عشرہ ذی الحجہ اور یومِ عرفہ کی خاص فضیلت

عشرہ ذی الحجہ اور یوم عرفہ کی خاص فضیلت

از:مجاہدعالم ندوی

استاذٹائمس انٹرنیشنل اسکول محمدپورشاہ گنج, پٹنہ

ذی الحجہ اسلامی سال کا سب سے آخری مہینہ ہے ۔ ذی الحجہ کا یہ مہینہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جس کو اللہ تعالی نے زمین و آسمان کی پیدائش ہی کے وقت سے محترم بنایا ہے ۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے ، ارشاد ربانی ہے ” بے شک مہینوں کی گنتی اللہ تعالی کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پاک پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ” ( سورة التوبة )

اس مہینہ کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس میں اسلام کا عظیم رکن حج ادا کیا جاتا ہے ۔

حج ایک ایسی عبادت ہے جو ان ایام کے علاوہ دوسرے ایام میں انجام نہیں دی جا سکتی ہے ۔

دوسری عبادتوں کا یہ حال ہے کہ انسان فرائض کے علاوہ جب چاہے نفلی عبادت کر سکتا ہے ، مثلا ، نماز پانچ وقت کی فرض ہے ، لیکن ان کے علاوہ جب چاہے نفلی نمازپڑھنے کی اجازت ہے ، رمضان میں روزہ فرض ہے ، لیکن نفلی روزہ جب چاہے رکھ سکتا ہے ۔ زکوة سال میں ایک مرتبہ فرض ہے ، لیکن نفلی صدقہ جب چاہے ادا کر سکتا ہے ،

ان سے ہٹ کر دو عبادتیں ایسی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالی نے وقت مقرر فرما دیا ہے ۔ ان اوقات کے علاوہ دوسرے اوقات میں اگر ان عبادتوں کو کیا جائے گا تو وہ عبادت ہی نہیں ہوگی ۔ ان میں سے ایک عبادت حج ہے ، دوسری عبادت قربانی ہے ،

قربانی کے لیے اللہ تعالی نے ذی الحجہ کے تین دن یعنی دس گیارہ اور بارہ تاریخ مقرر فرما دی ہے ۔ ان ایام کے علاوہ اگر کوئ شخص قربانی کی عبادت کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا ہے ۔ البتہ اگر کوئ شخص صدقہ کرنا چاہے تو بکرا ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کر سکتا ہے مگر یہ قربانی کی عبادت نہیں پا سکتی ہے ۔

لہذا ، اللہ تعالی نے اس زمانے کو یہ امتیاز بخشا ہے ، اسی وجہ سے علماء کرام نے احادیث کی روشنی میں یہ لکھا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے ایام ذی الحجہ کے ابتدائ ایام ہیں ان میں عبادتوں کا ثواب بڑھ جاتا ہے اور اللہ تعالی ان ایام میں اپنی خصوصی رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔

ذی الحجہ کے ابتدائ دس ایام کی فضیلت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے ان دنوں کی قسم کھائ ہے اور اللہ تعالی معمولی چیزوں کی قسم نہیں کھاتے ہیں بلکہ مہتم بالشان چیزوں کی قسم کھاتے ہیں ۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ذی الحجہ کے دس دنوں کی قسم کھائ ہے ، ( و الفجر و ليال عشر و الشفع الوتر ) قسم ہے فجر کے وقت کی ، اور ذی الحجہ کی دس راتوں یعنی دس تاریخوں کی کہ وہ نہایت فضیلت والی ہیں ، اور جفت کی اور طاق کی ، جفت سے مراد ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اور طاق سے نویں تاریخ مراد ہے ۔ ( کذا فی الحدیث )

حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئ دن عشرہ ذی الحجہ کے سوا ایسے نہیں کہ ان میں عبادت کرنا اللہ تعالی کو زیادہ پسند ہو ، ان میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال روزہ رکھنے کے برابر ہے ، اور ان کی ہر رات کا جاگنا شب قدر کے برابر ہے ۔ ( ترمذی )

اس لیے ہمیں بھی ان دنوں میں روزہ اور شب بیداری کا اہتمام کرنا چا ہیے ۔ خصوصا نو تاریخ کا روزہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ،، جس نے عرفہ کاروزہ رکھا اس کے پے در پے دو سال کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ،،

یعنی ایک سال گزشتہ کے اور ایک سال آئندہ کے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔

عرفہ کیا ہے ؟ عرفہ ایک مخصوص جگہ کا نام ہے ، اور عرفات اس کی جمع ہے ، یہ ایک وسیع و عریض مہدان ہے ۔ میدان عرفات میں نویں ذی الحجہ سے دسویں ذی الحجہ تک قیام حج کا رکن اعظم ہے ، جس کے بغیر حج نہیں ہوتا ہے ۔

عرفات کے مبارک میدان میں ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو جو رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا خاص دن ہے

اس دن لاکھوں کی تعداد میں اللہ تعالی کے بندے لبیک اور تکبیر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے فقیروں اور محتاجوں کی صورت بنا کر وہاں جمع ہوتے ہیں اور اس کے سامنے عجز کے ساتھ اللہ تعالی کی عنایات اور بخش کے طالب ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالی کے حضور میں اپنے اور دوسروں کے لیے رحمت اور مغفرت کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور اس کے سامنے روتے ہیں اور گڑ گڑاتے ہیں ۔ اور پھر اللہ تعالی اپنی شان کریمی کے مطابق گناہ گار بندوں کی مغفرت اور جہنم سے آزادی کے وہ عظیم فیصلے فرماتا ہے کہ جس سے شیطان بھی جل کر رہ جاتا ہے ، جیسا کہ حدیث میں ہے ،، شیطان کسی دن بھی اتنا ذلیل و خوار دیکھا گیا جتنا کہ وہ عرفہ کے دن ذلیل و خوار دیکھا جاتا ہے ۔اور یہ صرف اس لیے کہ وہ اس دن اللہ تعالی کی رحمت کو موسلادھار برستے ہوئے اور بڑے بڑے گناہوں کی معافی کا فیصلہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ ( موطا امام مالک )

اس روز اللہ تعالی کی رحمت بندوں سے بے انتہا قریب ہوتی ہے ۔ میدان عرفات کا یہ عظیم اجتماع اتنی برکات و خصوصیات کا حامل ہوتا ہے ان کا بیان ممکن نہیں ۔ کتنے ہی اللہ تعالی کے بندے اس مبارک اجتماع کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کے یہاں مغفرت کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔

آخری بات : عشرہ ذی الحجہ بڑی اہمیت اور عظمت والا عشرہ ہے ۔ اس کی خصوصیت اور فضیلت احادیث میں بکثرت آئ ہیں، اور اسلام کے اہم ترین عبادات اس میں انجام دئیے جاتے ہیں ، اس فضیلت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ان مبارک دنوں میں ضروری تعلقات سے منھ موڑ کر اللہ تعالی کی عبادت اور اطاعت بہت لگن اور توجہ کے ساتھ کریں ، اور ہمہ تن اللہ تعالی کی یاد میں مشغول رہیں اور ذکر و فکر ، تسبیح و تلاوت ، صدقہ و خیرات اور نیک عمل میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرنے کی کوشش اور گناہوں سے بچنے کی فکر کریں ، تاکہ اللہ تعالی کی خوشنودی سے اپنے دامن مراد کو بھر سکیں ، اور اللہ تعالی ہم سب کے اعمال صالحہ کو شرف قبولیت سے نوازیں ۔ آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *