قربانی کے احکام و مسائل

قربانی کے احکام ومسائل (5) ( الجمع الكافي في فقه الأضاحي)

تحریر: شیخ عبد العزیزحمیدی

ترجمہ : ابوعدنان محمد طیب بھواروی

 

۷۔ ضروری ہےکہ کم ازکم اتنا گوشت صدقہ کرے کہ اس کوگوشت کہا جاسکے، اورمستحب ہے کہ اس میں سے اتنی مقدار میں کھائے کہ اسے کھانا کہا جاسکے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں سے کچھ نہ کچھ کھانا ضروری ہےیہ ابن حزم وغیرہ کا قول ہے،اور یہی احوط ہےکیوں کہ فرمان الہی ہے، ( فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَ) (سورہ حج آیت : ۲8) ’’ پس تم لوگ اس کا گوشت کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ ‘‘

۸۔ جب جانورمتعین کردیا جائے تو اس جانورکی کوئی چیز نہ بیچی جائے اور قصاب کو اس میں سے مزدوری نہ دی جائے۔

فائدہ : قربانی کےگوشت کا (کچھ حصہ ) صدقہ کرنا واجب ہے، جب جانور ذبح کرنے کے بعد گوشت چوری ہوجائے یا ایسا آدمی گوشت لے لے جس سے مطالبہ کرنا ممکن نہ ہو تو اگراس کی کوتاہی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو ایسی صورت میں صدقہ کے بقدر اس پرتاوان ہے جس کا وہ صدقہ کرے اگرایسا اس کی کوتاہی کی وجہ سے نہیں ہے تو اس پرکچھ نہیں ہے۔

نوٹ: قربانی کےجانورکی ہڈی توڑنےمیں کوئی مضائقہ نہیں ہے برخلاف اس کے جو بعض لوگ اسے ناجائز سمجھتے ہیں۔

فائدہ : قربانی کا جانورمتعین ہوجانے کےبعد بچہ جنے تو اس کے بچہ کا حکم ماں کے حکم کا ہے۔

فائدہ : جب جانور فروخت کرنے والا یہ کہے کہ گائے ایک سال یا دوسال کی ہے تو اگر وہ ثقہ ہے تو اس کی بات مانی جائے گی اس لئے کہ یہ دین سے متعلقہ خبر ہے، اور اگر جانورفروخت کرنے والا ثقہ نہیں ہے تو پھر اس کی عمر سے متعلق تحقیق کرنا ضروری ہے ۔

فائدہ : حاجیوں کے لئے بھی قربانی اسی طرح مستحب ہے جس طرح غیرحاجیوں کے لئے مستحب ہے جمہورعلماﺀ کا قول یہی ہے۔

فائدہ : جس طرح بکرے کی قربانی کرنے والوں کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے ثواب میں دوسروں کو شریک کرلےاسی طرح اونٹ اور گائے کے ساتویں حصے میں شرکت کرنے والوں کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو ثواب میں شریک قرار دے ۔

قربانی کرنے والوں کے لئے کن چیزوں سے بچنا ضروری ہے:

جو شخص قربانی کرناچاہتا ہو خواہ وہ خود ذبح کرے یاذبح کرنے کے لئے کسی کو وکیل بنائے اس کے لئے درج ذیل چیزوں سے اجتناب ضروری ہے:

۱۔ بال کاٹنا۔

۲۔ ناخن کاٹنا۔

۳۔ اپنے جسم کے کسی حصہ کاچمڑا لینا۔

یہ حکم ذی قعدہ کے انتیسویں یا تیسویں دن کے سورج ڈوبنے کے بعد ذی الحجہ کی پہلی رات سےیا ذی الحجہ کا چاند دیکھنے سے قربانی کرنےتک کے لئے ہے، چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے، فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کو امام بخاری کےعلاوہ تمام اہل الستہ نے روایت کیا ہے ( إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحي فليمسك عن شعره وأظفاره ) ” جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لواورتمہارا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اپنے بالوں اور ناخنوں کو کاٹنے اورتراشنے سے رک جاؤ‘‘ (أخرجه مسلم في كتاب الأضاحي ، باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو مريد التضحية أن يأخذ من شعره أو أظفاره شيئاً رقم ( 1977 ) 3 / 1565 ، والترمذي وصححه في كتاب الأضاحي ، باب ترك أخذ الشعر لمن أراد أن يضحي رقم ( 1523 ) 4 / )

اورصحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے (فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا ) ’’ اپنے بال اورچمڑے میں سے کچھ نہ چھوئے‘‘ ایک اورروایت میں ہے (فلا يأخذ من شعره ولا من أظفاره شيئا حتى يضحي )’’ قربانی کرنے تک اپنے بالوں اورناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے‘‘

بالوں میں کنگھی کرنےمیں کوئی حرج نہیں ہےاگرچہ اس کی وجہ سےکچھ بال گرجائیں، اگر کسی شخص کو بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ لینا پڑجائےجیسے کوئی ناخن ٹوٹ جائے یازخم کے علاج کے لئے بال کاٹنا ضروری پڑجائےتو پھرکوئی حرج نہیں ہے، جو شخص بھول کر یہ کوئی کام کرے تو اس پرکوئی گناہ نہیں ہے۔

نوٹ: جس نے قصدا ناخن، بال یا چمڑا کاٹا تو اس نے فعل حرام کا ارتکاب کیا اس لئے اس پر توبہ کرنا ضروری ہےاور اس کی قربانی صحیح اور مقبول ہے۔

جب ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہوا اور قربانی کی نیت نہیں تھی ، پھرعشرہ کے درمیان یا آخرمیں قربانی کی نیت کرلےتواسے چاہئے کہ وہ اپنا بال ، ناخن اور چمڑا کاٹنے سے رک جائے، اور جو کچھ اس سے پہلے کاٹ چکا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لئے کہ اس نے قربانی کی نیت نہیں کی تھی۔

نوٹ : ان چیزوں سے بچنا صرف ان لوگوں کے لئے خاص ہے جوقربانی کرنا چاہتے ہوں البتہ گھر والوں اور خاندان والوں میں سے جن کی طرف سے قربانی کی جاری ہے ان پر کچھ حرج نہیں ہے۔

ابوعدنان محمد طیب بھواروی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات فی المجمعہ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *