ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث ہوگا ۳

ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث ہوگا (۳)

 

ابوعدنان محمد طیب السلفی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات فی المجمعہ

 

اے ظالم انسان اللہ سبحانہ وتعالی کے ان فرامین کو یاد رکھ :

(وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًاعَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنَّمَايُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌ) ’’ (مومنو)! یہ کبھی بھی خیال نہ کرنا کہ ظالم جو کچھ کررہے ہیں اللہ ان سے بےخبر ہے، وہ توانھیں اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس دن نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی وہ یوں اپنے سراٹھائے اورسامنے نظریں جمائے دوڑے جارہے ہوں گے کہ ان کی نگاہیں ان کی اپنی طرف بھی نہ مڑ سکیں گی اوردل (گھبراہٹ کی وجہ سے) اُڑے جارہےہوں گے‘‘ ( سورت ابراہیم آیت : ۴۲۔۴۳)

ایک جگہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا: (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى) ’’ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا‘‘ ( سورت قیامۃ آیت : ۳۶)

ایک اورمقام پراللہ تعالی کافرمان ہے: (سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ۭ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ )’’ ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا اورمیں انہیں ڈھیل دونگا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے ‘‘ ( سورت قلم آیت : ۴۴۔۴۵)

اورصحیح بخاری ومسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے اورجب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر جانے نہیں دیتا۔” پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی:(وَکَذٰلِکَ أَخْذُ رَبِّکَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَیٰ وَہِیَ ظَالِمَۃٌ إِنَّ أَخْذَہُ أَلِیمٌ شَدِیدٌ)”اور جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو آپ کے رب کی گرفت ایسی ہوتی ہے (کہ کوئی بچ نہیں سکتا۔) بےشک اس کی گرفت سخت دردناک ہے۔” (سورت ہود آیت : ۱۰۲)

ایک اورجگہ اللہ تعالی کاارشاد ہے: (وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ )’’ اورعنقریب ظلم کرنے والےجان لیں گے کہ وہ کس انجام کو پہنچیں گے‘‘ (سورت شعراﺀ آیت : ۲۲۷)

اے ظالم انسان ! موت کی شدت وسختی، قبرکی تنگی وتایکی، میزانِ عمل اوراس کی باریکی، پل صراط اوراس کی پھسلاہٹ ، میدانِ محشراوراس کےحالات، بعث بعد الموت اوراس کی ہولناکی کو یاد رکھ ۔

اے ظالم انسان اس وقت کویاد کر جب موت کا فرشتہ تمہاری روح کو قبض کرنے کے لئے آئے گا۔

اوریاد کرجب قبرمیں تن تنہا تمہیں تمہارے عمل کے ساتھ اتاراجائے گا ، یاد کرجب تمہارا رب حساب وکتاب کے لئے تمہیں اپنے پاس بلائے گا اورجب قیامت کے دن تمہارا وقوف لمبا ہوگا۔

اے ظالم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو یاد رکھ ، (لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ،حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ ، مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ ) ” قیامت کے دن تم سب حقداروں کے حقوق ان کو ادا کرو گے، حتی کہ اس بکری کا بدلہ بھی جس کے سینگ توڑ دیے گئے ہوں گے، سینگوں والی بکری سے پورا پورا لیا جائے گا۔” (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظلم)

قیامت کے دن ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دےکرنیزمظلوم کی برائیاں ظالم کے اوپر ڈال کر بدلہ دلایا جائے گا، جس کی وضاحت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: (مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ ) ’’جس شخص نے اپنے بھائی کی آبرو یا کسی اورچیز کے متعلق ظلم کیا ہوتو اس کو چاہئے آج ہی اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرالے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا ،اوراگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہوگا تو اس کے ساتھی ( مظلوم ) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی‘‘ (صحيح البخارى كتاب المظالم والغضب باب من كانت عنده مظلمة عند الرجل فحللها له )

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظالموں کو اپنےمظالم کی فکر دنیا ہی میں کرلینی چاہئے، کہ وہ مظلوم سے اپنا ظلم معاف کرالیں، ان کا حق ادا کردیں ورنہ موت کے بعد ان سے پورا پورا بدلہ دلایا جائے گا۔

صحیح مسلم میں ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ) “کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ ” صحابہ نے کہا ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی سازوسامان، آپ نے فرمایا: “میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس کو گالی دی ہوگی، اس پربہتان لگایا ہوگا، اس کا مال کھایا ہو گا، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا، تو اس کی نیکیوں میں سےاس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اوراگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کراس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ( صحيح مسلم كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ)

اے ظالم انسان ! ابھی بھی وقت ہے،اللہ کی طرف سے تمہیں مہلت ملی ہوئی ہے، توبہ کادروازہ کھلاہواہے،اپنےظلم سےبازآجا اورسچی توبہ کرکےاللہ سےاپنے گناہوں کو معاف کرالے، فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ( إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا) “اللہ عزوجل رات کو اپنا دست (رحمت بندوں کی طرف) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست (رحمت) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے (اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔” (صحیح مسلم كِتَابُ التَّوبَةِ بَابُ قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ)

اور سنن ترمذی کی ایک روایت میں ہے نبی اکرم ﷺنے فرمایا : ( إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ) ’’ اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتاہے جب تک کہ (موت کے وقت) اس کے گلے سےگڑگڑاہٹ کی آواز نہ آنے لگے ( سنن ترمذی ،أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب فِي فَضْلِ التَّوْبَةِ وَالاسْتِغْفَارِ وَمَا ذُكِرَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ)

اورقبولیت توبہ کی چارشرطیں ہیں:

۱۔ گناہ سے بالکل باز آجائے۔

۲۔ گناہ پرنادم وشرمندہ ہو۔

۳۔ آئندہ وہ گناہ دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرے۔

۴۔ لوگوں کے حقوق جلدی واپس کردے یا اس سے معافی مانگ لے اورمعذرت چاہ لے۔

مذکورہ حدیث سے اللہ تعالی کا اپنی مخلوق کے ساتھ وسعت رحمت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لئے توبہ کا دروازہ پوری زندگی کھلا ہوا ہے جب تک اس کا ہوش وحواس برقرار ہے، موت نہیں آئی ہے، جانکنی کا عالم اس پر طاری نہیں ہوا ہے، حلقوم تک اس کی روح نہیں پہنچی ہے، اسے اپنے تمام مظالم اورمعصیتوں سے توبہ کرنے میں جلدی کرنا چاہئے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ اسےکب موت آجائے ۔

ابوعدنان محمد طیب السلفی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات فی المجمعہ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *