کیا گرتی معیشت کو سنبھال پائے گی مودی سرکار؟

نتیجہ فکر ۔ محمد تفضل عالم مصباحی پورنوی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی 9889916329

 

کیا گرتی معیشت کو سنبھال پائے گی مودی سرکار ؟

 

بھارت نے جب انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں سے آزادی حاصل کی اس وقت برٹش گورنمنٹ کی لوٹ مار، دوہری پالیسی کی وجہ سے ملک کی معاشی صورتحال تشویشناک تھی۔ حصول آزادی کے وقت کی ترقیاتی شرح (GDP) کی بات کریں تو اس وقت ترقیاتی شرح ٪0 تھی۔ مشہور قلم کار مؤرخ امرتئے سین اور جوئندریز نے اپنی کتاب “بھارت اور اس کے ویرادھابھاس” کے صفحہ نمبر 37 پر لکھتے ہیں۔ ” ہندوستان کی آزادی سے قبل ، ہندوستان کی جی ڈی پی بنیادی طور پر بگاڑ کی طرف تھی ، آزادی کے فوراً بعد کی دہائی میں 3.5 فیصد کی سالانہ اضافہ بھی واقعتا بلند چھلانگ تھی”۔ 1947ء میں انگریزوں کے ہاتھوں سے جواہر لال نہرو کو ٪0 GDP والا بھارت ملا تھا۔ مگر جواہر لال نہرو نے اپنی شب و روز کی محنت و مشقت اور جفاکشی کے ساتھ گرتی معیشت کو ترقی کی شاہراہوں پر گامزن کرتے ہوئے ٪0 سے٪3.5 تک پہنچا دیا۔ مگر وہ لوگ جو ہر فساد و بگاڑ کی جڑ جواہر لال نہرو کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انگریزوں کے بعد سے 70 سالوں تک جواہر لال نہرو اور اس کے خاندان نے ہندوستان کو لوٹا ہے۔ انہیں یہ فکر ہونی چاہئے کہ 2014ء میں انہوں نے %7.3 GDP والا بھارت آپ کو سونپا تھا- مگر آپ نے 7 سالوں میں ملک کی معیشت کی کمر توڑ کر %23.9۔ تک پہنچا دیا۔ بھر بھی جواہر لال نہرو کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں تعجب ہے !!

 

قارئین کرام ۔۔۔۔

آئیں گراؤٹ اور اس کے اسباب پر نظر ڈالیں۔ جی ڈی پی کی گراؤٹ کی اصل وجہ ماہرین معاشیات وزیراعظم نریندر مودی کے اس اعلان کو مانتے ہیں- جسے انہوں نے 8/ نومبر 2016ء کی شام راشٹر کے نام کرتے ہوئے 500 اور 1000 کے نوٹوں کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا تھا۔ اور دعویٰ کیا تھا- کہ اس قدم سے بلیک منی کو واپس لایا جائے گا۔ افسوس کہ اس سے کچھ آیا تو نہیں! مگر ہزاروں افراد کی نوکریاں، سیکڑوں افراد کی جانیں، کروڑوں افراد کے چین و سکون چھن گیا۔

 

نوٹ بندی کے 16/ دنوں بعد جب عوام الناس حکومت کے بغیر سوچے سمجھے فیصلے کی وجہ سے اپنی جمع رقم نکالنے کے لئے بینکوں اور اے ٹی ایموں کے باہر لائن لگا کر دشوار گزار لمحے گزار رہے تھے۔ تبھی 24/ نومبر 2016ء کو راجیہ سبھا میں سابق وزیراعظم ہند منموہن سنگھ نے اپنی دور اندیشی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا تھا- کہ نوٹ بندی بھارتی GDP کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ اور کہا تھا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے بھارتی GDP میں ٪2 سے زائد کی گراؤٹ آئے گی۔ مگر سرکار کے مفلوج اذہان والے افسران نے سابق وزیراعظم کا مزاق اڑایا۔ عصبیت کا چشمہ اتار کر دیکھیں کہ آج ترقیاتی شرح کی حالت کیسی ہے بھی۔

 

ماہرین معاشیات جو ہندوستان کی معیشت پر گہری نظر رکھتے ہیں- تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مینیفیکچرنگ ڈیپارٹمنٹ میں ٪39.3۔ ، کنسٹرکشن ٪50.3۔ ، تجارت اور ہوٹل ٪47۔ ، ریئل اسٹیٹ ٪5.3۔ اور بجلی اور اس کے علاوہ ڈیپارٹمنٹ میں٪7۔ کی گراؤٹ کی اصل وجہ GST ہے۔ جسے ترقی کے قلعے کو طور پر مودی حکومت نے پیش کیا تھا مگر اس کے درپیش اثرات نے ترقیاتی شرح کو محصور کر پستی سے ہم آہنگ کرا دیا۔

 

بھارتی GDP کی تنزلی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ سرکار آمدنی کے ذرائع کو نیلام کرنے میں لگی ہیں۔ بہت ساری ایسی فیکٹریاں، ایئر لائنس، ریلوے، ریلوے اسٹیشن، تعلیمی ادارے، بینک، ڈی جی ٹل انڈسٹریز، موبائل نیٹ ورکنگ اور تاریخی عمارات جو ملک کی معیشت کو استحکام بخشنے میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوتی ہیں- انہیں موجودہ سرکار پرائیویٹ ہاتھوں میں دے کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر کہتی ہیں کہ معاشی بحران ہے۔ تعجب ہے! جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی داغ بیل آپ کے ہاتھوں ہی پڑیں ہیں ۔

 

حالات ایسے آ گئے ہیں کہ وزیر مالیات نرملا سیتا رمن گروتھ ریٹ کے مائنس ٪23.9 پہنچ جانے کی وجہ سے بوکھلاہٹ میں کہہ رہی ہیں یہ ACT OF GOD ہے۔ اور سارا بوجھ کرونا وائرس کے سر ڈال رہی ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ گروتھ ریٹ کرونا وائرس کی آمد سے قبل سے تنزلی کے راستے پر گامزن تھی۔ یقین مانیں لاک ڈاؤن بھی سرکار کے بغیر مشاورت کےفیصلے کی وجہ سے ہے۔ ذرا سوچا نہ تھا ہمارے اس فیصلے سے مزدوروں کی حالت کیسی ہوگی؟ ملک کی معاشی صورتحال کیا ہوگی؟ جب کرونا وائرس کو روکنے کی تدبیر کرنی تھی تو آپ مدھیہ پردیش میں سرکار بنانے اور جشن منانے کی تدبیروں پر مصروف تھے۔ آپ اپنی ذمہ داریوں کو قبول کریں اور اس سے نکلنے کی تدبیریں نکالیں۔ نہ کہ اپنی خامیوں، ناکامیوں کو چھپانے کے لئے حیلہ سازی کریں۔

 

سوچنے کی بات ہے چین کئی مہینوں سے لداخ کے گلوان گھاٹی پر LAC کے قریب اپنے افواج کی تعیناتی کر رہا ہے مگر ہمارے ملک کے foreign ministers ایس. جے. شنکر کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ تعیناتی کیوں کر ہو رہی ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ” سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ مشرقی لداخ میں چین اتنی تعیناتی کیوں کر رہا ہے؟” اتنا تو ایک پرائمری اسکول کے بچے کی سمجھ میں آ جاے گا۔ مگر پھر بھی ہمارے فورین منسٹر سر کی جے ہو!!!

اب دیکھیں ہمارے ملک کے معاشی صلاح کار کے. وی. سبرمنیم کو جو گڑتی معیشت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں ” پتہ نہیں اگلی دو تیماہی میں اچھال دیکھے گا کی نہیں” ان لوگوں کی باتیں سن کر لگتا ہے کہ بگڑتی معیشت کو سنبھال پانا مودی سرکار کے لئے دشوار گزار امر ہے ۔ کیوں کہ ذمہ داری کا احساس اور گراؤٹ کا غم کسی کے چہرے پر نظر نہیں آ رہا ہے ۔ اور نہ ہی ہندو مسلم کے نام پر چلا چلا کر ڈیبیٹ کرنے والے نام نہاد اندھ بھکت ضمیر فروش اینکر اور ٹی وی چینلوں کو۔ کوئی بات نہیں! سرکار سے سوال نہ کریں ذرا گلے کا خراش جھاڑ کر ملک کی بگڑتی معیشت پر ڈیبیٹ کر کے راہل گاندھی سے سوالات کریں اور کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرائیں مودی جی کی بھکتی کر دیش بھکتی کا ثبوت دیں!!!

 

چھوٹے بڑے کاروبار، بنکر، زراعت، چمڑا، قالین، انڈسٹریز جو بھارت کی ترقیاتی شرح میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ سب آج حکومت کی غلط پالیسی، بغیر تدبر و تفکر کے فیصلوں اور مذہبی سیاسی نظریوں کی وجہ تباہی و بربادی سے دوچار ہو کر دوبارہ کھڑے ہونے کی آس لگائے سرکار کے امداد کی راہ تکتے ہیں۔ مگر افسوس سرکار کو ان لوگوں کی فکر و خیال تک نہیں کہ کون کس طرح کی تباہی سے دوچار ہیں ۔ اور ان کی تباہی کے سبب لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی روزی روٹی چھینی جا رہی ہیں۔ لاکھوں گھر اجڑ رہے ہیں مگر سرکار تو اندھ بھکتوں کو مذہبی افیم پلا کر بد مست کر رکھی ہیں- تاکہ کوئی صداے مخالفت نہ بلند کر سکے – جب انہیں ہوش آئے گا تب تک بہت دیر ہو جائے گی ۔

 

موجودہ حکومت کو چاہیے کہ اپنی اسکیموں میں سدھار کرے ۔ GST میں رعایت دیں اور جو کاروباری فیکٹریاں تباہ ہو چکی ہیں ۔ انہیں امداد دے کر دوبارہ کھڑا کریں تاکہ بڑھتی بے روزگاری پر لگام کسا جا سکے، غربت و افلاس میں ڈوبے افراد کو زیست کا سہارا مل سکے، تنزلی کے بحران میں غوطہ زن معیشت کو اپنی اصلی حالت پر لوٹائی جا سکے ۔ نہ کہ آئ ایم ایف اور ریوزرب بینک آف انڈیا سے قرض لے کر امبانی، اڈانی، نیرب مودی، ویجے مالیا جیسے لوگوں کا قرض معاف کریں، اور الیکشن کی فنڈنگ کی امید میں مخصوص لوگوں کی جیب بھریں۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *