اولاد اور فکر تعلیم:ایک جائزہ

*بسم اللہ الرحمن الرحیم.*

……………………………….

*” اولاد اور فکرِ تعلیم ایک جائزہ “*

……………………………….

*از:سرفراز عالم ابوطلحہ ندوی بابوآن ارریہ* .

موبائل : 9905476157

……………………………….

 

آئے دن دنیا ترقی کے نئے منازل کو طئے کر رہی ہے ، ہمارے زندگی گزارنے کے ذرائع و وسائل آسان اور مضبوط ہوتے جارہے ہیں، میلوں کا دشوار گذار سفر انسان منٹوں میں نہایت آسانی کے ساتھ طئے کر رہا ہے ، ان تمام تر ترقیوں کے باوجود اگر کوئی قوم تعلیم کے میدان میں پیچھے ہے تو پھر وہ قوم کبھی بھی کامیابی وکامرانی سے ہم کنار نہیں ہوسکتی اور یوں سمجھ لیں کہ ذلت ورسوائی اس قوم کا مقدر بن چکی ہے، تعلیم سے دور ہوکر اس نے درد درد کی ٹھوکریں انھوں نے خود اپنے مقدر کی ہیں، آج امریکہ، روس، جاپان، چین اور فرانس اور دیگر ممالک اتنے آگے کیوں ہیں کیا وجہ ہے کہ دنیا ان کے آگے اپنا سر جھکاتی ہے ، وجہ صرف تعلیم ہے جو دیگر ملکوں کے سامنے انھیں نمایاں کئے ہوئی ہے اور دوسروں کو اپنے سامنے جھکنے کو مجبور کئے ہوئی ہے وگرنہ دیگر کوئی خوبی نہیں، اس لئے آج ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے تعلیم اگر آپ اپنے بچوں اور اور اپنے قوم کا مستقبل تابناک روشن چاہتے ہیں تو انھیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا ،گرچہ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کی خاطرہمارےاپنے لوزمات یومیہ میں کمی کرنے کی ضرورت پڑے تو ہم اس کے لئے بھی تیار رہیں، بچوں کی تعلیم کی خاطر ہم ہزار پریشانیاں جھیل لیں لیکن بچوں کی تعلیم سے کوئی سمجھوتہ نہ کریں، جہاں تک ہواپنی اولاد کو دینی مدارس اور عصری جامعات سے باکمال عالم دین اور باکمال انجینئر ڈاکٹر بنائیں، اس سے آپ کی زندگی میں چار چاند لگ جائے گا، اور دنیا کے ساتھ آپ کی آخرت بھی سنور جائے گی ، تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی قوم کا رشتہ تعلیم سے جڑا ہے وہ قوم خود بخود دوسری قوموں پر ممتاز ہوئی ہے اور دوسری قوموں نے اس کی سرداری تسلیم کی ہیں ، اگر آپ اپنے معاشرہ کو ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی جماعتوں میں سب سے اونچے اور اعلی پوزیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو شرط ہے کہ آپ اپنی اولاد کو تعلیم یافتہ بنائیں، انہیں بڑے سی بڑےجامعات اور بڑے سے بڑے کالجوں میں داخلہ کروائیں، انہیں ڈاکٹر، انجینئر، فلاسفر، ماہر لسانیات اور ماہر نفسیات اسی طرح ماہر قلم و زبان اور ایک اچھے ادیب و شاعر بنائیں، ان سب چیزوں کو آپ اسی وقت کر سکتے ہیں جب آپ اپنے بچوں اور بچیوں کو تہذیب و ثقافت ادب واحترام سے لیس کر کر انہیں بچپن سے ہی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں گے ، ان کی دیکھ بھال اور پروش و پرداخت ایسے ماحول میں کریں، جہاں کے بچے اور بچیاں مہذب ہوں ،تہذیب و تمدن اور ثقافت و صداقت کا پیکر ہوں، اور تعلیمی وتربیتی میدان میں آگے ہوں ، ان کے ہمراہ اپنے بچوں کو چھوڑ دیں، چاہے اس کے لئے آپ کو اپنے علاقے قریہ کو چھوڑنا ہی کیوں نہ پڑے ،تب جاکر آپ کے بچے اور بچیاں تعلیم یافتہ ہونگے پھر کامیابی و کامرانی اور ترقی قدم بوسی کریں گی، ان شاء اللہ. یہ میرا دعویٰ ہے.

 

لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اور آپ اپنے بچوں اور بچیوں کو تعلیم سے محروم نہ کریں انہیں ضرور تعلیم یافتہ بنائیں.

اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی سمجھ عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *