت کےباوجودقربانی نہ کرےاس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےسخت وعید فرمائی ہے ارشاد ہے ” من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا ابن ماجہ. کتاب الاضاحی

جو شخص وسعت کےباوجود قربانی نہ کرےوہ ہماری عیدگاہ کےقریب نہ آئے.

اللہ سے دعاہیکہ اللہ ہمارے صاحب نصاب و صاحب ثروت برادران اسلام کو راہ خدا میں اپنی جان و مال کی قربانی کی توفیق بخشے .آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *