تعلیم درد کا مداوا

تعلیم درد کا مداوا

عبدالعلیم بن برکت اللہ سراجی عمری

پچھلے چند سالوں میں ہندوستانی مسلم اقلیت جس اندوہ و علم کے عالم سے گزری ہے اس کا ذکر الفاظ میں غالبا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کبھی موبلیچنگ تو کبھی مسلم پرسنل لا پر حملہ تو کبھی دہشت گردی کا الزام لگا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ آخر اس کی شہریت پر بھی کمند لگانے کی سازش کے خلاف شاہین باغ جیسا پرامن احتجاج کیا تو پہلے دہلی فسادات کے ذریعہ سبق سکھایا گیا اور آخر میں ہر اس شخص کو گرفتار کیا گیا یا پولیس تھانہ بلا کر تنبیہ دی گئی کہ باز آجاو ورنہ جیل جانے کو تیار ہو جاو۔ مسلم کے دل کو دھیرے دھیرے ٹھیس پہونچانے کا کام جاری ہے پہلے اس نے دھارا 370 ہٹا کر یہ ثابت کر دیا کہ ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں اس کے بعد رام مندر بھی تعمیر ہونے لگا اور یہیں پر بس نہیں دو بچوں سے اوپر بچہ نہیں پیدا کرسکتے جو میرے نبی کے فرمان کے سخت خلاف ہے ان کا منصوبہ ہے کہ ان سے ووٹ کا ادھیکار بھی چھین لیا جائے۔ اور سنگھ اپنا مشن پورا کرنے میں لگی ہوئی ہے ہندوں کا نام لیکر مخصوص ذات والوں کو بڑھاوا دیکر دوسرے مذاہب اور ذات والوں کو نقصان پہونچا رہا ہے۔ دیکھئے سنگھ کا وہ خواب کب اور کیسے پورا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ان حالات میں قوم جس نا امیدی اور کرب کے عالم سے گزر سکتی ہے اسی کسمپرسی کے عالم میں دن کاٹ رہی ہے۔
آج سوال ہے کہ ہم ان حالات کا مقابلہ کیسے کریں سب سے پہلے ہم کو نا امید نہیں ہونا چاہئے حالات چاہے کتنے ہیں ناسازگار ہی کیوں نا ہوں اگر اس ملک میں مسلمان ہمت، عزم اور محنت کے ساتھ کوشس کرے تو کامیابی اس کے قدم چومےگی۔ شرط یہ ہے کہ ناامید ہوکر ہتھیار نا ڈال دئے جائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ملک کی اقلیت نے کبھی بھی ہتھیار نہیں ڈالے۔ سنہ1947 سے اب تک نہ جانے کتنے مواقع آئے لیکن یہ قوم اپنی محنت و لگن کے سہارے گرگر کر کھڑی ہوتی رہی۔ بٹوارا ہوا اور مارکاٹ ہوئی۔ اس کو غدار وطن کہا گیا لیکن یہ قوم کھڑا رہا۔
70 برسوں کے سفر میں صرف دو غلطیاں ہوئیں جس نے مسلم اقلیت کو شدید نقصان پہونچایا۔ ان دو غلطیوں میں سے ایک تعلیم کی کمی تھی۔ تعلیم ہی ایک ایسا راستہ ہے جو قوم کی سپر بن کر ان کے لیے ترقی کی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔ آج اگر ہم کو اس ملک کے باعزت شہری بن کر رہنا ہے تو سب سے پہلے یہ منصوبہ بنانا ہوگا کہ ہمارے وکیل ڈاکٹرز، آٹی ٹی انجنیئرز ہونگے، آئی پی ایس، آئی اے ایس میں ہم ہونگے۔ آج ہم غریبوں، یتیموں، جلسوں، کانفرنسوں اور مدرسوں میں اتنے روپئے خرچ کرتے ہیں ان میں کچھ روپئے نکال کر ذہین بچے کو تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا تاکہ وہ ہمارے خلاف اٹھنے والی ہر بات کا جواب دے اور اس کو دبائے۔
یہ تعلیم ہی ہے جس کے بدولت یہودی قوم تھوڑا سا ہونے کے باوجود پوری دنیا کی معیشت کو قبضہ کرکے رکھا ہے۔ یہ تعلیم ہی ہے جاپان جن کے یہاں کثرت سے زلزلہ آنے کے باوجود بھی دنیا کے سامنے سینہ تان کر کھڑا رہتا ہے۔ اور تعلیم کی زیادتی ہی کی وجہ سے امریکہ سپر پاور بنا بیٹھا ہے۔ اگر دنیا میں ایک انسان بن کر رہنا ہے تو تعلیم بہت ضروری ہے۔ ورنہ جانوروں کی طرح گھومتے رہیں گے اور ذبح کر دئے جائیں گے۔
اللہ سے دعا ہے مولائے کریم ہمارے جو بھائی تعلیم کے لئے جدوجہد کرتے ہیں ان کو کامیاب فرما۔ اور نئی نسل کو تعلیم کی روشنی سے آراستہ پیراستہ کر۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *