قربانی کے احکام و مسائل (4

قربانی کے احکام ومسائل (4) ( الجمع الكافي في فقه الأضاحي)

تحریر: شیخ عبد العزیزحمیدی

ترجمہ : ابوعدنان محمد طیب بھواروی

ذبح کے شرائط:

۱۔ ذبح کرنے والا عقلمند اورہوشیار ہو۔

۲۔ ذبح کرنے والا مسلمان یاکتابی ہو۔

۳۔ ذبح کرنےکی نیت کرے۔

۴۔ اللہ کی رضا کے لئے ذبح کرنا مقصود ہو۔

۵۔ ذبح کرتے وقت غیر اللہ کانام نہ لیا جائے۔

۶۔ اللہ کانام لےکرذبح کیا جائے ۔

۷۔ تیز چُھری سے ذبح کیا جائے تاکہ خون زور سے بہنے لگ جائے۔

۸۔ دونوں موٹی رگیں کاٹ کر خون بہایا جائے۔

۹۔ جانورکو ذبح کرنے کی اجازت حاصل ہو۔

قربانی میں اشتراک کی دو شکلیں:

ا۔ اگر قربانی بکرے کی کرنی ہوتو یہ صرف ایک ہی آدمی کی طرف سے ہوگی، جیسا کہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ ایک بکری اپنےاوراپنے گھروالوں کی طرف سے قربانی کرتے تھے جس کو وہ خود کھاتے اورکھلاتے تھے ‘‘ (سنن ترمذی ،سنن ابن ماجہ)

۲۔ اگرقربانی اونٹ اورگائےکی کرنی ہو تو سات آدمیوں تک کا اس کی خریداری میں شراکت جائز ہے، سات سے زیادہ آدمیوں کا اس کی خریداری میں شراکت جائز نہیں ہے، جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، ان کا بیان ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر ہم نے اونٹ اور گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا۔

۳۔ ثواب میں شراکت کامطلب یہ ہےکہ مالک ایک ہو لیکن وہ اپنے ساتھ ثواب میں دوسرے مسلمانوں کو بھی شریک کرے تو یہ جائز ہے چاہے تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو، جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہےجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار مینڈھے کی قربانی کی تو فرمایا ( اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد) ’’ اے اللہ ! محمد آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما، پھر آپ نے قربانی کی ‘‘

قربانی دو طرح سے متعین ہوتی ہے:

۱۔ قول کے ذریعہ : وہ اس طرح کہ جب دریافت کیا جائے کہ یہ کیا ہےتو کہے یہ قربانی اللہ کے لئے ہے دل میں اس کاعزم وارادہ ہو۔

۲۔ عمل کے ذریعہ : اور اس کی دوشکل ہے:

(ا) قربانی کی نیت سے اس کو ذبح کرے۔

(ب) قربانی کی نیت سےاس کو خریدے یہ اس صورت کے لئے خاص ہے جب قربانی کے جانور کا بدل یعنی قربانی کا جانورمتعین تھا لیکن اس کی حفاظت کے بارے میں کوتاہی سے کام لیا اور وہ گم ہوگیا، مرگیا یا چوری ہوگیا۔

جب قربانی کا جانورمتعین ہوجائے تو اس کے تحت کچھ احکام ہیں:

۱۔ خرید یا یاقول کے ذریعہ قربانی کا جانور متعین کرے تو پھراسے کسی کو ہدیہ یا صدقہ نہ دے بلکہ ضروری ہے کہ اسے ذبح کرے پھر اس کے بعد اس میں سے ہدیہ اور صدقہ کرے اورکھائے اسی طرح اس جانور کا بیچنا بھی جائز نہیں ہے الا یہ کہ اس کے بدلے اس سے بہتر جانور لینا ہو۔

۲۔ جب کوئی شخص قربانی کا جانورمتعین کردینے کے بعد مرجائے تو اس کے ورثہ کے ذمہ اس جانور کی قربانی ضروری ہے۔

۳۔ اس کی کسی چیزسے فائدہ نہ اٹھایا جائےجیسےاس کا اون کاٹنا الا یہ کہ اس کے کاٹنےمیں اس جانور کی مصلحت پیش نظر ہو تو اسے کاٹ سکتا ہے لیکن اسے کاٹ کر بیچے نہیں ، البتہ اس کو استعمال میں لاسکتا اور ہدیہ کرسکتا ہے اس طرح اس جانور کو کھیتی باڑی کے کاموں میں بھی استعمال نہیں کرسکتا ۔

۴۔ اگرجانورمیں کوئی ایساعیب پیدا ہوجائےجس کی موجودگی میں قربانی کے طور سے ذبح نہیں کیا جاسکتا تو اس کی دو صورتیں ہیں:

ا۔ یہ عیب اس کی کوتاہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہو تو ایسی صورت میں اس جانور کے برابر یا اس سے بہتر جانورکا تاوان دینا ضروری ہے اورعیب دار جانور اس کی ملکیت میں لوٹ جائے گی جس میں تصرف کرنے کا اسے اختیار رہے گا۔

ب۔ عیب پیدا ہونے میں اس کی کوتاہی کا دخل نہ ہو تو اس جانور کو ذبح کرےگا اور وہ اس کی طرف سے کافی ہوگا۔

۴۔ اگرقربانی کا جانورگم ہوجائے یا چوری ہوجائے تواس کاحکم گزشتہ تفصیل کے مطابق ہوگا یعنی اگرجانورکے گم ہونےیا چوری ہونے میں اس کی کوتاہی کا دخل ہے تو اس پرضمان لاگو ہوگا اور اگر اس کی کوتاہی نہیں ہوگی تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے۔

۵۔ اگرقربانی کا جانورہلاک ہوجائے تو اس کی تین شکلیں ہیں:

ا۔ اس کے ہلاک ہونے میں کسی آدمی کا عمل دخل نہ ہو بلکہ بیماری یاآفت سماوی اس کا سبب ہو تو اس پر کچھ نہیں ہے۔

ب۔ اگر وہ جانور مالک سے ہلاک ہواہو تو ایسی صورت میں اس پر ضمان لاگو ہوگا۔

ج۔ وہ جانورکسی ایسے آدمی کی وجہ سے ہلاک ہواہو کہ اس سے ضمان لیناممکن نہ ہو جیسے ڈاکو وغیرہ تو اس پر کچھ نہیں ہے، اگر ضمانت لینا ممکن ہو تو ضمانت دے۔

۶۔ قربانی کا جانور جب اس کے مالک اور وکیل کے علاوہ کوئی اور شخص ذبح کرے تو اس کی تین شکلیں ہیں:

ا۔ جانور کےمالک کی طرف سے ذبح کرنے کی نیت کرے اگر جانور کا مالک اسے قبول کرلےتو قربانی درست سمجھی جائے گی اگر وہ اس کو قبول نہیں کرتا تو ذبح کرنے والے پر تاوان لاگو ہوگا۔

ب۔ اپنی طرف سے ذبح کرنے کی نیت کرے نہ کہ جانور کے مالک کی طرف سے اگر وہ جانتا ہو کہ یہ جانور دوسرے کا ہے تو یہ قربانی نہ اس کی طرف سے کافی ہوگی اور نہ دوسرے کی طرف سے ، اور اس پر تاوان ضروری ہوگا۔

ج۔ کسی کی طرف سےمطلقا نیت نہ کرے نہ اپنی طرف سے نہ دوسرے کی طرف سے پھر تو یہ قربانی کسی کی طرف سے درست نہیں ہوگی اور اس پرتاوان لاگو ہوگا۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *