بچوں کی تربیت اور اہمیت و فضیلت۔

بچوں کی تربیت اور اہمیت و فضیلت

 

تحریر : نازیہ اقبال فلاحی

معلمہ : معہد حفصہ للبنات زھراء باغ بسمتیہ ارریہ ، بہار

 

بچے حقیقت میں اللہ رب العزت کی بیش بہا نعمت ہیں ، اور بہت بڑی امانت ہیں ، ان کی قدر و قیمت جاننا ، ان سے محبت و شفقت کرنا ، اچھی طرح پالنا پوسنا ، بہترین تربیت و اصلاح کرنا ، عمدہ اخلاق و آداب سے آراستہ کرنا ، اچھے علم اور مناسب ہنر سے واقف کرانا ، نیک و صالح بنانا ، اور باکمال و باصلاحیت بنانا ہی اس نعمت الہی کی حقیقی قدردانی ہے ، اور عظیم امانت کی سچی پاسداری ہے ۔

بچوں کے سلسلہ میں مذکورہ بالا ذمہ داریاں بہت ہی قابل توجہ اور باعث فکر ہیں ، قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اس بارے میں نہایت ہی بلیغ اسلوب میں تمام اہل ایمان کو بڑی توجہ دلائ ہے کہ ” اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو ( جہنم کی ) اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ” ۔ ( سورہ تحریم )

امیر المومنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کریمہ کے ذیل میں فرمایا ہے کہ ” اپنے آپ کو اور اپنے بال بچوں کو خیر و بھلائ کی تعلیم دو ” ۔ ( مستدرک حاکم )

اور علامہ سید سلیمان ندوی علیہ الرحمہ نے اس آیت کریمہ پر گفتگو فرماتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ ” قرآن پاک نے ایک مختصر سے مختصر فقرہ میں ، جو صرف چار لفظوں سے مرکب ہے ، اس حق کو ایسے جامع طریقہ سے ادا کردیا ہے کہ اس کی تفصیل و تشریح میں دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں ، یہ آگ جہنم کی آگ ہے ، مگر اس سے مقصود ان تمام برائیوں ، خرابیوں اور ہلاکتوں سے ان کی حفاظت ہے ، جو بالآخر انسان کو دوزخ کی آگ کا مستحق بنا دیتی ہے ، اس طرح ( اللہ تعالی نے ) گھر کے سردار ( ماں باپ اور ذمہ داران ) پر اولاد کی اخلاقی تربیت ، دینی تعلیم اور نگہداشت کا فرض عائد کیا ہے ” ۔ ( سیرت النبی ٦/ ١٢٠ )

فی الواقع دین اسلام میں بچوں کی اخلاقی تربیت ، دینی تعلیم اور حکیمانہ نگہداشت ماں باپ اور دیگر گھر والوں کے اہم فرائض ہیں ، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اس کی بڑی تاکید آئ ہے ، اور متعدد سورتوں میں تربیت و اصلاح کے اہم اشارے موجود ہیں ، اور احادیث مبارکہ میں بھی ان کی اہمیت بیان ہوئ ہے ، ایک حدیث شریف میں کس قدر جامع انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت و اصلاح کی بڑی جامع تاکید فرمائ ہے کہ ” ( لوگو ! ) تم سب اپنی اولاد ( لڑکے لڑکیاں دونوں ) کا اکرام کیا کرو اور ( اچھی تعلیم و تربیت کے ذریعہ ) ان کو حسن ادب سے آراستہ کرو ” ۔ ( ابن ماجہ )

تعلیم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” کوئ باپ اپنے بچہ کو اس سے بہتر کوئ عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو اچھی تعلیم دے ” ۔ ( ترمذی )

اسلامی تربیت ، دنیا میں آنے والے بچوں کے صلاح و فلاح کے لیے اکسیر اعظم ہے ، اس کی بنیاد قرآن و حدیث ہی ہیں ، ان دونوں سے حاصل شدہ اصول تربیت کے مطابق ، صحیح خطوط پر ، صحیح ڈھنگ سے اور پوری ذمہ داری کے ساتھ بچوں کی تربیت و اصلاح کی جائے تو امکان قوی ہے کہ یہ تربیت یافتہ بچے راسخ العقیدہ مومن و مسلم ، نیک و صالح ، مطیع و فرمانبردار ، خلیق و ملنسار اور کامیاب و کامران ” انسان کامل ” بن جائیں ، ماں باپ اور دیگر افراد خاندان کے لیے دنیا میں خوشی و مسرت ، عزت و نیک نامی اور فخر و ناز کے باعث بنیں اور آخرت میں فلاح و کامیابی ، قربت و محبت الہی اور اکرام و اعزاز ربانی کے سبب بنیں ، معاشرہ و سماج کے مخلص و سرگرم افراد بنیں ، دین و ملت کے محافظ بنیں ، قوم و ملک کے خادم و معمار اور پیام انسانیت کے علمبردار بنیں ،

اس کے برعکس اگر بچوں کی دینی تربیت میں غفلت و بے توجہی برتی گئ ، اور اسلامی تعلیم دینے میں سستی و کاہلی برتی گئ ، یا بچوں کی غلط تربیت کی گئ تو ان بچوں کا ، ماں باپ کا ، گھرانے و خاندان کا اور ملک و ملت کا بڑا خسارہ اور عظیم نقصان ہوگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” جس کو اللہ تعالی نے اولاد کی نعمت سے سرفراز کیا تو اس کو چائیے کہ اس کا اچھا نام رکھے ، اس کی اچھی تربیت کرے ، اور بہترین سلیقہ سکھائے ، پھر جب وہ سن بلوغ کو پہنچے تو اس کی شادی کا بندوبست کرے ، اگر اس نے اس کی شادی کرانے میں کوتاہی کی اور اپنی غفلت اور کوتاہی سے جلدی شادی کا بندوبست نہیں کیا اور اولاد کسی گناہ میں مبتلاء ہوگئ تو باپ اور سرپرست اس کا ذمہ دار ہے ” ۔ ( شعب الایمان للبیہقی )

امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ” بچہ والدین کے پاس امانت ہے ، اس کا پاکیزہ دل ایک قیمتی جوہر ہے ، اگر بچے کو بھلائ کا عادی بنایا جائے اور اچھی تعلیم دی جائے تو بچہ اسی نہج پر پروان چڑھتا ہے ، اور دنیا و آخرت میں سعادت حاصل کرتا ہے ، اور اگر بچے کو بری باتوں کا عادی بنایا جائے یا اس کی تربیت سے غفلت برتی جائے اور اسے جانوروں کی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے تو بد بختی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے ” ۔ ( بچوں کی تربیت )

یہ حقیقت قابل ذکر ہے کہ تمام بچے فطرت سلیم ( اللہ تعالی کی معرفت و وحدانیت اور اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیت و لیاقت ) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیث شریف میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ ” ہر بچہ فطرت ( اللہ تعالی کی معرفت و وحدانیت ) پر پیدا ہوتا ہے ” ۔ ( بخاری و مسلم )

فطرت سلیم کے علاوہ بچوں کا دل و دماغ بالکل سادہ اور خالی ہوتا ہے ، وہ بالکل کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے ، ماں باپ کی طرف سے ان کے اندر جیسا نقش و نگار بنایا جائے گا ، ان کا دل و دماغ ویسا ہی خوبصورت و مزین ہوگا ، اور ان پر جیسا رنگ چڑھایا جائے گا ، ویسے ہی بکھرے گا ، اللہ تعالی کے رنگ میں بچوں کو رنگنا یعنی ان کو عقیدہ توحید ، عقیدہ رسالت اور عقیدہ آخرت کے ساتھ پروان چڑھانا اور قرآن و حدیث کے اصول و طریقے کے مطابق ان کو ڈھالنا ہی سب سے اہم کام ہے ۔

اللہ رب العزت ہم سب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

ا

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *