عصر کی نماز کو جمعہ کے ساتھ جمع کرنے کا مسئلہ۔

عصر کی نماز کو جمعہ کے ساتھ جمع کرنے کا مسئلہ (1)

 

تحریر: فضیلۃ الشیخ / محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ

ترجمہ : ابوعدنان محمد طیب السلفی

 

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين ، وبعد

جس حالت میں نمازعصرکو ظہر کے ساتھ جمع کرکے پڑھنے کی اجازت ہے اس حالت میں نمازعصر کوجمعہ کے ساتھ جمع کرکے پڑھےجانے سےمتعلق جب بکثرت سوال ہوا تو میں نے اللہ کی توفیق وہدایت کی دعا اور اس سے مدد چاہتے ہوئے یہ جواب دیا:

جس حالت میں ظہر اورعصر کے درمیان جمع کرناجائز ہےاس حالت میں عصرکو جمعہ کے ساتھ جمع کرناجائزنہیں ہے، چنانچہ اگرمسافر کسی شہر سے گزرے اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ جمعہ کی نمازادا کرے تو اس کے لئے عصرکو جمعہ کے ساتھ جمع کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح اگرایسی بارش ہو کہ اس کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرناجائز ہےتوہم بارش کی وجہ سے ظہر اور عصر کے درمیان جمع کرنے کی اجازت تو دیں گے لیکن اس صورت میں جمعہ کے ساتھ عصر کوجمع کرناجائزنہیں ہوگا، اسی طرح اگروہ بیمار جس کے لئے دونمازوں میں جمع جائز ہے، نماز جمعہ کے لئے آئے پھرنماز جمعہ پڑھے توعصر کی نماز کو اس کے ساتھ ملانا جائز نہیں ہوگا، دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان ہے (اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا ) ’’ یقیناً نمازمومنوں پرمقررہ وقتوں پر فرض ہے‘‘ (النساﺀ آیت : ۱۰۳)

ان اوقات کو اللہ تعالی نے اجمالا اپنے اس فرمان میں ذکرکیا ہے ( اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا ) ’’ آپ زوال آفتاب کے وقت سے رات کی تاریکی تک نماز قائم کیجیے، اور فجر کی نمازمیں قرآن پڑھیئے، بیشک فجرمیں قرآن پڑھنے کا وقت فرشتوں کی حاضری کا وقت ہوتا ہے‘‘ ( الاسراﺀآیت : ۷۸)

دلوک شمس کے معنی زوال آفتاب [ آفتاب ڈھلنے] کےاور غسق اللیل کے معنی تاریکی کے ہیں اور یہ نصف لیل ہے، اور یہ وقت چار نمازوں ظہر، عصر مغرب اورعشاﺀکو شامل ہے، جنہیں ایک ہی وقت میں سمیٹ دیا گیا ہے، کیوں کہ ان کے اوقات کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے جب بھی ایک نماز کا وقت نکلتا ہے تودوسری نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور نماز فجر کو الگ سے بیان کیا کیوں کہ نہ تو نماز عشاﺀ کے ساتھ اس کا ارتباط ہے اورنہ نماز ظہر کے ساتھ ۔

ان اوقات کی تفصیل حضرت عبد اللہ بن عمروبن عاص اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما وغیرہ کی حدیثوں میں بیان کردی گئی ہے ، وہ اس طرح ہے ظہرکا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوکرہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوجانے تک رہتا ہے، اور عصر کا وقت ہرچیز کا سایہ اس کے برابر ہوجانے سے شروع ہوکرغروب آفتاب[ آفتاب ڈوبنے] تک رہتا ہے البتہ سورج کے پیلا پڑجانے کے بعد کا وقت، وقت ضرورت ہے،اورمغرب کا وقت غروب آفتاب سے شروع ہوکرشفق [افق کی سرخی] غائب ہونے تک رہتا ہے، اورعشاﺀ کا وقت شفق [افق کی سرخی] کے غائب ہوجانے سے لے کر آدھی رات تک رہتا ہے، اور فجر کا وقت طلوع صبح صادق سے لےکرآفتاب کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ ( صحیح مسلم )

اللہ تعالی کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں نماز کے اوقات کی یہ حدیں ہیں، تو جس نے قرآن وحدیث میں مقرر کردہ وقت سے پہلے نماز پڑھی وہ گنہگار ہےاوراس کی نماز باطل ومردود ہے، فرمان الہی ہے، (وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ) ’’ اور جو لوگ اللہ کے حدود سے تجاوز کر جائیں وہی لوگ ظالم ہیں‘‘ (البقرۃ آیت : ۲۲۹)

اورفرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ( من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھورد) ’’ جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا معاملہ [دین ] نہیں ہے تو وہ مردود ہے‘‘ ( صحیح مسلم )

اسی طرح جس نے بغیرعذرشرعی وقت نکل جانے کے بعد نماز پڑھی اس کا بھی یہی حکم ہے، چنانچہ جس نے زوال آفتاب سے پہلے ظہرکی نماز پڑھ لی تو اس کی نماز باطل اورمردود ہے اوراس پراس کی قضا ضروری ہے، اور جس نےعصر کی نماز ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوجانے سے پہلے پڑھ لی تو اس کی نماز بھی باطل اور مردود ہے اور اس کے ذمہ اس کی قضا ضروری ہےالایہ کہ اسے کوئی ایسا شرعی عذر ہو جس کی بنیاد پرعصرکو ظہر کے ساتھ جمع تقدیم کرکے پڑھناجائزہے، اور جس نے غروب آفتاب سے پہلے مغرب کی نماز پڑھی تو اس کی نمازباطل اور مردود ہے اور اس کے ذمہ اس کی قضا ضروری ہے۔

اسی طرح جس نے افق کی سرخی ختم ہونے سے پہلےعشاﺀ کی نماز پڑھی تو اس کی نماز باطل اورمردود ہے اور اس کے ذمہ اس کی قضا ضروری ہے، الا یہ کہ اسے کوئی ایسا شرعی عذر لاحق ہو جس کی بنیاد پر مغرب کے ساتھ عشاﺀ کی نماز جمع تقدیم سے پڑھنا جائز ہو ۔

اور جس نے طلوع فجرسے پہلےفجر کی نماز پڑھ لی تو اس کی نماز باطل اورمردود ہے اوراس کے ذمہ اس کی قضا ضروری ہے، کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ کا مقتضی اور مطلوب یہی ہے، بنابریں جس نے عصر کی نماز کوجمعہ کے ساتھ جمع کرکے ادا کیا تو اس نے وقت سے پہلے [ہرچیز کا سایہ اس کے برابر ہوجانے سے پہلے] عصر کی نماز پڑھی اس لئے اس کی نماز باطل اورمردود ہوگی۔ جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابوعدنان محمد طیب السلفی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، المجمعہ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *