اردو زبان کے ساتھ بہار سرکار کا سوتیلا رویہ :محمد ذبیح اللہ

اردو زبان کے ساتھ بہار سرکار کا سوتیلا رویہ :محمد ذبیح اللہ

 

 

اردو زبان بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے جس کو کم وبیش ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی لوگ بولتے اور سمجھتے ہیں ۔ساتھ ہی یہ مسلمانوں کی مادری زبان بھی ہے ۔جس کو مسلمان لوگ آزادی ملک سے پہلے سے اختیار کیے ہوئے ہیں ۔مسلمانوں کا

دینی و ملی اور مذہبی وثقافتی سرمایہ اسی زبان کے اندر محفوظ ہے ۔بلکہ سرکاری عہدوں اور ملازمتوں تک رسائی عام طور پر اسی زبان کے ذریعے ممکن ہو پاتی ہے۔ایک لمبے عرصے سے اردو اور مسلم قوم لازم و ملزوم کی طرح سمجھے جاتے رہے ہیں ۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ جب سے مرکز میں بی جے پی کی سرکار آئی ہے تب سے مسلمانوں کے ثقافتی اور مذہبی اثاثے کو مٹانے کی مسلسل کوشش ہو رہی ہے ۔اسی سلسلے کی ایک کڑی بہار سے اُردو کو ختم کرنے کی ہے ۔نتیش کمار جو اپنے آپ کو سیکولرزم کا دم بھرتے ہیں اور الیکشن آنے پر ٹوپی کرتا بھی لگا لیتے ہیں بڑے ہی خفیہ طریقے سے مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے دور کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد ہیں ۔پہلے انہوں نے بہت سے محکموں میں اردوداں کے عہدوں کا صفایا کیا پھر اسکولوں سے اسے ختم کرنے کے خطے پر بر سر عمل ہیں ۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ انہوں نے پہلے سنیئر سیکنڈری سے اردو

سبجیکٹ کی لازمیت کو ختم کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج بہار میں تین ہزار سے زیاده سنیئر سیکنڈری اسکول ہیں لیکن ۲۰۱۰ میں جب ان میں بحالی کا نوٹیفکیشن کیا گیا تو اردو کے لئے پورے بہار میں صرف تین سو سیٹ مختص کیے گئے یعنی ہرایک ضلع میں دس سے بھی کم ۔مسلمانوں کی نماٰئندگی کرنے والے کسی بھی تنظیم اور لیڈر نے اس کے خلاف آواز بلند نہیں کیا نتیجتاً آج بہار کے اکثر سنیئر سیکنڈری اسکول اردو اسامیوں سے خالی ہیں ان میں ہر ایک سبجیکٹ کے لیے اسامیاں

مختص ہیں سوائے اردو کے ۔

یہی صورت حال آج سیکنڈری سطح کے اسکولوں کے ساتھ درپیش ہے ۔میٹرک سے بھی اردو کو مادری اور لازمی مضمون سے نکال کر اختیاری مضمون کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے ۔اس سے ہوگا یہ کہ آہستہ آہستہ اردو ہائی اسکولوں سے ختم ہو جائے

گی نہ پڑھنے والے رہیں گے اور نہ اس کے بعد پڑھانے والوں کی ضرورت ۔اسلئے مسلمانوں ہوش کاناخن لو اور سرکار پر چوطرفہ دباؤ بناءو تاکہ وه اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اگر اس کو واپس نہیں لیتی ہے تو آ نے والے الیکشن میں اس کو اپنی اوقات دکھا دو

اردو کا ایک ادنیٰ خادم :محمد ذبیح اللہ

 

استاد ایس بی بی ایل این سینئر سیکنڈری اسکول پٹی، مشرقی چمپارن

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *