بابری مسجد تا رام مندر 1528 تا 2020

بابری مسجد تا رام مندر 1528 تا 2020

(قسط 2)

 

عبداللہ صدیقی مظفر نگری

 

 

1989ء: پارلیمانی الیکشن ہونے تھے, ہندو ووٹ بنک کو مضبوط کرنا تھا, موقع ماحول دیکھ کر بی جے پی نے اس مہم کی حمایت کا اعلان کر دیا.

پورے ملک سے پوجا شدہ اینٹوں کو اجودھیا لایا جانے لگا تاکہ رام مندر کی تعمیر ہو سکے, ورنہ کم از کم اس بنیاد رکھ دی جائے, بنیاد کا رکھنا “شیلا نیاس” رکھا گیا.

مرکز اور اتر پردیش میں کانگریس حکومت نے پہلے ہی اس کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا.

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں اجودھیا کا معاملہ جوں کا توں برقرار رکھنے کا حکم دیا.

 

1990ء: 12 ستمبر کو بی جے پی صدر لال کرشن آڈوانی نے رتھ یاترا اعلان کیا, جو سومناتھ سے شروع ہو کر اجودھیا میں ختم ہونی تھی, جہاں وہ کارسیوا کا افتتاح کرتے, آٹھ ریاستوں کا سفر کیا گیا, جس میں دو ریاستوں (مہاراشٹر اور کرناٹک) میں کانگریس کی حکومت تھی, لیکن راجیو گاندھی نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی, لالو پرشاد یادو (وزیر اعلیٰ بہار) نے رتھ یاترا کو روکا اور بہار میں آڈوانی کو گرفتار کر لیا.

 

آڈوانی کی گرفتاری کے ساتھ فسادات پورے ملک میں پھیل گئے, اس میں کروڑوں مسلمان ہلاک ہوئے, اربوں کی املاک تباہ ہوئیں, ملکی معیشت کا نقصان الگ ہوا.

فسادات اور اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے حکم امتناعی اور گرفتاریوں کے باوجود 31 اکتوبر کو ہزاروں کارسیوک (خدمت کار) اجودھیا پہنچ گئے, یوپی پولیس اور پی اے سی کا رویہ کارسیوکوں کے لیے ہمدردانہ تھا, بہر حال ان انتہا پسندوں نے اس دن دوپہر تک بابری مسجد کا دروازہ زبردستی کھول دیا, مسجد کے گنبد پر چڑھ گئے اور بھگوا جھنڈا لہرا دیا, لیکن انڈو تبت فورس اور تمل ناڈو فورس نے انہیں مار بھگایا, اس دن مرنے والوں کی تعداد حکومت کے مطابق چھ, اور پریشد کے مطابق 50 تھی, اتر پردیش کے ہندی اخبارات نے ان کی تعداد بڑھا کر 100 کر دی تھی, اس کے اثرات تو ہونے لازمی تھے, پورے شمالی ہند میں اس کا غصہ مسلمانوں پر اترا, یوپی کے درجنوں شہر فسادات کے شکار ہوئے, ملائم سنگھ کو “مُلاّ یادو” کا خطاب دیا گیا.

 

1991ء: مارچ میں صدر جمہوریہ نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی, اور نئے الیکشن کا اعلان کردیا, بی جے پی اجودھیا کے معاملات سے پورے فوائد حاصل کرنا چاہتی تھی, راجیو گاندھی کے قتل کے آڑ میں پی وی نرسمہا راؤ وزیر اعظم بنے, جب کہ بی جے پی کی تعداد لوک سبھا میں 85 سے 120 ہو گئی, اور یوپی میں بھی بی جے پی کی حکومت بنی, کلیان سنگھ وزیر اعلیٰ بنے.

 

(جاری…………….)

 

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *