مختصر احکام و مسائل عید قرباں

مختصر احکام ومسائل عید قرباں

امانت اللہ سہیل تیمی

مترجم جالیات سعودی عرب

 

 

قربانی کے جانور اور احکام :

 

قربانی کے وہ جانور جو حلال ہیں وه ۔۔۔ بھیڑ، بکرا، مینڈھا ،اونٹ ،گائے اور بیل ہیں

جیساکہ فرمان باری تعالی ہے

“اور ہم نے ہر امت میں قربانی اس لئے مقرر کیا تاکہ وہ ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا کیا ہے” (الحج ٣٤)

١ ۔ قربانی میں عیب دار جانور ذبح نہیں کرنا چاہئیے جیسے واضح طور پر آنکھ کا کانا،ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو،لنگڑا جس کا لنگڑاپن دکھائ دے، کمزور اور لاغر جانور جس میں چربی نہ ہو اور کان میں سوراخ بھی نہ ہو وغیرہ ۔

٢۔ جب بکرا یا بکری اور گائے بیل دو سال مکمل کرکے تیسرے سال میں داخل ہو یا مسنہ دنتا ہوا ہو تو وہ قربانی کے قابل ہوتا ہے اسی طرح دنبہ ایک سال سے زائد کا ہو اور اونٹ چھ سال کا ہو تو قربانی کے لائق ہے( مسلم مشکوة ص ١٢٧)۔

٣۔ خصی ہونا عیب نہیں ہے خصی کیا ہوا جانور بلا کراہت جائز ہے۔( سنن ابی داود ج١ ص ٣)

٤۔ قربانی کا جانور خوب موٹا تازہ سینگ دار بے عیب عمدہ خوبصورت ہونا چاہیئے (ترمذی) بغیر سینگ والے جانور جو عیوب و نقائص سے پاک ہو قربانی درست ہے( سعودی فتوی کمیٹی)

٥۔ حاملہ جانور کا ذبح کرنا ہی پیٹ کے بچے کے تزکیہ کے لئے کافی ہے دل چاہے تو اسے بھی کھایا جاسکتا ہے اور ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ۔ (سنن ابی داود)

٦۔ قربانی کے جانور کی خریداری دیکھ کر کرنا چاہئے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہیکہ ہم جانور کی آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھیں ۔( ترمذی)

٧۔ افضل قربانی اونٹ کی، پھر گائے کی ، پھر بکرا بھیڑ ، دنبہ کی ،اور پھر بقدر استطاعت اونٹ یا گائے میں شرکت کرنا ۔

(سعودی فتوی کمیٹی )

٨۔ قربانی کا جانور دانت والا ہونا چاہئے اور اس کا ملنا مشکل ہو تو ایک سال یا اس کے قریب قریب کا بھیڑ کی قربانی جائز ہے۔( مسلم)

 

قربانی کا وقت :

 

قربانی کا افضل ترین وقت عید کی نماز کے بعد ہے ایام تشریق ١١، ١٢، ١٣، ذی الحجہ کو سورج غروب ہونے تک قربانی صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔(صیحح الجامع الصغیر)

مگر کسی نے نماز عید سے پہلے ہی قربانی کر دیا تو اس کی قربانی مقبول نہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “من ذبح قبل الصلاة فإنما يذبح لنفسه ”

کہ’ جس نماز سے پہلے ہی قربانی کردی تو اس نے اپنے لئے ذبح کیا ‘

اور فرمایا ” من ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه ”

کہ نماز کے بعد کی قربانی قابل قبول ہے۔ (بخاری نیل الاوطار ج ٥ ص ١٤)

جانور ذبح کرنے کے آداب :

١۔ سب سے پہلے جانور ذبح کرتے وقت ‘ بسم اللہ اکبر ‘ کہنا ضروری ہے ۔

٢۔ ذبح کرنے والا مسلمان ہو ساتھ ہی بطور قربانی ذبح کرنے کی نیت ہو ۔

٣۔ قربانی کے جانور کا قبلہ رخ کرنا مستحب ہے ۔

٤۔ اور اگر ذبح کرنے کو تیار ہو تو یہ ‘ کلمات بسم اللہ اللہ اکبر الهم تقبل مني او من فلان ‘

اے اللہ میری طرف سے یا فلاں جس کا جانور ہے اس کی طرف سے قبول فرما کہے۔( مسلم )

٥۔ قربانی دینے والا اپنا جانور خود ذبح کرے یہی افضل ہے۔( بخاری)

٦ ۔ جانور ذبح کرتے وقت اپنا پیر اس کے پہلو پر رکھے جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسینگ والے مینڈھے کی قربانی کی تو آپ نے اپنے قدم ان کے پہلووں پر رکھا اور’ بسم اللہ اللہ اکبر ،کہ کر اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ۔

٧۔ جانور ذبح کرتے وقت چاقو یا چھری جانور کی نگاہ سے چھپ کر خوب تیز کرے۔( مسلم)

٨۔ جانور ذبح کرنے سے پہلے چھری اور ذبح کرنے کا سامان اوزار جانور سے چھپاکر رکھے اور ذبح کرنے میں نہایت جلدبازی سے کام لے اور چھری تیز چلائے ۔

٩۔ ذبح کرنے میں مروت کا خیال رکھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اذا ذبحتم فاحسنوا الذبح ” جب ذبح کرو تو احسن طریقے سے کرو۔ (صحیح الجامع)

 

١٠ ۔ گائے، بیل ،بھیڑ ، دنبہ ، اور بکرا لٹاکر ذبح کرے اور اونٹ کو کھڑا کرکے نحر کرے ۔

١١ ۔ ذبح کرتے وقت جانور کو بائیں کروٹ لٹائے تاکہ داہنے ہاتھ میں چھری اور بائیں ہاتھ میں جانور کے سر کو بسہولت پکڑا جا سکے ۔

١٢۔ مکمل روح نکلنے کے بعد ہی چمڑا چھیلے قصاب کو اس کی تاکید بھی کرے کہ روح نکلنے کے بعد چمڑا چھیلے اسی طرح جانور کے گردن کو توڑنا مروڑنا نہیں چاہئے ۔

١٣ ۔ ہر دھاری دار آلہ مثلا چاقو چھری سے ذبح کرنا جائز ہے مگر ناخن اور دانت سے حرام ہے۔ ( بخاری )

١٤ ۔ مسلمان عورت قربانی کے جانور کو ذبح کرسکتی ہے اور اس کا ذبح کیا ہو جانور حلال ہے ۔ (بخاری : ذبيحة المرأة ) فتاوی ابن باز ٢٢

جاری ۔۔۔۔۔۔

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *