کانگریس کی بگڑتی قیادت:ایک تجزیہ

 

کانگریس کی بگڑتی قیادت ایک تجزیہ

 

نتیجہ فکر :- محمد تفضل عالم مصباحی پورنوی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی 9889916329

 

 

ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے میں جس پارٹی کے رہنماؤں نے قیادت کی تھی آج اسی پارٹی کی قیادت کے لئے کوئی مستقل قائد نہیں مل رہا ہے۔ 2019ء کے لوک سبھا الیکشن میں شکت فاش کی وجہ سے راہل گاندھی کے استعفیٰ کے بعد سے کانگریس میں مستقل قائد کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ 2019ء میں سونیا گاندھی کو CWC کی ارکان نے عارضی طور پر ایک سال کے لئے قیادت کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اور یہ طے کیا گیا تھا کہ ایک سال کے اندر کانگریس کے ایک مستقل قائد کا انتخاب کیا جائے گا مگر افسوس کہ عہد پورا نہ ہو سکا۔ اور اب سونیا گاندھی کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے سونیا گاندھی نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی 24/ اگست 2020ء کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک میٹنگ بلائی تھی۔ تاکہ کانگریس کی کمان ایک مستقل قائد کے ہاتھ میں سونپی جائے ۔

 

24 اگست کی میٹنگ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا وہی عجیب المیہ پیش آیا۔ جو 2019ء کے لوک سبھا الیکشن کے بعد سے جاری ہے۔ یعنی اصل مدعا کو چھوڑ کر روٹھنے منانے پر زور دیا جانا۔ گاندھی خاندان کے افراد INC کی بڑی ذمہ داریوں سے خود کو دور کر رہے ہیں اس کے باوجود کانگریس کے اعلی لیڈران ساری ذمہ داریاں اسی خاندان کے کندھوں پر ڈال رہے ہیں۔ کیا کانگریس کے کارکنان میں کوئی ایسا فرد نہیں ہیں؟ جو کانگریس کی باغ ڈور سنبھال سکیں۔ تاکہ کانگریس پارٹی کو کامیابیوں سے بہرہ آور کیا جا سکے ۔ 24 اگست 2020ء کی کانگریس ورکنگ کمیٹی کے میٹنگ میں قیادت اور پارٹی کی فلاح و بہبود پر گفتگو کم ہوئی اس کے پلٹ ساری توجہ اس خط کی طرف چلی گئی ۔ جس کو کانگریس کے اعلی لیڈروں نے سونیا گاندھی کو بھیجا تھا۔ جس میں قیادت کے مدعے کو اٹھایا گیا تھا۔ میٹنگ کے شروعاتی دور میں ہی چٹھی پر دستخط کرنے والے کپل سبل، غلام نبی آزاد، راج ببر، ششی تھڑور، منیش تیواری، آنند شرما، بھوپیندر ہڈا سمیت 23 لیڈروں پر بی جے پی سے خفیہ طور پر ملے رہنے کا الزام لگایا گیا۔ یہیں سے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ارکان دو گروپ میں بٹے نظر آنےلگے۔ مگر فوراً حالات قابو میں کر لیا گیا۔ ذرا آپ ہی غور کریں کہ خط میں جس چیز کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس پر بحث ہوتی، خط لکھنے کی وجوہات پر غور و فکر ہوتا، اپنی کوتاہیوں، کمزوریوں اور نا اہلی پر تبصرہ کرتے نہ کہ سچ بولنے والوں ہی کو مورد الزام ٹھہراتے۔ اگر ایسا ہی حال رہا تو کانگریس کمزور پڑتی جائے گی۔ یہی اس کے مد مقابل بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم کی خواہش ہے۔ جو 2014 کے الیکشن سے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دے کر کانگریس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی شب و روز سعی کر رہے ہیں ۔ ہر محاذ پر کانگریس کی خامیوں کو عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں، اپنی کوتاہیوں، ناکامیوں کا سہرا کانگریس کے سابقہ قائدین کے سر ڈال رہے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو پھر کانگریس میں بگاڑ پیدا ہونا طے ہے۔ وقت ہے اپنے آپ کو مستحکم کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔

 

کانگریس کو کمزور کرنے اور بھگوا پرست بھاجپا کو مستحکم کرنے میں بھارت کی ضمیر فروش میڈیا نے بھی کمال کی کارکردگی انجام دی ہیں ۔ جہاں ملک کی معیشت کی کمر ٹوٹ رہی ہے، طبی سہولیات تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہی ہیں، بے روزگاری اپنے آخری چرم پر ہیں، فیکٹریاں مقفل ہوتی جا رہی ہیں، عوامی ملکیت لگاتار فروخت کئے جا رہی ہیں، ملک کی اتحاد و سالمیت خطرناک دور سے گزر رہی ہیں، کمزور کو اور بھی کمزور کیا جا رہا ہے، غنڈہ گردی شباب پر ہے، غریبوں، مزدوروں کی مدد کے بجائے سرمایہ داروں کے جیب بھرے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں میڈیا کو سرکار کی غلط نیتیوں، رویوں کا پردہ فاش کرنا چاہیے، عوام کو حکومت کے حکمت سے با خبر کرنا چاہیے۔ مگر افسوس حالات ایسے ہیں کہ چھ سال سے ستہ سے دور رہنے والی پارٹی سے سوالات پوچھے جا رہے ہیں اور ستہ سے سوال کی جسارت تک نہیں۔

 

کانگریس کی کمزور پڑتی قیادت اور دستخط شدہ خط کے جواب کی وجہ سے دیگر لوگوں کو زبان کھولنے کا موقع مل گیا۔ بھاجپا کی سینئر لیڈر اوما بھارتی نے تو یہاں تک کہہ گئ۔

 

” گاندھی نہرو پریوار کا وجود ختم ہو گیا ہے۔ ان کا سیاسی ورچسو ختم ہو گیا ہے۔ کانگریس کا وجود ختم ہو گیا ہے۔”

 

اوما بھارتی کو پتہ نہیں کہ درجنوں ریاستوں میں کانگریس ابھی بھی قابض ہے۔ اگر کانگریس کا ورچسو ختم ہو گیا ہے تو پھر کیسے 2018 کی اسمبلی الیکشن میں آپ کو دھول چٹائی تھی۔ اس پارٹی کے وجود کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ جس نے وطن کو آزاد کرانے میں نمایاں کردار ادا کی ہیں۔ جس کی قیادت 1920 میں گاندھی جی نے کرکے انگریزوں کو مات دی۔ اور نہرو بھی اسی پارٹی کے لیڈر تھے جنہوں نے 1929ء میں لاہور میں ترنگا کو لہرا کر آزاد بھارت کا نعرہ دیا تھا۔ ہاں کل بھی کانگریس کا وجود تھا اور آج بھی ہے۔ یہ بات قابل غور ضرور ہے جو ان کے سابقہ لیڈروں کی اتحاد و سالمیت، سماجی یکجہتی، مساوات و معدلت کی حکمت عملی آج اس کے دور میں نظر نہیں آ رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وجود ہی ختم ہو گیا۔

 

کانگریس کے اعلی لیڈروں کو اپنی ذمہ داری بخوبی نبھانی پڑے گی۔ ہر بوتھ کو مستحکم کرنا پڑے گا ۔ اتحاد کے ساتھ موجودہ سرکار کی غلط اسکیموں پر سوال اٹھانا پڑے گا۔ ذاتی مفاد چھوڑ کر عوامی مسائل پر گفتگو کرنی ہوگی۔ مسلمانوں، دلتوں، پچھڑوں اور دیگر کمزوری کے مسائل کو ایوان میں اجاگر کرنا ہوگا تب جا کر عوامی اعتماد مستحکم ہو سکے گا ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *