ماہ محرم الحرام کی فضیلت اور بدعات و رسومات۔

ماہ محرم الحرام کی فضیلت اور بدعات و رسومات

 

از قلم : مجاہد عالم ندوی

استاد : ٹائمس انٹر نیشنل اسکول محمد پور شاہ گنج ، پٹنہ

 

ماہ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ، محرم کا لفظ تحریم سے نکلا ہے ، اور تحریم کا لفظ حرمت سے نکلا ہے ، حرمت کا لفظی معنی عظمت ، احترام وغیرہ کے ہیں ، اس بناء پر محرم کا مطلب احترام اور عظمت والا ہے ، چونکہ یہ مہینہ بڑی عظمت اور فضیلت رکھتا ہے ، اس لیے اسے محرم الحرام کہا جاتا ہے ۔

یوں تو محرم کا پورا مہینہ ہی مبارک ہے ، مگر جس طرح رمضان کا آخری عشرہ پہلے دو عشروں سے افضل ہے ، اور آخری عشرہ میں لیلة القدر کی رات سب سے افضل ہے ، اسی طرح اس مہینہ میں عاشورہ کا دن تمام ایام سے افضل ہے ، عاشورہ کا مطلب دسواں ہے ، یہ دن چونکہ دسویں کو آتا ہے ، اس لیے اسے عاشورہ کہتے ہیں ۔

تاریخ اسلامی کے کئ اہم سبق آموز واقعات اسی مہینہ میں پیش آئے ، جن کا یاد رکھنا امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے ، زندہ اقوام کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی تاریخ اسلاف کے کارناموں اور واقعات سے بے خبر نہیں رہتیں ۔

 

ماہ محرم کی فضیلت ۔

ماہ محرم اپنی فضیلت و عظمت ، حرمت و برکت ، اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کا حامل ہے ،

ارشاد ربانی ہے ، ” قل قتال فیہ کبیر ” ، ( البقرہ 217 )

ترجمہ : ” کہ دیجیے کہ اس میں قتال کرنا بہت بڑا گناہ ہے ” ۔

 

محرم کے روزوں کی فضیلت ۔

محرم الحرام میں کی جانے والے ہر عبادت قابل قدر اور باعث اجر ہے ، مگر احادیث مبارکہ میں محرم کے روزوں کی خصوصی ترغیب دی گئ ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ، ” رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ تعالی کے مہینہ محرم کے روزے ہیں ” ، ( مسلم )

پھر اس ماہ کے تمام ایام میں سے اللہ رب العزت نے یوم عاشورہ کو ایک ممتاز مقام عطا فرمایا ہے ، یہ دن بہت سے فضائل کا حامل ہے ، اور نیکیوں کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ،

ارشاد نبوی ہے ، ” جو شخص عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتا ہے ، تو اللہ تعالی اس کے گزشتہ سال ( صغیرہ ) گناہ معاف فرما دیتے ہیں ” ، ( مسلم )

اہل ایمان کو یہودی کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے ، اور اس دسویں محرم کا روزہ چونکہ یہود بھی رکھتے تھے ، اس لیے اب ہمارے لیے حکم یہ ہے کہ دسویں تاریخ کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھیں ، تاکہ سنت بھی ادا ہو جائے ، اور مخالفت یہود کا پہلو بھی نکل آئے ، جیسا کہ حدیث میں ہے ، ” تم عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو اور اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ رکھو ” ۔

 

ماہ محرم کی بدعات و رسومات ۔

ماہ محرم برکات کا حامل مہینہ ہے ، لیکن بعض اس کی برکات سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے بدعات و رسومات میں پڑ کر اس کی حقیقی فضیلت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔

ذیل میں چند بدعات و رسومات کی نشاندہی کی جاتی ہے ۔

تعزیہ

تعزیہ کرنا ناجائز ہے ، قرآن مجید میں ارشاد باری ہے ، ” کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو ، جس کو خود ہی تم نے تراشا اور بنایا ہے ” ۔

ظاہر ہے کہ تعزیہ انسان اپنے ہاتھ سے تراش کر بناتا ہے ، پھر منت مانی جاتی ہے ، اور اس سے مرادیں مانی جاتی ہیں ، اس کے سامنے اولاد وغیرہ کی صحت یابی کے لیے کی دعائیں کی جاتی ہیں ، اس کو سجدہ کیا جاتا ہے ، اس کی زیارت کو زیارت امام حسین سمجھا جاتا ہے ، یہ سب باتیں روح ایمان اور تعلیم اسلام کے اعتبار سے ناجائز ہے ۔

مجالس

ذکر شہادت کے لیے مجالس منعقد کرنا ، ان میں ماتم کرنا ، نوحہ کرنا ، روافض کی مشابہت کرنے کی وجہ سے ناجائز ہے ، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ، ” جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اس قوم میں سے ہے ” ۔

محرم کو غم کا مہینہ سمجھنا

بعض لوگ اس مہینہ کو رنج و الم کا مہینہ سمجھتے ہیں ، اور اس میں شادی بیاہ ، خوشی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے مختلف قسم کے سوگ مناتے ہیں ، جیسا کہ کالا لباس پہننا ، عورتوں کا زیب و زینت ، اور بناو سنگھار کا چھوڑ دینا ، نوحہ کرنا ، ماتم کرنا وغیرہ ، ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے ، کیونکہ احادیث مبارکہ میں اس کے بہت سارے فضائل وارد ہوئے ہیں ، لہذا اس مہینہ کو غم کا مہینہ سمجھنا درست نہیں ہے ۔

 

محرم کے مہینہ میں شادی نہ کرنا

بعض لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئ ہے کہ محرم کے مہینہ خصوصا محرم کے شروع کے دس دنوں میں شادی بیاہ اور خوشی کے تقریبات وغیرہ کرنا حرام ہے ، حالانکہ اس میں بعض پڑھے لکھے لوگ بھی مبتلاء ہیں ، یہ سوچ غلط ہے ، کیونکہ شریعت میں ایسی کوئ بات نہیں ہے ، شریعت میں محرم یا کسی دوسرے مہینہ میں نکاح سے منع نہیں کیا گیا ہے ، اور اس مہینہ میں زیادہ عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور نکاح بھی ایک عبادت ہے ،

ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب آدمی شادی کرتا ہے ، تو اس کا آدھا دین مکمل ہوتا ہے ، لہذا اس ماہ میں نکاح کرنا ممنوع نہیں ہے ۔

حضرت حسین کے نام پر سبیل ادا کرنا

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر سبیل لگانا ، اور کھانا پکانا ، اس کو کار ثواب سمجھا جاتا ہے ، محرم کے مہینہ کو خاص طور پر پہلے عشرہ میں سبیلیں لگانا ، پانی ، شربت وغیرہ کو خاص کرنا ، یہ دین میں زیادتی ہے ، لوگ اس میں ایک غلط عقیدہ یہ بھی رکھتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کربلا میں بھوکے پیاسے شہید ہوئے تھے ، یہ کھانا اور شربت ان کی پیاس کو بجھائے گا ، حالانکہ اس کی کوئ حقیقت نہیں ہے ۔

دس محرم کو کاروبار اور روزی میں تنگی کا تصور

دس محرم کو کاروبار کرنے کی وجہ سے پورے سال روزی میں تنگی رہتی ہے ، لہذا محرم کے دس دنوں میں کاروبار نہیں کرنا چاہیے ، یہ عقیدہ بناوٹی اور باطل ہے ،

نوحہ

غم اور مصیبت میں آنسو بہ جائے تو اس پر شریعت میں کوئ منع نہیں ، لیکن نوحہ کرنا ، اور ماتم کرنا ، اور میت کے اوصاف کو بیان کرکے رونا گناہ ہے ، کیونکہ نوحہ کرنے ، چیخنے ، چلانے ، کپڑے پھاڑنے ، اور منھ پر طماچے مارنے وغیرہ جیسے کام شریعت میں منع ہیں ۔

محرم میں قبرستان جانے کی پابندی کرنا

بہت سے علاقوں میں یہ رسم موجود ہے ، لوگ دس محرم کو قبرستان جاتے ہیں ، قبروں کی لپائ کرتے ہیں ، بتیاں جلاتے ہیں ، پھول ڈالتے ہیں ، ان کاموں کو خاص طور پر محرم کے دنوں میں کرنا ، اور ان دنوں میں مقصود سمجھنا بدعت ہے ، لہذا اس سے بچنا چاہیے ،

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات اور افراط و تفریط سے بچتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *