عاشوراء کے وہ کام جو جائز نہیں۔

 

عاشوراء کے وہ کام جو جائز نہیں

 

از قلم :محمدی ذکیہ نیاز احمد عبدالحمید مالیگاوں

 

بسم الله الرحمن الرحیم

اللہ کی تقدیر اور اس کی مشیت سے دس محرم سن ٦١ ہجری میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا ۔ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ اس حادثے سے اسلام کو بہت نقصان پہنچا ۔ اور اس وقت سے آج تک امت مختلف قسم کی بدعتوں اور گمراہیوں کا شکار ہے.

شہادت حسین ایک اتفاقی امر ہے. عاشوراء کی فضیلت پہلے سے چلی آرہی ہے. سن ٦١ ھجری میں جو واقعہ پیش آیا وہ دین کا حصہ کیسے بن سکتا ہے. وہ واجب اور سنت کیسے ہو سکتا ہے ۔

عاشوراء کے سلسلے میں مسلمانوں کا بڑا طبقہ گمراہی کا شکار ہو گیا ہے ۔ کچھ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے دشمنی رکھتے ہیں ان کو ناصبہ کہا جاتا ہے. یہ عاشوراء کو خوشی مناتے ہیں. اچھے اچھے کپڑے پہنتے ہیں. اچھے کھانے پکاتے ہیں. دوسری جماعت وہ ہے جو حضرت حسین کو دھوکہ دے کر کوفہ لے جا رہی تھی. یہ شیعہ ہیں انہوں نے ایک طرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ دھوکہ کیا. ان کی شھادت کے بعد ان پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں. تیسری جماعت اھل حدیث کی ہے ۔ جنہوں نے بیچ کا راستہ اپنایا ہے. نہ خوشی مناتے ہیں اور نہ ہی غم کرتے ہیں بلکہ سنت کے مطابق اس دن روزہ رکھتے ہیں۔

 

تعزیہ داری اس مہینے کی سب سے بدترین بدعت ہے تعزیہ یہ حضرت حسین کی قبر کی شبیہ ہے. ہندوستان میں اس کی ایجاد تیمور لنگ شیعی نے سن ٨٠١ ھجری میں کی ہے. اس نے کربلا سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کی نقل منگوائی پھر اس کو تعزیہ کی شکل میں تیار کرایا. تاکہ وہ اور ہندوستان کے دوسرے شیعہ اس کی زیارت کرسکیں. اور ہر سال کربلا جانے کی زحمت سے بچ سکیں ۔

 

چنانچہ بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روح حاضر ہوتی ہے. اس وجہ سے اس کی تعظیم کرتے ہیں. اور اس سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں جبکہ بزرگوں کی روحوں کو حاضر سمجھنا اور ان سے مرادیں مانگنا کفر وشرک ہے ۔

 

لوگ ماہ محرم کے پہلے عشرہ میں واقعہ کربلا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور آپ کے گھر والوں کے واقعہ کو بیان کرنے کے لیے دس دنوں کااسٹیج سجاتے ہیں. بڑے بڑے خطباء اور مقررین ( تقریر کرنے والے) کو بلایا جاتا ہے وہ لوگ ہر قسم کی بدعات و خرافات کو بیان کرتے ہیں. نوحہ وماتم کرتے ہیں. تعزیہ نکالتے ہیں. ڈھول تاشے بجاتے ہیں. تلواروں اور چھریوں سے سینے پر مارتے ہیں. مختلف انداز میں ماتم کرتے ہیں. جیسے آگ پے چلنا، چھری سے اپنے جسم کو زخمی کرناوغیرہ ، مرد اور عورت کالے لباس پہنتے ہیں ۔ اسی طرح یا حسن یا حسین کا نعرہ لگاتے ہیں. صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکباز بیویوں پر الزام لگاتے ہیں ۔ والعياذ باللہ

 

اللہ نے ان حرام مہینوں کی اہمیت اور پاکیزگی کو واضح کردیا. رب العالمین کا فرمان ہے فلا تظلموا فيهن أنفسكم ( سورہ توبہ: ٣٦) ” تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو”

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ اسی مہینے میں اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی جاتی ہے. کسی بھی شخص پر نوحہ وماتم کرنا حرام ہے

عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس منّا من ضرب الخُدود، و شقّ الجیوب، و دعا بدعوی الجاھلّیۃ ( بخاری مع الفتح : ٣ / ١٦٦ باب نمبر ٣٨)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو غم اور مصیبت کے وقت اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار پکارے”

 

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک اہم اور غم انگیز واقعہ ہے. لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس سے پہلے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سید الشھداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور بہت سے صحابہ کرام شھید ہوئے ۔ کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ان کی برسی منائی یا ان پر نوحہ وماتم کیا؟ یا صحابہ کرام کو نوحہ وماتم کرنے کا حکم دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادتیں ہوئیں ۔ اور ان کی شہادتیں ایسی تھیں کہ اگر کسی شہادت کی یادگار اور برسی منائی جاسکتی تو سب سے پہلے ان لوگوں کی برسی منائی جا تی ۔ اور ان کی یاد تازہ کر نے کے لئے مخصوص مجالس کا قیام ہوتا۔ مگر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں نے ایسا نہیں کیا تو یقیناً یہ دین میں نئ بات ہے ۔ اور دین میں نئ چیز کا ایجاد کرنا بدعت وگمراہی ہے ۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ” من أحدث في امرنا هذا ما ليس فيه فهو رد ( بخاری مع الفتح ٥ / ٣٠١)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول صلی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمارے دین میں نئ چیز ایجاد کی تو وہ مردود ہے”

 

اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اس بابرکت مہینے میں سنت پر عمل کریں اور بدعتوں سے بچیں اللہ رب العالمین ہمیں نیک کام کی توفیق دے . آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *