صحابہ کرام کی شرعی حیثیت۔

صحابہ کرام کی شرعی حیثیت

از قلم: عرفان ابو طلحہ التیمی

اس میں کوئی شک وارتیاب نہیں کہ صحابہ کرام اس آب گیتی کے اندر سب سے زیادہ مقدس ومتبرک سیرت وکردار کے مکمل علمبردار،صداقت وامانت کے سچے سپہ سالار، خوف خدا سے زیادہ مرعوب ہونے والے،تقوی وطہارت کے دلدادہ،شرک وبدعات سے دور اخوت و بھائی چارگی سے قریب،اسلام کے معنی و مفہوم کو سمجھنے میں اولین ، تعلیم الاسلام کو دنیاکے گوشے گوشے میں نشر کرنے اور سبقت لے جانے والوں میں ایک ہے۔ جن ہستیوں کو اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں چن لیا اس مقدس جماعت کی فضیلت واہمیت کے لئے یہ بات ہی کافی ہے جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ببانگ دہل ارشاد فرمایا: رضي الله عنهم ورضوا عنه”(سورة البینة:٨) کہ پروردگار ، ان سب سے راضی ہو چکا ہے اور وہ اپنے پروردگار سے راضی ہو چکے ہیں۔وحی الہی کے اولین مخاطب اور حقیقی علمبردار بھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جہنوں نے دین اسلام کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کر دیا اور پوری امت اس بات پر متفق ہوئ کہ “الصحابة كلهم العدول”کہ صحابہ کرام تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانت دار، عدل و انصاف کرنے والے،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والی ہستیاں ہیں۔ جن کی مثالیں رہتی دنیا تک زندہ جاوید رہیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے ان تمام ہمہ گیر ہستیوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا۔ دس صحابہ اجلہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زبانی جنت کی بشارت وشخبری سنایی۔ اس میں سرفہرست خلفائے راشدین اور چند دیگر فحول صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر خیر شامل ہے۔

لیکن مقام افسوس یہ کہ اعدائے اسلام نے سب سے پہلے صحابہ کرام کی پاکباز عزت و ناموس کو ہی ہدف نشانہ بنایا، انہیں بدنام ورسوا کرنے ان کے مقدس ومتبرک سیرت پر کیچڑ اچھالنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے اور ان کی آپسی تنازعات وتشاجرات نیز چپقلش کو موضوع بحث بنا کر ان کی شخصیتوں کو داغ دار اور مجروح کرنے کی پوری کوشش صرف کر دی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بعض لوگوں نے ضعیف ومن گھڑت روایات کا سہارا لیکر بعض کبار صحابہ کے بعض اجتہادی مواقف پر بےجا اعتراضات کیے۔ جن کی کوئی استنادی حیثیت نہیں ہے۔ اس لئے ان برگزیدہ ہستیوں کی زندگی کا مطالعہ اشد ضروری ہے تاکہ ہر شخص اپنے آپ کو ان کی سیرت وکردار کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔

ذیل کے سطور میں صحابہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف اور ان کی شرعی حیثیت بیان کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔

صحابی کی تعریف: صحابی لغت میں”صحبة صحبة وصحابة وصحابة” سے ماخوذ ہے جس کا اطلاق ایک ساتھ زندگی گزارنے والے پر ہوتا ہے اس کی جمع”صحب، صحاب، صحبان وصحابہ اور اصحاب کی جمع اصاحیب آتی ہے۔(لسان العرب لابن منظور، مادہ:صحب).

اصطلاحی تعریف:ہر وہ شخص جس نے بحالت ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ہو اور اسلام ہی پر اس کی موت ہوئی ہو۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ”أن الصحابي من لقي النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنا ومات على الإسلام فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت ومن روى عنه أو لم يرو ومن غزا معه أو لم يغز”( الاصابہ فی تمییز الصحابہ حافظ ابن حجر عسقلانی١/٧).

اس تعریف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:”ہر وہ شخص صحابہ میں شامل ہوگا جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ہو، خواہ اس کی نشست زیادہ دیر رہی یا کم، اور جس نے آپ سے روایت کی یا نہیں کی، اور جس نے آپ کی معیت میں جہاد کیا یا نہیں کیا اور جس نے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس اختیار نہیں کی اور جو کسی معذوری مثلاً نابینا پن کی وجہ سے آپ کو نہیں دیکھ سکا ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں وہ شخص صحابی کہلاے گا، جو شرف صحابیت سے مشرف ہوگا، البتہ ایسا شخص صحابی نہیں ہوگا جو آپ پر ایمان لانے اور آپ سے ملنے کے بعد مرتد ہو گیا ہو”۔(الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر ١/٧.٨).

صحابہ کی شرعی حیثیت: صحابہ کرام کا مقام اور ان کی شرعی حیثیت کو خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے:”محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم ترايهم ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله ورضوانا سيماهم في وجوههم من اثر السجود ذلك مثلهم في التوراة ومثلهم في الانجيل كزرع أخرج شطاه……………………………………….(سورة الفتح:٢٩).

“محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں (صحابہ کرام) وہ کافروں کے لئے بڑے سخت ہیں، اور آپس میں نہایت مہربان ہیں، آپ انہیں رکوع اور سجدہ کرتے دیکھتے ہیں، وہ لوگ اللہ کی رضا اور اس کے فضل کی جستجو میں رہتے ہیں، سجدوں کے اثر سے ان کی نشانی ان کی پیشانیوں پر عیاں ہوتی ہے، تورات میں ان کی یہی مثال بیان کی گئی ہے، اور انجیل میں بھی ان کی یہی مثال بیان کی گئی ہے، اس کھیتی کی مانند جس نے پہلے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے سہارا دیا تو وہ موٹی ہو گیی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی، وہ کھیت اب کاشتکاروں کو خوش کر رہا ہے (اللہ نے ایسا اس لیے کیا)تاکہ ان مسلمانوں کے ذریعہ کافروں کو غضبناک بناے، ان میں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیا، ان سے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے”۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے جن اوصاف کا ذکر کیا ہے ان میں ان کے ایمان اور ان اعمال صالحہ کا بیان ہے جن اوصاف کی وجہ سے ان کی مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ ہے، اسی لیے امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس امت کے سب سے افضل لوگ صحابہ کرام ہی ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر:٢٦١/٤).

ایک دوسری جگہ صحابہ کرام کی شرعی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(التوبہ:100)۔

ترجمہ:”اور مہاجرین وانصار میں سے وہ اولین لوگ جو (ھجرت اور ایمان میں) دوسرے پر سبقت لے گئے، اور وہ لوگ بھی جنہوں نے ان اولین لوگوں کی اخلاص کے ساتھ پیروی کی، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو گیا اور وہ سب اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے، اور اللہ نے ان کے لئے ایسی جنت تیار کی ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے”۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت نے مہاجرین صحابہ کرام اور انصار صحابہ کرام کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے تمام افراد کے لیے دو طرح کی بشارتیں دی ہیں، پہلی بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا، اور دوسری بشارت یہ کہ اللہ رب العالمین انہیں ہمیشہ کے لئے اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ محمد بن کعب قرظی نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام کو معاف کر دیا ہے، اور ان سب کے لئے جنت واجب کر دی ہے جو نیک عمل کرتے تھے ان کے لئے بھی اور جو خطا کار تھے ان کے لئے بھی۔ ( الدرالمنثور: ٢٧٤/٤).اسی طرح صحابہ کرام کی حیثیت کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ حدیث کے راوی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ”سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”خير القرون قرنى، ثم الذي يلونهم، ثم الذي يلونهم”(رواه البخاري، رقم الحديث:٢٦٥٢, وصحيح مسلم، حديث نمير:٢٥٣٣) یعنی میری صدی کے لوگ سب سے بہتر ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آییں گے۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آییں گے۔

خلاصۃ التحقیق یہ ہے کہ مذکورہ بالا قرآنیہ آیات اور حدیث نبویہ سے یہ بات بالکل مترشح ہوگئی کہ صحابہ کرام بلا استثناء اس امت کے سب سے افضل ترین انسان اور اللہ تعالی کے مقرب بندے ہیں

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام طالبان علوم و نبوت کو چاہیے کہ ان کی زندگی کا خوب خوب مطالعہ کریں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں۔

اللہ تعالیٰ تو ہمیں صحابہ کرام کی شرعی حیثیت کو پہچاننے کی توفیق ارزانی عطا فرمائے آمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *