ماہ محرم الحرام کی اہمیت اور صوم عاشورہ۔

ماہ محرم الحرام کی اہمیت اورصوم عاشورہ

انوارالحق قاسمی جینگڑیاوی

ماہ محرم الحرام کی تاریخی اہمیت اور اوراس کے فضائل وبرکات سے، ہر وہ شخص اچھی طرح واقف ہے، جسے کسی نہ کسی درجہ میں عربی یا اردو زبان پڑھنا، لکھنا آتا ہو یاکم ازکم علماء کرام کی صحبت حاصل ہو، اور یہ امربھی کسی سے مخفی نہیں کہ عظمت وتوقیراور حرمت کا معنی کسی زمانہ، دن یا مہینے کو فی نفسہ حاصل نہیں؛ البتہ یہ معانی مبدئ العالم کی تودیع واعطاء ہی سے ممکن ہے –

ابتدائے آفرینش ہی سے اللہ تبارک و تعالٰی نے بارہ مہینے مقرر فرما رکھے ہیں، جن میں چار کو خصوصی ادب واحترام اور عزت و تکریم سے نوازا گیا ہے – یہ چار مہینے : ذو القعدہ ،ذوالحجہ، محرم اور ماہ رجب ہیں –

دور جاہلیت میں بھی لوگ حرمت والے مہینوں ادب کا احترام کرتے اور جنگ وجدل ،قتل و غارت گری اور خون ریزی وغیرہ سے اجتناب کلی کرتے تھے؛ البتہ اگر کبھی حرمت والے مہینے میں، جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کی ضرورت محسوس ہوتی، تو وہ اپنے طور پر مہینوں کی تقدیم و تاخیر کرلیتے –

الحاصل یہ کہ ماہ محرم الحرام کو قدرت خداوندی نے ادب و احترام والا مہینہ قرار دیا اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی حرمت کو جاری وساری رکھا، اور عرب کا جاہل بھی اس کااس قدر احترام کرتے کہ احترام کے منافی کسی عمل کے جواز کے لیے کم از کم اتنا حیلہ ضرور کرلیتے کہ فرضی طور پر حرمت والے مہینے کو کسی دوسرے غیر حرمت والے مہینے سے بدل دیتے –

ماہ محرم کی حرمت وتعظیم کا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ لوگ غلط فہمی کے شکار ہیں، جو اس مہینے کی حرمت کی کڑیاں واقعہ کربلا اور شہادت حسین رضی اللہ عنہ سے ملاتے ہیں؛ اس لیے کہ ماہ محرم الحرام کی حرمت تو اسی دن سے قائم ہے، جس دن سے یہ کائنات بنی ہے –

جنگ وجدل، قتل و غارت گری، خون ریزی اور فتنہ وفساد کی کسی بھی مہینے، ہفتےاور دن میں اجازت نہیں، تاہم حرمت والے مہینوں میں فتنہ و فساد کی ہر ممکنہ شکل سے اجتناب کرنے کا تاکیدی حکم ہے؛ مگر بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ بہت سے لوگ ماہ محرم الحرام کی حرمت کو اتنا ہی پامال کرتے ہیں، جتنا کہ اس کا لحاظ رکھنے کی تاکید کی گئی –

ماہ محرم الحرام کی حرمت کی پامالی کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت پر نالہ و شیون اور نوحہ وماتم کیا جاتا ہے، اپنے جسم کو ازخود سخت تکلیفیں دیتے ہیں، شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے رنج و غم میں آہ وبکا کا ایسا عجیب و حشیانہ اور خوفناک منظر برپا کیا جاتا ہے کہ الامان و الحفیظ! اس کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ کسی کی وفات یا شہادت پر رنج و غم اور افسوس نہ کیا جائے؛ لیکن یہ اظہار شرعی حدود میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے؛ کیوں کہ نوحہ وماتم کرنے والوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا سخت ارشاد ہے :””ليس منامن ضرب الخدود و شق الجيوب ودعا بدعوي الجاهلية “” وہ شخص ہم (مسلمانوں ) میں سے نہیں، جو رخسار پیٹے ،گریبان چاک کرے اور دور جاہلیت کے بین کئے –

عاشورہ کا روزہ : صوم رمضان سے قبل صوم عاشورہ فرض تھا؛ مگر جب رمضان المبارک کے روزے فرض کئے گئے، تو صوم عاشورہ کی فرضیت کو سنت واستحباب میں بدل دی گئی –

صوم عاشورہ کی اہمیت احادیث کی روشنی میں : (۱) عن أبي قتادة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال :صيام يوم عاشوراء إني أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله.

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشورہ کا روزہ کفارہ ہوجاتاہے اس سال کا –

ایک صحابی رسول نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم، ماہ رمضان المبارک کے روزہ کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزہ کا حکم دیتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ اگر تم رمضان المبارک کے مہینے کے بعد روزہ رکھنا چاہتے ہو ، تو ماہ محرم الحرام کا روزہ رکھا کرو –

(۲)عن ابن عباس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صوموا يوم عاشوراء وخالفوا فيه اليهود۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ تم عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو-

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ میں جب بھی عاشورہ کا دن آتا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم عاشورہ کا روزہ رکھتے؛ لیکن وفات سے قبل، جو عاشورہ کا دن آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حسب معمول صرف عاشورہ کا ہی روزہ رکھا، اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ۱۰ دس محرم الحرام کو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں اور یہود بھی، جس کی وجہ سے ان کے ساتھ ہلکی سی مشابہت ہو جاتی ہے؛ اس لیے آئندہ سال اگر میں باحیات رہا، تو صرف عاشورہ کا روزہ نہیں رکھوں گا؛ بل کہ اس کے ساتھ ۹ محرم الحرام یا ۱۱ گیارہ کو بھی روزہ رکھوں گا؛ لیکن سال رواں عاشورہ کا دن آنے سے پہلے ہی حضور پر نور صلی اللہ علیہ و سلم کا وصال ہوگیا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کے اس ارشاد کی روشنی میں یوم یوم عاشور کے روزہ کے ساتھ ۹ محرم الحرام یا ۱۱ محرم الحرام کا ایک روزہ ملاکر رکھنے کا اہتمام فرمایا ،اور اسی کو مستحب بھی قرار دیا، نیز صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کو خلاف اولی قرار دیا گیا، وإليه ذهب الفقهاء فكرهواانفراد عاشوراء بالصوم .

اگر کوئی شخص یوم عاشورہ میں اپنے اہل و عیال پر کھانے پینے کی فراخی اور وسعت رکھے، تو مکمل سال بھر اس کی روزی اور رزق میں فراخی رہتی ہے –

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :من وسع على عياله يوم عاشوراء لم يزل في سعةسائرسنة

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *