نکاح کوئی رسم نہیں بلکہ عین عبادت ہے۔

نکاح کوئ رسم نہیں بلکہ عین عبادت ہے

 

از قلم : مجاہد عالم ندوی

استاد : ٹائمس انٹر نیشنل اسکول محمد پور شاہ گنج ، پٹنہ

رابطہ نمبر : 8429816993

 

نکاح ایک عبادت کا نام ہے ، ایک سنت کا نام ہے ، نبیوں کے ایک طریقے کا نام ہے ، نکاح انسان کی اصلاح و تربیت میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے ، نکاح انسان کو بد نظری سے بچاتا ہے ، خواہشات نفسانی سے بچاتا ہے ، شہوت رانی جیسی اہم برائیوں سے بچاتا ہے ۔

نکاح ایک انسانی ضرورت ہے ، اسی سے نسل انسانی قائم ہیں ، نکاح اخوت و محبت پیدا کرتا ہے ، صلہ رحمی کے جذبات کو فروغ دیتا ہے ۔

نکاح عورت کے مقام و مرتبہ کو بلند کرتا ہے ، اس کو بیوی بنا دیتا ہے ، جس کی عزت و آبرو کا محافظ اس کا شوہر ہوتا ہے ، اس کو ماں بنا دیتا ہے ، جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔

نکاح کے ذریعے ایک عورت بیوی بن جاتی ہے ، بہو بن جاتی ہے ، ماں بن جاتی ہے ، ساس بن جاتی ہے ، محبت کا محور بن جاتی ہے ، اسلام نے نہ صرف انسانی ضرورت کا خیال رکھا ہے ، بلکہ دوسرے مذہب کے خلاف نکاح کو عبادت و اطاعت کا جزء قرار دیا ہے ۔

معاشرتی بے راہ روی اور بے کاری کو دور کرنے میں نکاح نے ہمیشہ بڑا موثر کردار ادا کیا ہے ، نکاح محض کوئ رسم نہیں بلکہ عین عبادت ہے ، آپسی معاہدہ ہے ، زندگی کے اتار چڑھاو ، نشیب و فراز اور نا ہمواریوں میں ہم اکیلے نہیں بلکہ ہم سب مل کر ہر طرح کے حالات کا سامنا کریں گے ، خواہشات نفسانی اور آنکھوں کے بے شمار فتنوں سے خود اپنی حفاظت کریں گے ، اور ایسا کر کے معاشرہ کے فساد اور بگاڑ کو روکنےکی بھی کوشش کریں گے ، غیر ذمہ داری کا رجحان معاشرے میں تباہی لاتا ہے ، اور نکاح کی ذمہ داری افراد کو تیار کر کے معاشرہ کو بے شماربربادیوں سے بچاتا ہے ۔

چونکہ زنا کاری ، بے حیائ اور بد کرداری سے معاشرہ کا بہت نقصان ہوتا ہے ، بسا اوقات ایک بد کردار اور بد تہذیب آدمی کے وجود سے آس پاس کا پورا معاشرہ اور ماحول بدل جاتا ہے ،

ہمارے بچے اچھی چیز کی نقل اتارنے میں مہینوں تک کیا بلکہ اس سے بھی زیادہ دن لگا دیتے ہیں ، لیکن بری چیز کی نقل بہت کم مدت میں اتار لیتے ہیں ، اس سلسلے میں اسلام نے بچنے کے بہت آسان طریقے بتائے ہیں ، بے حیائ اور زنا کاری سے معاشرہ میں فتنے پھیلانے والے شخص پر کڑی دفعات اور حدیں لگائ ہیں ۔

نکاح کے اندر عموما جو تین آیات پڑھی جاتی ہیں ، وہ میاں بیوی کے لیے گائیڈ لائن اور نشان راہ ہیں ، نکاح سے تقوی پیدا ہوتا ہے ، تقوی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اندر سلیقہ مندی آجائے گی ، ہم لحاظ کرنے والے ہو جائیں گے ، اور ہمارے ذہن و دماغ میں یہ بات راسخ ہو جائیں گی ، ہمارا رب ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے ، ہمارے سارے اعمال اس کی نگاہوں میں ہیں ، بلکہ ہم سب جو کچھ کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالی کی میموری میں ریکارڈ ہو رہا ہے ، وہ ریکارڈ ہمیں آخرت میں سنایا اور دکھایا جائے گا ، ہمارے ہاتھ ، پاوں ، ناک ، کان ، آ نکھ ، منھ اور دیگر اعضاء جسمانی سب میموری ہیں ، یہ سب آخرت میں ہمارا بھید اور ریکارڈ کھول کر رکھ دیں گے ، جس شخص میں یہ احساس ہو جائے کہ وہ اللہ تعالی کے کیمرے کی نظر میں ہے ، اس لیے ہم سب بد اعمالی کو چھوڑ دیں ، اور اپنے مالک حقیقی کو ہر وقت خوش کرنے کی کوشش میں لگ جائیں ، یقینا وہی اصلی متقی اور پرہیزگار ہے ۔

شادی بیاہ میں اسراف اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائ ہیں ، شادی کو سادہ کریں ، شین کے تین نقطے کو ختم کر دیں ، سادگی اور کم خرچی کو رواج دیں ، بےجا رسم و رواج کو ختم کر دیں ، اور آسان سے عمل کو مشکل ہرگز نہ بنائیں ، ورنہ کمزور اور غریب لوگوں کا راستہ مشکل ہو جائے گا ،

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نکاح پائیدار ہو ، برکتوں اور رحمتوں کا ذریعہ ہو ، ہماری ازدواجی زندگی خوشگوار ہو ، نا اتفاقی ، نا چاقی ، اور آپسی تنازعات و فسادات سے ہمارا گھر محفوظ ہو تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دی گئی ہدایات کے مطابق سادگی کے ساتھ شادی کریں گے تو پھر یہ عبادت بھی بنے گا ، اور ہماری ضرورتوں کو بھی بدرجہ اتم پوری کرے گا ،

اللہ رب العزت ہمیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے کی توفیق نصیب فرما ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *