قربانی ایک عظیم عبادت اور حکم الہی کا مظہر ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قربانی ایک عظیم عبادت اور حکم الہی کا مظہر ہے

از قلم : عبداللہ ندوی

معزز قارئین کرام! اللہ رب العالمین کا بےحد احسان و کرم ہے کہ اس ذات و ہستی نے ہمیں اسلام جیسی عظیم الشان اور مہتم بالشان دولت سے نوازا ہے، جس بنا پر ہم مسلمان کہلاتے ہیں، اسی لئے اللہ تبارک و تعالٰی کے حقوق کو سمجھنا اور احکام و فرامین کو ماننا اور تسلیم کرنا ہمارے لئے نہایت ہی ضروری ہے، انہی احکام و فرامین میں سے ” قربانی ” بھی ایک عظیم الشان عبادت ہے، جو ہر صاحب نصاب مرد و عورت پر واجب ہے، اس لئے انسان کو چاہئے کہ اپنی روح، بدن، اور مال سے برابر اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیں، بدنی و روحی عبادات میں سب سے بڑی چیز نماز ہے، اور مالی عبادات میں قربانی ایک ممتاز حیثیت اور مقام رکھتی ہے، کیونکہ قربانی کی اصل حقیقت جان کا قربان کرنا ہے، لیکن جانور کی قربانی کو بعض حکمتوں اور مصلحتوں کی بنا پر اس کے قائم مقام کر دیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کے قصہ سے عیاں ہوتا ہے، اس لئے قرآن مجید میں نماز اور قربانی کا ذکر ساتھ ساتھ کیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے ( قل إن صلاتي و نسكي و محياي و مماتي لله رب العالمين ) اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کہ دیجئے کہ بےشک میری نماز اور قربانی میرا جینا اور مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے، دوسری جگہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کا فرمان ہے ( فصل لربك و انحر ) اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی دیجئے، قرآن حکیم کی ان آیتوں سے قربانی کرنے کا وجوب اور حکم ملتا ہے، لہذا بحیثیت مسلمان استطاعت بھر ہمیں اللہ جل جلالہ و عم نوالہ کی رضا و خوشنودی کے لئے قربانی کا اہتمام کرنا چاہیے، ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی گوش گزار کر تا چلوں کہ قربانی کا مقصد صرف اور صرف ” تقوی ” ہے یعنی قربانی نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے، نام و نمود، شہرت، ریاکاری، اور دکھلاوا سے بالکلیہ اجتناب کیا جائے، ورنہ قربانی کا جو ثواب ہے اس سے محرومی مقدر ہے، بہت سارے لوگ جانوروں کی خریداری میں تقابلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اور نمائش کے لئے لوگوں کے سامنے پیش کر تے ہیں یہ دکھلاوا ہے جو قطعا جائز اور درست نہیں یہ قربانی ہے تماشہ نہیں لہذا اس سے بچا جائے، مگر ہاں قربانی کے جانور کو بالکل تندرست، توانا، موٹا، فربہ، اور سارے ہی عیوب اور نقوص سے پاک ہونا چاہئے اور یہی مقصود ہے، ایک دم لاغر، کمزور، دبلا پتلا، جو از خود چل پھر بھی نہیں سکتا ہو عیب دار ہو ایسے جانوروں کی قربانی درست نہیں ہے.

محترم قارئین : قربانی از خود کرنا چاہیے یہ افضل ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے اندر بہادری، ہمت، شجاعت، اور دلیری پیدا ہو تی ہے، ڈر اور خوف دور ہوتا ہے، اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم خود اپنے ہاتھوں سے جانور ذبح فرماتے تھے اور قربانی کیا کرتے تھے، یاد رہے کہ تقوی اور اخلاص آپ کے قلب و جگر میں موجزن ہونا چاہئے ورنہ سب بےسود، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے ( لن ينال الله لحومها و لا دمائها و لكن يناله التقوى منكم ) اللہ پاک کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہونچتا بلکہ تمہارا تقوی پہونچتا ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے ( إن الله لا ينظر الى أجسامكم و لا إلى صوركم ولكن ينظر الى قلوبكم و أعمالكم ) رواه مسلم.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالٰی تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دل اور اعمال کو دیکھتا ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم قربانی جیسی عظیم الشان عبادت کے فریضہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں انجام دیں، ریاکاری اور نمائش سے حتی الوسع بچیں تاکہ اللہ تعالی کے یہاں ہماری قربانی اور ہمارے سارے ہی نیک اعمال قبول ہو، دعاء گو ہوں کہ اللہ رب العزت نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ ہمیں قربانی کی توفیق دے، تمام رکاوٹوں کو دور فرمائے، اور بھرپور اجر و ثواب سے نوازے، آمین یارب العالمین، وما توفیقی الا باللہ۔

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *