تم تو چالاک ہو، چال بدل دیتے ہو۔

*تم توچالاک ہو، چال بدل دیتے ہو*

_*محمدجمیل اخترجلیلی ندوی*_

کیلیفورنیا، مغربی اوریگون اور مغربی نیواڈا کے جنگلات اور چراگاہوں میں ایک چھوٹا سا جانور رہتاہے، جسے ’’زمینی گلہری‘‘کہاجاتاہے، اس جانور کا ایک خاص دشمن’’چکی ناگ‘‘(Rattle Snake)ہے، یہ ایساسانپ ہے، جو سونگھ کرشکارکرتاہے اور اگر ایک مرتبہ اپنے شکار کے پیچھے پڑجائے تو شکار کے لئے اس سے پیچھا چھڑانا اور اس سے بچ پانا مشکل ہوجاتاہے؛ لیکن کیلیفورنین زمینی گلہری اپنے اس خطرناک دشمن سے بچنے کے لئے عجیب و غریب چالاکی سے کام لیتی ہے، ایسی چالاکی کہ سونگھ کر شکار کرنے والا شکاری دشمن بھی اس تک نہیں پہنچ پاتا، وہ چالاکی یہ ہے کہ اسی چکی ناگ کی کینچلی کو استعمال کرکے اپنی بو کو چھپالیتی ہے اوراس طرح اپنے خطرناک دشمن سے وہ بچ جاتی ہے۔

یہ تو خیر جانور ہے، جس کو اللہ نے عقل سے محروم رکھاہے؛ لیکن اس کے اس عمل سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس مخلوق کوعقل دی گئی ہے، وہ کتنی چالاکی دکھا سکتی ہے؟ اوراپنی چالاکی سے کیسے کیسے کام انجام دے سکتی ہے؟ دنیامیں اس کی بہت ساری مثالیں موجودہیں؛ لیکن باعقل وبے عقل کی چالاکی میں بڑا فرق ہوتاہے، بے عقل کی چالاکی عمومی طور پر ذاتی حفاظت کے لئے ہوتی ہے، جب کہ باعقل کی چالاکی ذاتی نفع کے لئے ہوتی ہے، مفاد کے لئے ہوتی ہے،ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہوتی ہے، دوسرے کو کمزور کرنے کے لئے ہوتی ہے، دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے ہوتی ہے، جس کے لئے وہ دوسروں کے لہو بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔

برسہا برس سے عقل والوں کی طرف سے اسی قسم کی چالاکیاں ہوتی آئی ہیں،جس کی وجہ سے جنگ عظیم اول اوردوم وجود میں آئیں،جس کی وجہ سے ہیرو شیما اور ناگاساکی پرایٹم بم داغے گئے، جس کی وجہ سے برطانیہ نے بیسیوں ممالک پرقبضہ جمایاتھا، جس کی وجہ سے نیو کلیر ہتھیار بنائے گئے، جس کی وجہ سے عالم عرب کے خزانوں پر رعب ودبدبہ قائم رکھا گیا، جس کی وجہ سے بعض نے بعض کودہشت گرد قرار دیا اور اس کی آڑ لے کراینٹ سے اینٹ بجادی گئی، اس کوعقل والوں نے چالاکی سے تعبیرکیا؛ حالاں کہ اگر غور کیا جائے توان کی اس چالاکی میں تباہی اوربربادی کے سواکچھ بھی نہیں۔

ہمارے ملک میں بھی اسی قسم کی چالاکیاں شروع ہوئی ہیں، جب برسراقتدارپارٹی سے اس کے وعدے کے بارے میں سوال کئے جاتے ہیں توچالاکی سے موضوع بدل دیاجاتاہے، جب اس سے جواب مانگاجاتاہے توسوال کارخ پھیر دیا جاتا ہے، جب چین اورنیپال کی دراندازی پربات کی جاتی ہے تووہ پاکستان کی بات کرنے لگتے ہیں، جب الیکشن کاموقع آجاتاہے اوراندیشہ ہوتاہے کہ لوگ اس سے کئے ہوئے وعدوں سے متعلق سوال کریں گے توملک کے کسی گوشہ میں دہشت گردانہ حملہ کروادیاجاتاہے، جب ووٹ کا وقت آتاہے اورخوف ہوتاہے کہ لوگ ووٹ نہیں دیں گے توفرقہ وارانہ کھیل کھیل دیاجاتاہے۔، جب ماب لنچنگ پرسوال کھڑے کئے جاتے ہیں تو وطن پرستی کی بات کی جانے لگتی ہے، جب عورتوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے توطلاق پرمباحثے کئے جانے لگتے ہیں، جب بڑے مجرموں کے پول کھلنے کی نوبت آنے لگتی ہے توچھوٹے مجرموں کا انکاؤنٹر کردیاجاتاہے اوراسے چالاکی سمجھی جاتی ہے۔

اس وقت ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے، بے روزگاری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، تعلیم یافتہ نوجوان مرکز سے سوال کر رہے ہیں، نوکری کامطالبہ کررہے ہیں، اس کے لئے سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں، حکومت کے پاس جواب نہیں، حکومت کے پاس نوکری نہیں، ان سوالوں کے جواب سے چھٹکارہ کے لئے بہت ہاتھ پیرمارے گئے، لوگوں کے ذہنوں کو بدلنے کی بہت کوش کی گئی، کبھی مور مورنی کاکھیل دکھا کر، کبھی کھلونوں سے جی بہلاکر؛ لیکن جب بات نہیں بنی توپھرچالاکی نہیں؛ چالاکیاں دکھائی گئیں، معیشت کی تباہی کی بات دب گئی، بے روزگاروں کے دھرنوں کا ذکر ہٹ گیا، اخبارات سے بھی اور نیوز چینلوں سے بھی۔

ریاچکرورتی گرفتار کرلی گئی، ڈرگس کے تعلق سے اس پر کیس فائل کیا گیا ہے، اسے چودہ دن کے لئے پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے، جب پولیس گرفتارکرنے آئی تھی، اس وقت وہ جینز کرتی پہنے ہوئے تھی، جب پوچھ تاچھ کے بعدباہرآئی تواس نے ہاتھ سے اشارہ کیا، یہ وہ لڑکی ہے، جس نے آٹھ سالوں میں سات فلاپ فلمیں عوام کودی ہیں ، اوریہ… اوریہ…اوروہ …اوروہ…

پنگا گرل اور مہاراشٹرا حکومت آمنے سامنے، پنگا گرل نے ممبئی کو POK یعنی پاک مقبوضہ کشمیر سے تشبیہ دیا، کنگنا رناوت کے آفس پر انہدامی کارروائی شروع، پنگا گرل کوجان سے مارنے کی ملی دھمکی، مرکز نے اس کو دی سیکوریٹی، چاروں طرف سے گھری جھانسی کی رانی، کنگنا رناوت کے خلاف ایف آئی آردرج، کئی معاملات میں ہو رہی جانچ، ڈرگس کے سلسلہ میں بھی ہوسکتی ہے جانچ اور الّم …اورغلّم…

آج کل تمام نیوز چینلوں میں چوبیس گھنٹے بس یہی ہے، کیب ڈرائیور آفتاب کی لنچنگ ہوگئی، ایک چھوٹی سی خبر، پانی مانگنے کے بدلے آرے سے سلمانی کاہاتھ کاٹ دیاگیا، ایک چھوٹی سی خبر، بے روزگارنوجوان تالی اورتھالی کے ساتھ سڑکوں پر، خبرغائب، معیشت کی تباہی ، اسکرین سے غائب، یہ ہے وہ چالاکی، جس کے ذریعہ سے صرف اورصرف پارٹی مفادسوچاجارہاہے، ملک کی فکرکسے ہے؟ شسانت سنگھ ، ریاچکرورتی اورکنگنارناوت کی خبروں سے بے روزگاروں کاکیالینادینا؟ کیا اس خبرسے ملک کی معیشت سدھرجائے گی؟ کنگنارناوت کی آفس 48کروڑروپے کی لاگت سے تعمیرہوئی ہے، اس سے ملکی معیشت کی سدھار کیوں کر ہوسکتی ہے؟کیااس کی تعمیرکردہ آفس کومنہدم کردینے سے بے روزگاروں کوروزگارمل جائے گا؟

ان سب چیزوں کواچھال کرحکومت ایک تیرسے کئی شکارکرناچاہ رہی ہے، مہاراشٹرا حکومت کے خلاف زمین ہموارکررہی ہے؛ کیوں کہ ادھوٹھاکرے نے اسے ٹھینگا دکھایاتھا، جس کی پبلیسٹی کے لئے ایک چہرہ چاہئے تھااوروہ چہرہ کنگنارناوت کی شکل میں دستیاب ہوگیا، ملک کی کئی بڑی شخصیتوں نے حکومت سے سیکوریٹی کامطالبہ کیا؛ لیکن انھیں کوئی سیکوریٹی نہیں دی گئی؛ کیوں کہ وہ حق بات کرتے ہیں، حکومت کی غلط پالیسیوں پرتنقید کرتے ہیں اوروہ بی جے پی کے لئے پبلیسٹی چہرہ نہیں بن سکتے؛ اس لئے ان کی جان کی کوئی پرواہ نہیں؛ لیکن کنگنارناوت جذباتی عورت ہے، وہ بی جے کے جھانسے میں آجائے گی؛ بل کہ آچکی ہے، عجب نہیں کہ آئندہ سیاست میں بھی نظرآئیں اورعجب نہیں کہ مہاراشٹرا سے ہی ٹکٹ مل جائے۔

دوسری طرف بہارمیں الیکشن قریب ہے، شسانت سنگھ بہارکا نوجوان تھا؛ اس لئے الیکشن تک اس کے کیس کوزندہ رکھناہے؛ کیوں کہ شسانت کے ساتھ نوجوانوں کے جذبات وابستہ ہیں، ان کے جذبات سے کھیلنے کااس سے اچھاموقع اورکہاں ہاتھ آئے گا؟ ورنہ اوربھی دکھ ہیں ملک میں شسانت کے سوا، معیشت پربات نہیں کی جارہی ہے؛ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے حکومت کی ناکامی سامنے آئے گی، بے روزگاری پربات نہیں کی جارہی ہے؛ کیوں کہ اس سے حکومت کی ہزیمت نکھرے گی۔

ایک اورشوشہ ہاتھ آگیاہے،سدرشن نیوز چینل کے متانزعہ پروگرام ’’ نوکرشاہی جہاد‘‘، جس پرہائی کورٹ نے اسٹے لگایاتھااورمرکزکی اجازت پرموقوف رکھاتھا، اب مرکزنے اس متنازعہ پروگرام کونشرکرنے کی اجازت دیدی ہے، ظاہرہے کہ یہ اجازت اس بات کی دلیل ہے کہ اس ملک کی گنگاجمنی تہذیب دم توڑچکی ہے؛ کیوں کہ اس پروگرام کے پرومومیں نیوزچینل کے ایڈیٹران چیف یہ کہتے ہوئے نظرآئے کہ: ’’اچانک آئی پی ایس، آئی اے ایس میں مسلمان کیسے بڑھ گئے، سوچئے، اگرجامعہ کے جہادی آپ کے ضلع کلکٹراورہروزارت کے سکریٹری ہوں گے توکیا ہوگا؟جمہوریت کے سب سے اہم ستون انتظامیہ کے سب سے بڑے عہدوں پر مسلم گھس پیٹھ کاپردہ فاش، دیکھئے سدرشن نیوز پر‘‘، اس پروموسے ہی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ پروگرام میں کیاہوگا؟

حالاں کہ دوسری طرف اگرغورکیاجائے توسدرشن کایہ پروگرام براہ راست حکومت پراعتراض کررہاہے؛ کیوں کہ یہ امتحانات حکومتی سطح پرہوتے ہیں توگویایہ کہارہاہے کہ حکومت نے اس امتحان میں شفافیت سے کام نہیں لیاہے، تبھی تومسلمانوں کی تعدادبڑھتی جارہی ہے؛ حالاں کہ کتنے مسلمان اس امتحان میں پاس ہوئے؟ اگرآبادی کے تناسب سے دیکھیں توآٹے میں نمک کے برابرہیں، اس کے باوجودکچھ لوگوں کی آنکھ کاشہتیرہیں یہ کامیاب ہونے والے طلبہ، جوبھی ہو، بہرحال!یہ بھی اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ کوپھیرنے اورمسلم دشمنی کومزیدپختہ کرنے کے لئے ہی مرکزنے اس کونشرکرنے کی اجازت دی ہے۔

یہ ہے حکومت کی وہ چالاکی، جوملک کوتباہی کے دہانے پرلے کرجارہی ہے، جب بات ہوگی نہیں توتمام لوگوں کواس تعلق سے معلومات نہیں ہوں گی، اورجب معلومات نہیں ہوں گی تولوگ حکومت کے خلاف کیوں کربرسرپیکارہوں گے؟حکومت بہت چالاک ہے اورشاطربھی، ہمیشہ وہ چال بدل دیتی ہے؛ لیکن چال بدلنے سے معیشت سدھرے گی نہیں، حکومت جتنی جلد اس کوسمجھ لے، ملک کے حق میں فائدہ مند ہوگا۔

jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *