عشرہ ذی الحجہ کے فضائل و اعمال (2

عشره ذی الحجہ کے فضائل واعمال (2

 

ابوعدنان محمد طیب بھواروی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات المجمعۃ ۔ المملکۃ العربیۃ السعودیۃ

 

عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اس کا نواں دن یوم عرفہ ہے، یہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالی نے دین اسلام کو مکمل فرمایا اور اہل اسلام پر اپنی نعمت کو پورا فرمایا اور یہی وہ عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالی کثرت سے گنہگاروں کو جہنم کی آگ سے آزادی عطافرماتا ہے، اس لئے ہر مسلمان کو حتی الامکان عشرۂ ذی الحجہ کی قدر کرکے زیادہ سے زیادہ حصول ثواب کی فکر کرنی چاہئے۔

اعمال : کثرت سے تسبیح وتحمید اور تہلیل پڑھنا: اس عشرۂ میں تکبیروتحمید اورتہلیل کا بکثرت ورد کرنا مسنون ہے،{ مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنْ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ)’’ اللہ کے نزدیک ان دس دنوں میں عمل صالح کرنا جس قدر محبوب اور عظیم المرتبت ہے اتنا دوسرے دنوں میں محبوب نہیں ہے اس لئے تم ان دس دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ ، اللہ اکبر اور الحمد للہ کہا کرو‘‘( مسند احمد ، طبرانی)

تکبیر کے کوئ خاص الفاظ وصیغے آپ صلى الله عليه وسلم سے ثابت نہیں ہیں بلکہ جتنے بھی الفاظ وصیغے ہیں وہ صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ماثور ومنقول ہیں ۔ ملاحظہ ہو ( ارواء الغلیل ج۳/ ۱۲۵)

تکبیرات کے صیغے یہ ہیں : (۱) الله أكبر الله أكبركبيرا .

(2) الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد.

اور تکبیر دوطرح سے کہنا مشروع ہے:

(۱) تکبیر مطلق۔ (۲) تکبیر مقید۔

تکبیرمطلق کا مطلب یہ ہے کہ ہر آن اور ہر لمحہ مسجدوں ،گھروں، بازاروں، گلی کوچوں، راستوں، فرض اور نفلی نمازوں کے بعد، اورہر اس جگہ جہاں اللہ کے ذکر کی اجازت ہے تکبیر کہتا رہے ، یہ تکبیر مطلق ہے اور اس کا وقت ذی الحجہ کا چاند نکلنے ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔

تکبیر مقید یہ ہے کہ عرفہ کے دن فجر کی نماز کے بعد سے تکبیر کہنا شروع کیاجائے اور ایام تشریق کے آخری دن کے نمازعصر تک تکبیر کہتا رہے ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں تکبیر کی ابتداء اور انتہاء کے بارے میں مختلف اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام سے اس سلسلہ میں کوئ حدیث ثابت نہیں ہے ، البتہ حضرات صحابہ سے اس سلسلے میں جو کچھ وارد ہیں اس میں سب سے زیادہ صحیح قول حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کاہے کہ تکبیر مقید کا وقت یوم عرفہ کی صبح سے شروع ہوکر منی کے آخری دن تک رہتا ہے، ابن المنذر وغیرہ نے اس کو بیان کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو (فتح الباری ج۲/ ۴۶۲)

ابن قدامہ المقدسی المغنی میں فرماتے ہیں کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ کس حدیث کی بنیاد پر آپ یہ کہتے ہیں کہ تکبیر مقید عرفہ کے دن نماز فجر سے شروع کیا جائے اور ایام تشریق کے آخری دن تک ختم کیا جائے تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا اس پر حضرت عمر، حضرت علی اورحضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع رہاہے۔ انتہی کلامہ، ملاحظہ ہو ( المغنی ۲۸۹۳۳ ، ارواء الغلیل ج۳/ ۱۲۵)

مرد بآواز بلند تکبیر کہیں گے اور عورتیں آہستہ آہستہ تکبیریں کہیں گی، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ ان دس دنوں میں حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما تکبیر پکارتے ہوئے بازار نکلتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے، ملاحظہ ہو (صحیح بخاری کتاب العیدین)

مقصد یہ تھا کہ تکبیر سن کر لوگوں کو تکبیر یاد آجائے اور لوگ بھی تکبیر پڑھنا شروع کردیں ، ہاں ایک بات مد نظر رہے کہ بیک آواز اجتماعی تکبیر نہ پکارا جائے کیوں کہ ایسا کرنا مشروع اور جائز نہیں ہے، بلکہ ہر آدمی علیحدہ علیحدہ تکبیر پکارے، آج تکبیر کہنے کی سنت ہمارے درمیان سے ختم ہوتی جارہی ہے، بہت کم لوگوں کو آپ تکبیر کہتے ہوئےسنیں گے، اس لئے سنت کو زندہ کرنے کے لئے ہمیں کثرت سے تکبیرات کا اہتمام کرنا چاہئے، اگر ہم نے اس مردہ سنت کو زندہ کیا تو یقین جانئے اس میں ہمارے لئے عظیم ثواب ہے، فرمان نبوی صلى الله عليه وسلم ہے {من أحيا سنة من سنتي قد أميتت بعدي فإن له من الأجر مثل من عمل بها من غير أن ينقص من أجورهم شيئا }’’جس نے میری سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد چھوڑدی گئ تھی تو اس کے لئےان لوگوں کی مانند ثواب ہےجنہوں نے اس پر عمل کیا بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں سے کچھ کم کیا جائے‘‘ (سنن ترمذی ، یہ حدیث اپنی شواہد کی بناپر حسن ہے (

اس لئے ہمیں ذی الحجہ کے ان ابتدائ دس دنوں میں کثرت سے اللہ رب العزت کی بڑائ ،بزرگی اور اس کی تحمید وتقدیس بیان کرنی چاہئے۔ جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابوعدنان محمد طیب بھواروی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات المجمعۃ ۔ المملکۃ العربیۃ السعودیۃ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *