عاشوراء کی فضیلت اور سنیت۔

 

 

 

عاشوراء كي فضيلت اور سنيت

 

از قلم : محمدي ذكيه نياز احمد عبدالحمید

 

 

بسم الله الرحمن الرحيم

محرم حرمت اور عظمت والا مہینہ ہے اللہ سبحانہ وتعالی نے چار مہینوں کو حرام قرار دیا ہے جیسا کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے.

إن عدة الشهور عندالله اثنا عشر شهرا في كتاب الله يوم خلق السموات والأرض منها أربعة حرم زلك دين القيم فلا تظلموا فيهن أنفسكم ( سوره توبه : ٣٦) بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ / ١٢ ہیں – اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا – ان میں سے چار مہینے حرمت وادب کے ہیں – یہی درست دین ہے – تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو –

 

ھجری کلینڈر کے اعتبار سے محرم سال کا پہلا مہینہ ہے یہ ترتیب میں تیسرا حرام میہنہ ہے – زمانہ جاہلیت میں بھی عرب کے لوگ ان مہینوں کی تعظیم کرتے تھے – اس میں وہ قتل و غارت گری اور جنگ و خونریزی سے رکے رہتے تھے – حتی کہ اگر باپ کا قاتل بھی آدمی کو مل جاتا تو وہ اس پر ہاتھ نہ اٹھاتا –

دس محرم کو عاشوراء کہا جاتا ہے زمانہ جاہلیت میں لوگ اس کا روزہ رکھتے تھے –

 

عن عائشة رضي الله عنها قالت ” كان يوم عاشوراء تصومهُ قريش في الجاهلية ٠وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یصومه في الجاهلية؛ فلما قدم المدينة صامهُ و امر بِصيامه ِ؛ فلما فُرض رمضانُ ترک یوم عاشوراء. فمن شاء صامهُ ومن شاء تركهُ”

( بخاری مع الفتح ٤ / ٢٤٤)

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ قریش کے لوگ زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے جب آپ مدینہ آئے تو آپ نے اس کا روزہ رکھا اور لوگوں کو اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا. جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا گیا. اب جو چاہے وہ رکھے یا نہ رکھے ۔

 

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : افضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم

( صحيح مسلم، باب فضل صوم المحرم : ١١٦٣)

رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں.

 

عن ابن عباسٍ رضي الله عنهما قال ” قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فراي اليهود تصوم يوم عاشوراء فقال: ما هذا قالو : هذا يوم صالح، هذا يومٌ نجىّ اللهُ بنى إسرائيل من عدوهم فصامهُ موسى، قال :فأنا أحق بموسى منكم فصامهُ وأمر بِصيامه.

(بخاري مع الفتح ٤/٢٤٤)

 

 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلي الله عليه وسلم مدينہ آئے تو دیکھا کہ مدینہ میں یہودی اس دن روزہ رکھ رہے تھے. ان لوگوں سے پوچھا گیا. تو انھوں نے بتایا تھا کہ یہ مقدس دن ہے اس دن اللہ نے. موسی علیہ السلام کوفرعون سے نجات بخشی تھی ۔ اس خوشی میں ہم روزہ رکھتے ہیں. اس وقت رسول صلى الله عليه وسلم نے کہا تھا کہ تب تو ہم لوگ موسی علیہ السلام کے سلسلہ میں خوشی منانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ۔

 

 

اور اس بابت صراحت آئی ہے کہ موسی علیہ السلام نے بھی خوشی میں روزہ رکھا تھا ۔

 

 

عاشوراء کے روزہ کی فضیلت یہ ہیکہ گزرے ہوئے ایک سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے ۔

اود یہ وہ گناہ ہیں جو صغیرہ ( چھوٹے) ہوں گے ۔ کبیرہ ( بڑے) گناہ کے لئے توبہ کرنا ضروری ہے.

 

 

صيام يوم عاشُوراء احتسبُ على الله أن يكفر السنة التي قبلهُ.

 

“عاشوراء کے روزے کے بارے میں اللہ سے امید ھیکہ اسے وہ ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بنادےگا ۔ ( صحیح مسلم ٨ / ٤٩ )

 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء ( دسویں) کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ :اے اللہ کے رسول : اس دن کی یہود ونصاری تعظیم کرتے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آئندہ سال ان شاءاللہ ہم نویں کو روزہ رکھیں گے، راوی کا بیان ہے کہ آئندہ سال( محرم) آنے سے قبل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے۔ ( صحیح مسلم : ٨ / ١٢۔ ١١٣٤)

 

محترم قارئین یہ ہے دس محرم ( عاشوراء) کی سنیت ۔ اس دن سنت کے مطابق صرف روزہ رکھنا ہے ٩ اور ١٠ یا ١٠ اور ١١ کو روزہ رکھنا مسنون ہے اس لیے سنت کی پیروی کریں اس مبارک مہینے میں زیادہ نیکیاں کریں بدعتوں سے بچیں

 

رب العالمین ہمیں اس مبارک ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیک کام کی توفیق دے. آمین یا رب العالمین

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *