ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث ہوگا ۱

ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث ہوگا (۱)

 

ابوعدنان محمد طیب السلفی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات فی المجمعہ

 

محترم قارئین!

آج لوگوں میں ظلم عام ہے جب کہ قرآن کریم اور سنت مطہرہ میں ظلم کی مذمت اور ظالموں کےبُرے انجام کو بڑے شدومد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

ظلم کواللہ نے اپنے اوپراورلوگوں پرحرام کر رکھا ہے، حدیث قدسی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: (ياعِبَادِي إنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ علَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فلا تَظَالَمُوا ) ’’ اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اورتم میں باہم ایک دوسرے کے ساتھ ظلم وزیادتی کو حرام کر رکھا ہےاس لئے [دیکھو]تم ایک دوسرے پر ظلم نہیں کرنا ‘‘ ( صحیح مسلم )

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اتَّقُوا الظُّلْمَ، فإنَّ الظُّلْمَ ظُلُماتٌ يَومَ القِيامَةِ، واتَّقُوا الشُّحَّ، فإنَّ الشُّحَّ أهْلَكَ مَن كانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ علَى أنْ سَفَكُوا دِماءَهُمْ واسْتَحَلُّوا مَحارِمَهُمْ) ’’ ظلم سے بچو! کیوں کہ قیامت کے دن ظلم ظلمات وتاریکیوں کا باعث ہوگا، اورشح[ بخل، طمع ولالچ] سے بچو! کیوں کہ شح نے ان کو ہلاک کردیا جو تم سے پہلے گزرے ، یہ وہی چیز تھی جس نے انہیں خون ریزی اور ہتک حرمت پر آمادہ کیا‘‘ (صحیح مسلم )

ظلم کی تعریف : ائمہ لغت کا اس بات پراتفاق ہے کسی چیز کو اس کے غیر محل میں رکھنا ظلم ہے۔

ظلم کی تین قسمیں ہیں :

ظلم کی پہلی قسم : انسان اپنے رب کے ساتھ ظلم کرے جس کی صورت یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کفر کرے، فرمان الہی ہے ( وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ)’’ اورکافر لوگ ہی ظالم ہیں ‘‘ ( البقرہ آیت ۲۵۴)

اس کی عبادت میں شرک کرے جس کی شکل یہ ہے کہ اس کی بعض عبادتوں کو غیر اللہ کے لئے پھیر دے، اور شرک کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے (إن الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) ’’بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے‘‘ (سورہ لقمان آیت: 13 )

اس کائنات میں سب سے بڑا ظلم خالق کائنات کے ساتھ شرک کرنا ہے ۔

ظلم کی دوسری قسم : انسان اپنے آپ پر ظلم کرے وہ اس طرح کہ انسان خواہشوں کی پیروی کرنےلگ جائے، واجبات میں کوتاہی اورسستی کرے، اپنے آپ کو انواع واقسام کی جرائم، برائیوں اورگناہوں میں ملوث کرلےجوکہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نافرمانیاں ہیں، فرمان الہی ہے : ( وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ) ’’ان پراللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پرظلم کرتے رہے‘‘ ( سورہ نحل آیت: ۳۳)

ظلم کی تیسری قسم : انسان اللہ کے بندوں اورمخلوقات پر ظلم کرے جس کی صورت یہ ہےکہ لوگوں کامال ناحق کھایا جائے، انہیں ظلما مارا جائے، گالی گلوچ دیا جائے ، زیادتی کی جائے ، کمزوروں پر ہاتھ دراز کیا جائے۔

ظلم عموما کمزورآدمی کے ساتھ ہوتا ہے جو انتقام لینے پرقادرنہیں ہوتا ۔

ظلم کی کچھ اورشکلیں جو انسان اللہ کے بندوں اورمخلوقات پرکرتا ہے :

♦ زمین غصب کرلینا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ(’’ جس نے ایک بالشت کے برابر بھی کسی کی زمین کو ظلما لے لیا تو ( قیامت کے دن ) سات زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا ‘‘ (صحيح بخاري كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ)

♦ حق کی ادئیگی میں ٹال مٹول کرنا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مطْل الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ) ’’نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’مال دارآدمی کاقرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے‘‘ (صحیح بخاری ومسلم)

♦ مزدورکی مزدوری نہ دینا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:( قَالَ اللَّهُ : ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ ) ’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا، ایک وہ شخص جس نے میرے نام پرعہد کیا اوروہ توڑ دیا، دوسراوہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اورتیسرا وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا، اس سے پوری طرح کام لیا، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔ (صحيح بخاري كتَابُ البُيُوعِ بَابُ إِثْمِ مَنْ بَاعَ حُرًّا)

محترم قارئین!

یہاں پردرج ذیل واقعہ کاذکرعبرت ونصیحت سے خالی نہیں ہوگا جس کو ایک عالم دین نے مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں اپنی تقریر کے دوران بیان کیا کہ ایک شخص اپنے کفیل کے پاس کام کرتا تھا ، کفیل نے اس کو مسلسل تین مہینے تک تنخواہ نہیں دیا، اس دوران وہ کفیل کے پاس باربارجاکرالحاح وزاری کرتا رہا کہ اسے روپیوں کی سخت ضرورت ہے، اس کے اپنے ملک میں ماں باپ ، بیوی اوربچے ہیں ، وہ سبھی روپیوں کے سخت محتاج ہیں، لیکن کفیل نےاس کی باتوں پرکوئی توجہ نہ دی،گویا اس کےکانوں میں ڈانٹ پلادی گئی ہومعاذا اللہ! عاجز وبے بس ہوکر اس شخص یعنی مظلوم نےاپنے کفیل سے کہا : اللہ میرے اور تمہارے درمیان کافی ہے، اور اللہ کی قسم میں تمہارے لئے بد دعا کروں گا، تو کفیل نے کہا کعبۃ اللہ جاکرمیرے لئے بد دعا کرو، اس کی جسارت وجرات دیکھئے، پھراس نے اس کو سخت وسست کہا اوردھتکاردیا، نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے حقیقت میں کفیل کے کہنے پرکعبۃ اللہ جاکرقبولیت دعا کے موسم میں اس کے لئے بد دعا کردی،اوراللہ کی مشیت دیکھئے وہ رمضان المبارک کا موسم تھا، (وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ )’’ اورعنقریب ظلم کرنے والے جان لیں گے کہ وہ کس انجام کو پہنچیں گے‘‘( سورت شعراﺀ آیت : ۲۲۷) اس کے بد دعا کئے ہوئے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اچانک وہ کفیل اتنا سخت بیمارہوا کہ اسے اپنے جسم کوحرکت دینے کی بھی طاقت نہ رہی، مصیبت اس پرٹوٹ پڑی ، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک طویل مدت تک اسپتال میں پڑا رہا، مظلوم کو بھی اس کی بیماری کا پتہ چلا اور لوگوں کے ساتھ وہ بھی اس کی عیادت کے لئے پہنچا، چنانچہ جب کفیل نے اس کو دیکھا تو کہا کیا تم نے میرے لئے بد دعا کی تھی ؟ اس نے کہا ہاں، اور میں نےاس جگہ تمہا رے لئے بد دعا کی ہے جہاں تم نے مجھ سے بد دعا کرنے کا تقاضا کیا تھا، پھراس نے اپنے لڑکے کو بلایا اور کہا اس کے تمام حقوق دیدو چنانچہ اس کا پورا حق دیدیا گیا ،پھر کفیل نے اس سے معافی مانگی اور اپنی شفایابی کے لئے دعا کی درخواست کی۔

جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابوعدنان محمد طیب السلفی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات فی المجمعہ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *