ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو۔

*ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو.*

 

مضمون نگار :سید جمیل الدین نظامی ریسرچ اسکالر مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد

تاریخ :23 اگست 2020

رابطہ نمبر :9182232006

 

اس وقت پورا کرہ ارض وبائی مرض کی لپیٹ میں ہے. ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے.پوری دنیا میں اب تک لاکھوں افراد اس وبا سے وفات پا گئے ہیں. کروڑوں کی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں. پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا، یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایب، ہر جگہ صبح و شام لوگ اس وائرس کی دہشت کو سن کر ڈپریشن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں. اس وقت جہاں وائرس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کر نے کی ضرورت ہے وہیں ڈپریشن اور ذہنی امراض سے بھی محفوظ ہو نے کی ضرورت ہے.

 

قرآن مجید کی آیات ہمیں توکل علی اللہ اور ایمان میں پختگی کی دعوت دی رہی ہیں. ان آیات کی تلاوت سے روح کو پاکیزگی اور ایمان کو جلا و طاقت ملتی ہے . قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے کے واقعہ کو بیان کیا گیا. آپ علیہ السلام کو دہکتی آگ میں ڈال دیا گیا، بظاہر آپ کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی، کیونکہ آگ کام ہی جلانا ہے. لیکن خدا کی رحمت دیکھیے کہ وہی آگ آپ کے لیے سلامتی والی بن گئی.

حضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کیا گیا،فرعون آپ کو پکڑنے فوج کے ساتھ پیچھا کررہا تھا.آپ بنی اسرائیل کے ساتھ آگے تھے، آپ کے لیے اور بنی اسرائیل کیلئے سمندر میں سے راستہ بن گیا ، جبکہ فرعون اور اس کی فوج کیلئے سمندر میں داخل ہونے کے بعد راستہ بند ہو جاتا ہے اور فرعون فوج سمیت سمندر میں ڈوب جاتا ہے . حضرت یوسف علیہ السلام کو آپ کے بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا. بچنے کی کوئی امید نہیں تھی لیکن یکایک ایک قافلہ آتا ہے اور کنویں میں ڈول ڈالتا ہے آپ حسن اتفاق سے باہر تشریف لاتے ہیں .اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نگل گئی، تقریباً چالیس روز تک آپ مچھلی کے پیٹ رہے . اس کے بعد خدا کی رحمت سے مچھلی کے پیٹ سے باہر آتے ہیں کچھ دن کے اندر آپ صحیح و تندرست ہوجاتے ہیں.

آگ کا سلامتی والی ہو جانا، سمندر میں راستہ بن جانا، مچھلی کے پیٹ سے زندہ باہر آنا، یہ تمام واقعات ہمیں دعوت غور و فکر دے رہے ہیں، حالانکہ یہ معجزات صادر ہوکر صدیاں گزر چکی ہیں،اس کے باوجود قرآن کریم میں دوبارہ ذکر کرنا ہمارے ہی لیے ہے. اس میں پیغام ھیکہ جو انکا خدا ہے وہی تمہارا بھی خدا ہے، ان کے لیے آگ سلامتی والی ہو سکتی ہے تو تمہارے لیے بھی ہو سکتی ہے. ان کے لیے سمندر میں راستہ بن سکتا ہے تو تمہارے لیے بھی بن سکتا ہے. مگر شرط یہ ہے کہ توکل علی اللہ اور ایمان باللہ مضبوط ہو.

 

آج بھی ہو جو براہیمؑ سا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے اندازِ گُلستاں پیدا

 

مندرجہ ذیل آیات مبارکہ پڑھیں اور معانی پر غور کریں، ان کے تلاوت سے کمزور انسان تازہ دم ہو جاتا ہے. مایوس افراد کی مایوسی ختم ہو جاتی ہے.

1- عَسٰٓى اَنْ تَكْـرَهُوْا شَيْئًا وَّهُوَ خَيْـرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَيْئًا وَّهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ؕ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (216 بقرة)

ممکن ہے تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے مضر ہو، اور اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

2-قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

کہہ دو کہ : ’’ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اﷲ سارے کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

3-وَلَا تَيْاَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّـٰهِ ۖ اِنَّهٝ لَا يَيْاَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّـٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُوْنَ ( سورہ یوسف 87) اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہین

4-وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْـمَةِ رَبِّهٓ ٖ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ (سورة حجرات 56)

اپنے رب کی رحمت سے نا امید تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔

 

*شر میں خیر تلاش کریں*

 

ہمیں چاہیے کہ ہر چیز سے خیر کو ٹھونڈ کر نکالیں، بھلائی کو تلاش کریں، منفی سوچ چھوڑیں. گندی مکھی ہمیشہ گندگی پر بیٹھتی ہے، شہدکی مکھی پھل پھول کو تلاش کر کے بیٹھتی، لہذا ہمیں اپنے آپ کو اور ہماری سوچ کو شہد کی مکھی طرح بنانا چاہیے کیونکہ وہ صرف اچھی جیزوں پر بیٹھتی ہے، گندگی کی مکھی طرح ہرگز نہ بنیں کہ صرف صبح وشام برائی سوچتے ر ہیں. ہمیشہ اور بالخصوص لاک ڈاؤن کے دوران افواہ پھیلانے والوں سے اور انکی باتوں سے بچیں، چند افراد تو افواہ پھیلانے میں اسپیشلسٹ ہوتے ہیں جن کا کام ہی صبح وشام ڈر وخوف پھیلانا رہتا ہے، ایسے خوف کے وائرس سے متاثر شدہ افراد سے جسمانی دوری بنائے رکھیں، اپنے آپ کو اچھے کاموں میں مصروف رکھیں . جو شخص جتنے اچھے اور عمدہ کاموں میں مصروف رہتا ہے وہ اتنا ہی مثبت اور پوزیٹیوف رہتا ہے.

کسی شاعر نے کہا کہ :

شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے

یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے

 

. جو افراد اچھی سوچ کے حامل ہوتے ہیں وہ برے حالات میں بھی اچھے کام کرنے کا ہنر جانتے ہیں. تاریخ میں ہمیں ایسی بہت ساری شخصیات ملتی ہیں جنہیں پابند سلاسل کیا گیا تھا، وہ تنہائی کے قیمتی لمحات کو بروئے کار لاتے ہوئے عظیم تصانیف لکھی ہے. یہ لاک ڈاؤن نافذ کر نا ہرگز قید میں رکھنا نہیں ہے، لیکن اس میں بھی ایک قسم کی خلوت اور تنہائی ہے. اس دوران ہم ارکان خاندان میں یا دور رہنے والے افراد کو آن لائن درس و تدریس کے ذریعہ افادہ واستفادہ کرسکتے ہیں، تصنیف و تالیف بھی عمدہ مشغلہ ہے. سابق میں بہت سارے اکابر کی قید تنہائی میں یہی مصروفیت رہی ہے. آیے چند اکابر کی قید کے دوران کی انکی مصروفیات کو دیکھتے ہیں.

1- فقه حنفي کے عظیم بزرگ شمس الأئمة محمد بن أحمد بن أبي سهل السَّرَخْسِيّ الخزرجي الأنصاري ( المتوفى 483 هـ). آپ کو ظالم حاکم وقت کے بارے میں کلمہ حق بولنے کی پاداش میں پندرہ سال قید تنہائی کی سزا ایک کنویں میں دی گئی. آپ نے جزع وفزع کے بجائے ان اوقات کو تصنیف و تالیف میں صرف فرمایا، اور فقہ حنفی کی سب سے بڑی کتاب” المبسوط في الفقه ” تیس جلدوں میں اور “شرح السير الكبير” دو جلدوں میں املاء فرمائی.

2-الشيخ ابن تیمیہ بھی اپنی زندگی کے قیمتی سال زنداں میں گزارے ، آپ کے فتاوی و رسائل نیز متعدد کتب دوران حراست ہی پایہ تکمیل کو پہونچی.

3- ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابو الکلام آزاد نے بھی برطانوی تسلط کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے جیل کی سزا پائی،آپ نے اپنے مشہور تفسير وترجمہ قرآن کے معتدبہ اجزاء دوران قید ہی تالیف فرمائی.

4- ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی مشہور زمانہ کتاب ” The Discovery of India”(ہندوستان کی دریافت ) بھی قید خانہ کے وجہ سے منظر عام پر آئی ہے.

 

*عربی زبان کے اینٹی ڈپریشن اقوال زریں.*

 

عربی زبان کا دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں شمار ہوتا ہے.اس کو زمانے کے نشیب وفراز کا کافی تجربہ ہے. عربی زبان نے زمین کی پستی بھی دیکھی اور آسمان کی بلندی بھی. اس کے بولنے والوں میں دنیا کے نہایت ہی حکیم دانشمند، ذہین افراد گزرے ہیں. ان اقوا ل کو پڑھنے سے مصائب و مشکلات پرصبر کرنے اور پرسکون رہنے کی تحریک ملتی ہے، عربی زبان کا دامن اس قسم کے اقوال سے بھرا ہوا ہے، آپ بھی پڑھیں اور لطف اندوز ہو.

1-عربی زبان کا مقولہ ہے ” الجزع عند المصيبة مصيبة أخرى ” جسکا مطلب ہے کہ مصیبت میں مبتلا ہو نے کے وقت اسکا مقابلہ کرنے کے بجائے پریشان ہوجانا خود ایک دوسری مصیبت ہے. لہٰذا ہمیں قنوطیت اور ڈپریشن کا شکار ہونے کے بجائے مثبت سوچ کے ساتھ مصیبت کا مقابلہ کرنا چاہیے.

2-“اكثر ما يخاف لا يكون”

جس کا مطلب ہے کہ اکثر وہ چیزیں جس سے خوف کھایاجاتاہے وہ واقع نہیں ہوتیں .

3-” الصبر مفتاح الفرج “یعنی صبر راحت و إزالہ کلفت کی کنجی ہے. لہٰذا آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہ مصیبت ٹل جائے تو آپ کو چاہیے کہ صبر کریں اور گھر میں ہی رہیں.

4- “الوهم نصف الداء، والاطمئنان نصف الدواء، والصبر أول خطوات الشفاء. ”

جس کا ترجمہ ہے کہ بے بنیاد خیال اور وہم آدھی بیماری ہے، چین وسکون اور اطمینان قلب آدھی دواء ہے، اور صبر شفا کے سمت پہلا قدم ہے.

5-الجزع لا يدفع القدر ولكن يحيط الأجر : پریشانی کے وقت گھبرا کر شکوہ وشکایت کرنا تقدیر کوتو بدل نہیں سکتا لیکن صبر کے ذریعہ ملنے والے اجر کو ختم کر دیتا ہے.

6-أنفق مافي الجيب يأتيك ما في الغيب : اپنے جیب میں سے خرچ کر غیب سے تیرے پاس آئیگا. موجود حالات میں غریب افراد خاندان، پڑوسیوں کی مدد کریں اللہ تعالٰی سے امید ہے کہ وہ غیب سے آپکی مدد کریگا.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *