عشرہ ذی الحجہ کے فضائل و اعمال (3

عشره ذی الحجہ کے فضائل واعمال (3)

 

ابوعدنان محمد طیب بھواروی

جمعية الدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات في المجمعة

 

یوم عرفہ کا روزہ رکھنا: اس دن روزہ رکھنے کا بڑا اجر وثواب ہے اور یہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا { صيام يوم عرفة إني أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله والتي بعده } ’’ عرفہ۹/ ذی الحجہ کےدن کے روزہ کے بارے میں مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ اگلے اور پچھلے دو سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے‘‘ (صحیح مسلم)

یہ روزہ غیر حاجیوں کے لئے مستحب ہے البتہ حاجیوں کے لئے اس دن کاروزہ رکھنا مسنون نہیں ہے، کیوں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، چنانچہ ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ لوگ ان کے پاس جھگڑا کرنے لگے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے عرفہ کو روزہ رکھا ہے یا نہیں کچھ نے کہا آپ روزے سے ہیں اور کچھ نے کہا نہیں آپ روزے سے نہیں ہیں ، پھر ام الفضل نے دودھ کا ایک پیالہ آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس بھیجا ،آپ اونٹ پر سوا ر تھے، آپ نے پی لیا۔” (صحیح بخاری وصحیح مسلم )

عرفہ کے دن دعا کرنا : عرفہ کے دن دعا کرنے کی بڑی فضیلت ہے، نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: {خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي { لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} ’’سب سے بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اورسب سے افضل دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام نے کی وہ یہ ہے ‘‘

( لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)

علامہ ابن عبد البررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ یوم عرفہ کی دعا اکثروبیشتر قابل قبول ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو (کتاب التمہید ج۶/ ۴۱)

اس لئے جو لوگ حج پر نہیں گئے ہوں انہیں بھی چاہئے کہ اس عظیم دن میں دعا کا اہتمام کریں اور قبولیت دعا کی امید میں اپنے لئے اور اپنے والدین، بیوی، بچے، تمام مسلمانوں اور دین اسلام کی سربلندی کے لئے دعا کریں۔

حج وعمرہ کرنا : اس عشرہ میں کئے جانے والے بہترین اعمال میں سے ایک بہترین عمل اللہ کے گھر کاحج بھی کرنا ہے اور جسے اللہ اپنے گھر کے حج کی توفیق دے اور وہ حج کے اعمال کو بحسن وخوبی انجام دے تو اسے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے فرمان کے مطابق جنت ضرور ملے گی، ارشادنبوی صلى الله عليه وسلم ہے،{الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلا الْجَنَّةُ} ’’حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے‘‘

اعمال صالحہ کا اہتمام: اس عشرہ میں نیک عمل اللہ تعالی کو بہت ہی محبوب ہے اس لئے جو شخص حج پر قادر نہ ہو اسے چاہئے کہ کہ اس سنہرے ایام اور مبارک اوقات کو اللہ کی اطاعت میں لگائے، یعنی نماز، تلاوت قرآن، ذکر الہی، دعا ، صدقہ ، والدین کی اطاعت، صلہ رحمی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر علاوہ ازیں نیک اور اطاعت کے جوبھی راستے ہوں اس کو انجام دے ۔

سچی توبہ : ویسے تمام ہی اوقات میں مسلمانوں پر توبہ کرنا واجب ہے لیکن سنہرے ایام اورمبارک ساعات واوقات میں توبہ کرنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس لئے ہمیں اس عشرہ کو باعث غنیمت سمجھتے ہوئے اللہ کے سامنے سچی توبہ کرنا چاہئے اور توبہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے ،کیوں کہ کوئ نہیں جانتا کہ اسے کس لمحہ موت آجائے اور پھر اسے توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو اور اگر کسی مسلمان کو اس سنہرے ایام اورمبارک اوقات میں نیک اعمال کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ توبہ کی توفیق بھی نصیب ہوجائے تویہ اس کی کامیابی کی دلیل ہے، فرمان الہی ہے {فَأَمَّا مَنْ تَابَ وَآَمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسَى أَنْ يَكُونَ مِنَ المُفْلِحِينَ} ’’ ہاں جو شخص توبہ کرلےایمان لے آئے اور نیک کام کرےیقین ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں سے ہوجائے گا‘‘ (سورۃ القصص آیت: ۶۷)

دس ذی الحجہ کو قربانی کرنا : اس دن ساری دنیا کے مسلمان قربانی کرتے ہیں جس کو یوم النحر کہا جاتا ہے، اس دن تمام اعمال سے افضل قربانی کا خون بہانا ہے، فرمان نبوی صلى الله عليه وسلم ہے{ إِنَّ أَعْظَمَ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ} ’’ تمام دنوں سے بہتر اللہ کے نزدیک قربانی کا دن ہے ، پھر منی میں ٹہرنے کا دن ہے ‘‘ ( سنن ابوداؤد اس حدیث کی اسناد جید ہے ، ملاحظہ ہو تحقیق مشکاۃ ج۲/ ۸۱۰)

قربانی کا ثبوت قرآن وحدیث اور اجماع امت سے ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالی نے دو مقامات پر نمازاور قربانی کا ایک ساتھ ذکر فرماکر قربانی کی اہمیت کو اجاگرکیا ہے، سورۃ الکوثر میں اللہ تعالی نے واضح طور پر نماز کے ساتھ قربانی کا حکم دیا ہے {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ }’’ پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر ‘‘ اس طرح ایک دوسری جگہ نماز اور قربانی کا ذکرساتھ ساتھ کیا گیا ہے ، ارشاد الہی ہے { قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للهِ رَبِّ العَالَمِينَ } “ بیشک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے‘‘ (سورۃ الانعام آیت: ۱۶۲ )

نیز اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی میں باقاعدگی کے ساتھ ہرسال قربانی کی اور اپنی امت کو بھی تاکید فرمائ کہ ان کا ہر گھرانہ ہر سال قربانی دے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں { أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي } ’’ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا اور ہرسال قربانی کی ” ( سنن ترمذی)

حضرت محنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا {يا أيها الناس إن على كل أهل بيت في كل عام أضحية} ’’اے لوگو! ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی ہے‘‘ (سنن ابوداؤد ،سنن ترمذی، الفاظ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کوصحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو ( صحیح سنن ترمذی ج۲/۹۳)

معلوم ہوا کہ قربانی سنت مستمرہ ہے یہ اسلام کا شعار اور اسلامی تہذیب وتاریخ کا ایک بڑا نشان ہے، عہد نبوی صلى الله عليه وسلم سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کااسی پر عمل رہاہے، اور تا قیام قیامت اس پرعمل رہے گا۔ ان شاء اللہ۔

جانورکی قربانی کرتے وقت ایک مسلمان کے اندر یہ جذبہ زندہ رہناچاہئے کہ گرچہ ہم ایک جانور کو اللہ کی راہ میں قربانی کررہے ہیں لیکن درحقیقت ہم اللہ کے راستہ میں اپنی محبوب سے محبوب ترین شئ کو بھی قربان کرسکتے ہیں ، یاد رکھیں دنیا کا کوئ نظام بغیرایثار وقربانی کے زندہ نہیں رہ سکتا ، قوموں کے عروج وبقاء کے لئے قربانی ناگزیر اور ضروری ہے، دنیا میں سرداری وسربلندی سے وہی قوم ہمکنار ہوسکتی ہے جس کے اندر ایثار وقربانی کاجذبہ بدرجہ اتم موجود ہو۔

آج بھی ہوجو ابراہیم سا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)

ابوعدنان محمد طیب بھواروی

جمعية الدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات في المجمعة

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *