شہیدان راہ حق شہیدان کربلا کا پیغام:امت مسلمہ کے نام۔

شہیدانِ راہِ حق شہیدانِ کربلا کا پیغام؛ امت مسلمہ کے نام

از قلم:مفتی احمد عبیداللہ یاسر قاسمی

امام و خطیب مسجد محی الدین ونستھلی پورم

832026y@gmail.com

+918121832026

تاریخ اسلام کا المناک سانحہ

جگر گوشہ رسول ﷺ نور نظرِ بتول اور سردار جوانان جنت ابو عبد اللہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی سرزمین پر دس محرم الحرام ٦١ھ کے دن جس سفاکیت اور درندگی کے ساتھ شہید کیا گیا وہ تاریخ اسلام کا خونچکاں باب ہے ، جب آپ اور بہتر اہل بیت کے خون کی سرخی نے کربلا کی زمین کو لالہ زار کردیا تھا تو یہ دل دوز اور روح فرسا منظر نے زمین وآسمان کو رونے پر مجبور کردیا تھا اس معرکے میں وہ پاک نفوس شہادت کے مقام پر فائز ہوئے تھے جو عالم انسانیت کے لیے رونق و زینت اور مسلمانوں کے لیے شرف و عزت اور خیر و برکت کا باعث تھے، مردانگی و جوانمردی، پاکیزگی و پاکبازی، تقدس و تقویٰ، اتباع سنت و شریعت اور دینی حمیت و شجاعت کا وہ گلدستہ تھے جو ساری دنیا کو منور کرنے کے لیے کافی تھے، ١٠محرم الحرام ٦١ھ کو یہ نفوس قدسیہ کا قافلہ کوفہ کی سرزمین پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے دین حق کی سربلندی کے لئے جام شہادت نوش فرمایا اس مقدس قافلے نے اپنے مالک سے اس کی رضا، اس کے نام کی بلندی اور اس کے دین کی فتحمندی کے لیے آخر سانس تک کوشش کرنے اور اس راہ میں اپنا سب کچھ مٹا دینے کا عہد کیا تھا، جب تک ان کے دم میں دم رہا، اسی راہ میں سرگرم رہے بالآخر اپنے خون شہادت سے اس پیمان وفا پر آخری مہر لگا دی۔

 

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے راستے میں

چراغ ہم نے جلائے وفا کے راستے میں

 

موجودہ دور کے تباہ کن حالات اور واقعہ کربلا کا بھولا ہوا سبق

آج امت مسلمہ اس وقت جن تکلیف دہ و روح فرسا حادثات سے گزر رہی ہے اس کی نظیر ماضی میں ملنی مشکل ہے، اس کا وجود کئی صدیوں سے مسلسل و لگاتار نت نئے فتنوں حادثوں و سازشوں اور کفار کی یورشوں کی زد میں ہے، مسلمانوں پر ایک ابتلاء کا دور ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، اک شبِ غم ہے جس کے مقدر کے ستارے گردشِ ایام اور مسلمانوں کے شامتِ اعمال کے باعث کہیں سو گئے ہیں،پوری امت معاشی، معاشرتی، تہذیبی و تمدنی، غرض زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی تباہ کن صورتحال سے گذر رہی ہے

لیکن آج ہمارا کیا حال ہے؟

ہم اصل شریعت کو بھلا کر قسم قسم کے بدعات و رسومات اور خرافات میں کھو گئے ہیں، پیغام شہادت کو بھلاکر بس یوم عاشوراء کو شہیدانِ کربلا کا تذکرہ کرتے ہیں اور سال بھر خاندان اہل بیت کی اس عظیم ترین قربانی کے مقاصد اور اس کے اھداف کو کلی طور پر نظر انداز کررہے ہوتے ہیں، صرف رسمی طور پر یوم عاشوراء میں شہدائے کربلا کا تذکرہ کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس عظیم قربانی کا حق ادا کردیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ماضی کے نقوش کو فراموش کردیا، اسلاف کی قربانیوں سے صرف نظر کرلیا، اور فانی دنیا کے لذات میں مشغول ہوگئے جسکی وجہ سے ہم ذلت و خواری کے عمیق دلدل میں جا گرے ہیں

آزمائشیں تو دنیا کی امامت اور حیاتِ جاودانی عطا کرتی ہیں

کس چیز کا غم؟ کیسا اظہار افسوس؟ کس بات پر ناکامی کی نوید؟ کونسا دکھ؟ کیا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے انکا مثلہ نہیں بنایا گیا؟ ان کے کلیجہ کو نکال کر نہیں چبایا گیا؟ یہ بھی تو ایک دردناک شہادت ہے کیوں انکا تذکرہ نہیں کیا جاتا؟کیا حضرت سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو بر سر عام سولی کے کھمنبے پر چڑھا کر تیروں، نیزوں سے چھلنی چھلنی نہیں کردیا گیا تھا؟

کیااسلام کی سربلندی کے لیے اسلام کی سب سے پہلی شہیدہ خاتون حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی شرمگاہ پر نیزہ مار کر شہید نہیں کیا گیا تھا؟

کیوں ان شہداء پر مرثیہ نہیں کہا جاتا؟ کیوں دس محرم الحرام ہی کے دن جو بہتر دیگر شہداء ہیں ان کا تذکرہ نہیں ہوتا؟

شہادت تو ایک انمول اعزاز ہے تم نے ان خرافات سے اسکی توہین کی ہے، شہادت تو خدائی انعام ہے جو دنیا کی امامت اور حیات جاودانی عطا کرتی ہے تم نے ان بدعات کے ذریعے اس کا مذاق بنایا ہے شہادتیں رونے کے لئے نہیں ہوتیں، اسلام کا چہرہ تو شہداء کے خون اور قربانیوں سے دمک رہا ہے

*شہیدانِ راہِ حق کا پیغام*

* آج ضرورت ہے کہ ہم شہیدانِ راہ حق کے پیغام کو اجاگر کریں، مقصد قربانی اور اسکی روح سے اپنے آپ کو متنبہ کریں، دیکھیں کہ شہدائے کربلا میں عین حق کے لیے ڈٹ جانے کا پیغام ہے، جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپر ہونا اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جان کی بازی لگادینے کا پیغام ہے، نا مساعد اور ناموافق حالات میں احقاق حق اور ابطال باطل کا پیغام ہے، اسباب دنیوی، مادی ظاہری پر بھروسہ نہ کر کے دفاع حق کے لئے تن من دھن کی بازی لگادینا اور اللہ پر کامل یقین کا پیغام ہے،مصائب کی شدت میں، تلواروں کی جھنکاروں میں، نیزوں اور تیروں کے حملوں میں بھی احکام الٰہی کا پابند رہنا، میدان کارزار میں بھی نماز باجماعت ادا کرنے کا پیغام ہے، آج صرف شہید مظلوم کی محبت کا ڈھونگ رچانے والوں، شہادت حسین کے نام پر بدعات و خرافات کو رواج دینے والوں، نواسہ رسول کے نام پر افراط و تفریط کا شکار ہونے والوں کو ذرا غور کرنا چاہیے! اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے! کیا شہادت حسین اور ہمارے اعمال میں ادنی مناسبت بھی پائی جاتی ہے یا نہیں؟

* کیا شہادت حسین کے مقاصد اور موجودہ دور کے خرافات میں ادنی مناسبت بھی ہے؟؟

یاد رکھیں!!

آج اگر ہم نے اس پیغام کو بھلایا اور عظیم الشان قربانی کو تم نے فراموش کرکے ضائع کر دیا تو اس سے خطرناک جرم اور اس سے بڑا سانحہ اور اس سے بڑھ کر حوصلہ شکن اور یاس انگیز کوئی بات نہیں ہو گی

 

شہیدانِ راہ حق کا پوری امت مسلمہ سے سوال

اگر شہیدان راہِ حق،شہیدانِ کربلا پوری امت سے یہ سوال کرلیں کہ ہم نے جس دین کی روشنی کو عام کرنے کے علم جہاد کو بلند کیا، کوفہ کی سرزمین پر ہمارے خون شہادت کی مہریں اور ہمارے شہیدوں کی قبریں ہیں، کیا تم نے اس خون شہیداں کا کوئی حق ادا کیا؟ کیا اسلام کے نفاذ کی کوشش کی؟ کیا خدا کی سرزمین پر بقائے اسلام کے لیے کوشاں رہے؟ تہذیب و معاشرت، تعلیم وتربیت اخلاق و سیرت، قانون و سیاست میں کیا تم نے شریعت کی پاسداری کی؟ اگر حقیقت یہ نہیں ہے تو بتاؤ! خدا کی بارگاہ میں کیا جواب دوگے؟ نبی کریم علیہ السلام سے کیسے روبرو ہوگے؟ جس دین کے نفاذ کے لیے خاندان نبوت کے چشم و چراغوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی، جسکے لئے نفوس قدسیہ سر پر کفن باندھ کر نکلے تھے

 

* *کردار حسین پوری امت کے لیے مشعل راہ*

حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور خاندان اہل بیت کا کردار آج بھی متلاشیان حق کے لئے راہ حق میں مینارہ نور ہے پوری امت بلکہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے حریت،آزادی رائے،اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے آپ کی شہادت ایک پائندہ و تابندہ سبق ہے، جبر و استبداد، ظلم و جور کے سامنے رضائے الہی کے لیے سینہ سپر ہو جانا کا ایک پوشیدہ پیغام ہے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *