بابری مسجد فریاد کرے ہے

  • بابری مسجد فریاد کرے ہے

 

 

بابری مسجد فریاد کرے خواب خرگوش میں سوئے مسلماں سے کہ کہاں ہیں جن کی رگوں میں فاروقی،حیدری اور ایوبی خون دوڑتا ہے جن کے شجاعت بہادری کی داستانیں ضخیم کتابوں میں رقم ہے تدبر عزم اور ناشکستہ حوصلہ قوت و ہمت جن کی پہچان تھی جن قصوں کو سناکر مائیں اپنے نو نہالوں کو رفعت و سربلندی کے مقام پر پہنچاتی تھی .

ہائے افسوس مسلمانوں نے ماضی سے سبق لیکر مستقبل سنوارنا نہیں سیکھا جس غلامی کی زنجیر کو ہمارے مجاہدین آزادی نے اپنے عزم اور ناقابل شکست قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے توڑا تھا آج ٥ اگست یوم سیاہ کو مسلمانوں کی عدم قیادت اور بزدلی نے پہر سے جکڑ دیا ۔

لاحول ولاقوة ال باللہ

ایودھیا کی سرزمین پر تقریباً پانچ سو سال سے موجود بابری مسجد جسے مغل بادشاہ بابر رحمۃ اللہ علیہ نے بنوایا تھا، 6 دسمبر 1992ء کو بڑے ہی بے رحمانہ اور ظالمانہ طریقے سے شہید کر دی جاتی ہے، شدّت پسند ہندو صبح سے لے کر شام تک حکومتی سرپرستی میں مسجد کو توڑنے میں لگے رہتے ہیں، شدّت پسند ہندو تنظیمیں اور بھارتی جنتا پارٹی کے لیڈران خوشیاں مناتے ہیں، صبح سے لے کر شام تک پانچ سو سالہ پرانی مسجد توڑنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی، اِس وقت تمام ٹیلی ویژن چینلوں پر رام مندر کی بنیاد رکھنے سے متعلّق خبریں نشر کی جا رہی تھیں، بحث و مباحثہ میں ہندو اپنی فوقیت ثابت کر رہے تھے، رام مندر کی بنیاد رکھنے کے بارے میں نئی نئی خبروں، مندر کی تصویروں اور تکلیف دہ جملوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو شدید تکلیف پہونچائی جا رہی تھی

ہندوستان کی ریاست اتّرپردیش کے ضلع فیض آباد کے علاقے ایودھیا میں آج سے تقریباً 500 سال پہلے بابر کے حکم پر ان کے ایک وزیر میر باقی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے نہایت ہی شاندار مسجد بنوائی تھی، جسے دنیا بابری مسجد کے نام سے جانتی ہے، بِیسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی اس مسجد اور اللہ کے گھر کو کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے سیاست کا حصہ بنایا، مسجد اور مندر کے نام پر ہندوستان کے لوگوں کو دو حصّوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی، بڑی کوششوں اور منظّم تحریک کے بعد سیاسی مفاد کے لئے صوبائی مرکزی حکومتوں اور کئی شدّت پسند ہندو تنظیموں اور جماعتوں کی سرپرستی میں بابری مسجد بڑی بے دردی اور مظلومانہ طریقے سے شہید کر دی گئی

 

مسلمانوں نے بابری مسجد کی بازیافت کے لئے پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں مقدّمہ داخل کر دیا، مندر کے حق میں کوئی بھی ثبوت نہ ہونے کے باوجود بھی سپریم کورٹ نے مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ دے دیا، سپریم کورٹ نے رام مندر کے حق میں فیصلہ دے کر قانون کی دھجّیاں اُڑا دیں، ناجائز فیصلے سے انصاف کے مندر کی عزّت کو تار تار کر دیا، سیاسی پارٹیاں اور ہندو جو ہمیشہ سے دعوے کر رہے تھے کہ بابری مسجد کی تعمیر مندر کو منہدم کر کے کی گئی ہے وہ بے بنیاد ثابت ہوئی، سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ بابری مسجد کسی بھی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی، بابری مسجد کو توڑنا جُرم تھا، بابری مسجد کو بابر نے بنوائی تھی اور مسجد کا وجود تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس کے باوجود بھی ہندوؤں کی آستھا کی بنیاد پر فیصلہ رام مندر کے حق میں دے دیا گیا۔

 

رہی ہے بابری مسجد کے خلاف فیصلے سے سب سے زیادہ دُکھ اور دِلِی تکلیف مسلمانوں کو ہوئی کہ ان کی مسجد کو مندر میں تبدیل کر دیا گیا، مسلمان اگر اپنے ایمان پر باقی رہتے ہوئے وطن پرستی کے بجائے اسلام پرستی کا پرچار کرتے تو شاید یہ نوبت نہ آتی لیکن اس کے باوجود بھی اب مسلمان ہر مسئلے میں وطن پرستی کے لئے اپنے ایمان اور ضمیر کا سودا کر رہا ہے، دنیا کے کسی بھی حصّے میں کوئی واقعہ رُونما ہو جاۓ ہندوستانی مسلمان وطن پرستی دِکھانے میں فوراً ٹی وی پر آ جاتا ہے،

مجھے کہنے دیجئے کہ بابری مسجد کے مسئلے میں کئی مسلم تنظیموں کے سربراہوں نے سودے بازی کی ہے، ایک بڑی جماعت کے سربراہ تو سپریم کورٹ میں Review کے حمایتی ہی نہیں تھے، تو ایک بابری مسجد کے عوض روپئے لینے کے حامی تھے، بجاۓ اِس کے کہ مسلم تنظیموں کے سربراہ اتّحاد کا ثبوت دیتے اور بابری مسجد مخالف فیصلے کے خلاف عالمی عدالت میں جاتے، تمام لوگ خاموشی اختیار کر کے بیٹھ گئے، بابری مسجد کسی بھی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی اِس چیز کو سپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی مسجد کی جگہ بُت خانہ بننے جا رہا (محمد وسیم ابن محمد امین)

آج 5 اگست کو رام مندر کی تعمیر شیلانیاس ہے ایسے میں مسلمانوں کو صبر و ضبط سے کام لیکر حکمت عملی کے ساتھ مستقبل کا خاکہ تیار کرنا چاہئے شیلانیاس میں وزیراعظم کی موجودگی ہندوؤں کے لئے بڑی شان کی بات ہے یہ الگ بات ہے کہ سیکولر ملک میں وزیر اعظم کو کسی اک مذہب کا حمایتی نہیں ہونا چاہئے مگر اس میں شک نہیں موجودہ وزیر اعظم ہندو مذہبی رہنما ہے اس لئے مسلمانوں اتحاد و اتفاق پیدا کرنا چاہئے آپسی انتشار و خلفشار کو ختم کر تعلقات اور اخوت زندہ کر نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا چاہئے کیونکہ اب بات اپنی بقا اور سلامتی پر آگئ ہے اگر اب بھی نہ جاگے تو ہماری نسلیں ذھنی غلام پیدا ہونگی ۔ حسبنا الله ونعم الوكيل

رام مندر تو اک ہائلائٹ ٹریلر ہے اس کے علاوہ کتنے پلاننگز اور ہتھکنڈے استعمال کرنے باقی ہیں وہ اللہ کو ہی علم ہے

الہم رد كيدهم في نحورهم ودمرهم

 

ہم نے کشمیر کے حالات دیکھے ہیں کہ کیسے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور ابھی بھی روز اک جنازہ لوگ کندھے پر اٹھاتے ہیں اور نم آنکھوں سے سپرد خاک کرتے ہیں مسلم ماں اور بہن کی عزت و ناموس اور عفت وپاکدامنی کی دھجیاں اڑائ جارہی ہیں لیکن سلام ہے ان کی بہادری اور شجاعت پر کہ مقابلہ کرتے سینوں پر ظالم کے گولیوں کو کھاتے ہیں مگر پیچھے نہیں ہوتے

اسی طرح بیت المقدس کی مدافعت میں روز کوئ نہ کوئ معصوم خون مین لپتا ہوتا ہے مگر ناممکن ہےکہ کوئ پیٹھ پیچھے کرے تاہم غاصب اور ظالم یہودیوں کا سینہ سپر ہوکر مقابلہ کرتے ہیں حتی کہ جان بھی قربان کرنے سے نہیں ڈرتے

اللہ ظالموں ہلاک کرے

 

اے اللہ ہم تیری رحمت سے ناامید نہیں اے اللہ تو لشکر ابابیل بھیج دے ان غاصبوں اور ظالموں کو ہلاک کر نشان عبرت بنادے

اے اللہ تیری رحمت بےمثال اور لازوال ہے مسلمانان ہند پر رحم فرما اور ظالموں درندوں کے سازشوں کو ان پر ہی پلٹ دے

اور ان کو ناپاک ارادے کے ساتھ ہی نیست ونابود فرما،

اور بابری مسجد تیرا گھر ہے جسے تیرے نام اور تیری عبادت کی خاطر بنایا گیا تھا تو ہی اس کو آباد کرنے والا ہے تیری عزت و جلال کی قسم اے اللہ تو اپنے گھر کی حفاظت فرما ،

آمین یارب العالمین ۔

 

امانت اللہ سہیل تیمی

مترجم : جالیات سعودی عرب

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *