سعودی عرب اور اس کا قومی دن۔

سعودی عرب اور اس کا قومی دن*

نصیر شیر شاہ آبادی

دوحہ قطر 55002012

. یہ بات اظہر من الشمش ہے کہ سعودیہ عربیہ کا شمار ممتاز ترین ملکوں میں ہوتاہے، یہی وہ ملک ہے جہاں خانہ کعبہ، مسجد نبوی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہے، یقیناً یہ ایک ایسا ملک ہے جو محتاج تعارف نہیں ہے، بچہ بچہ کو اس ملک کے بارے میں کچھ نا کچھ باتیں ضرور معلوم ہوتی ہیں، کچھ ہو یا نا ہو پر ہربچہ مکہ و مدینہ کو تو ضرور جانتاہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں جانتاہے؟ آخر اس ملک کی کیا خصوصیات ہیں؟سب سے پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ اس کا آئین وقانون کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مطابق ہے، اس نے انسانیت کی بے حد خدمت کی اور کررہا ہے، امید ہے کہ مستقبل میں بھی کرتارہےگا، اپنے ملک کے علاوہ بے شمار مدارس دوسرے ملکوں میں فقط دین کے فروغ کیلئے چلارہاہے، دنیا کے تقریبا تمام ممالک سے دینی و عصری طلبہ کو اپنے خرچ پر وہاں بلاتا ہے اور ہر طالب کو ایک باکمال مفسر، محدث، داعی، مصنف، مدبر، ادیب اور شاعر بننے کا سنہرا موقع فراہم کرتاہے۔ ایک شخص نے مجھ سے سوال کیاتھا کہ سعودیہ عربیہ جو دوسرے ممالک سے طلبہ کو اسکالرشپ دے کر بلاتا ہے اور انہیں اعلی تعلیم و تربیت سے آراستہ و پیراستہ کرتا ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے؟ میں نے جواب دیا تھا کہ اس میں اس کا کوئی دنیاوی فائدہ نہیں ہے. اس کا مقصد فقط اتناہے کہ دنیا کے چپے چپے میں دینی معلومات عام ہوں، بھائی چارگی و ہمدردی کی فضا قائم ہو، لوگ اپنے مقصد تخلیق کو جانیں، اور اللہ سے بہت قریب ہوں.

. شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود رحمہ اللہ نے مختلف امارتوں کو متحد کر کے 23 ستمبر 1932 میں اس ملک کا نام المملکة العربية السعودية رکھا، اسی وجہ سے 23 ستمبر کو اس ملک کا یوم الوطنی منایا جاتاہے، اور وہاں کے لوگ قومی ترانہ (سارعی للمجد والعلیاء، مجدی لخالق السماء، وارفع الخفاق أخضر، یحمل النور المسطر… گاتے یا سنتے نظر آتے ہیں، ہر شخص کے دل میں فرحت و انبساط کی لہریں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ یہی وہ دن ہے کہ جس دن اس ملک نے اختلاف وانتشار، طوائف الملوکی، لوٹ کھسوٹ پر فتح حاصل کی تھی، اس پتھریلی و ریگستانی زمین پر تعلیم و تربیت، تہذیب و تمدن، ترقی و کامیابی کے جھنڈے گاڑے تھے، جو آگے چل کر ایک عظیم اسلامی قلعے کی بنیاد ثابت ہوئی۔

. یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک عبدالعزیز رحمہ اللہ نے سن 1932ء میں مملکت سعودی عرب کی شکل میں جس مبارک و بابرکت پودے کی شجر کاری کی تھی، اسے مرحوم کے بعد ان کے بیٹوں نے بڑے خلوص، ذمہ داری، دور اندیشی اور جانفشانی کے ساتھ آبیاری کی، اسے بڑیے جدو جہد، عزم مصمم اور بلند ہمتی کے ساتھ مضبوطی سے قائم رکھ کر بتوفیق الہی ترقی و کامیابی سے ہمکنار کیا۔

. قارئین کرام! بحیثیت مسلم ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس ملک کی ناقابل فراموش قربانیوں، اور اسلام و مسلمانان عالم کے لئے اس کے عظیم الشان جہود و خدمات کو یاد کریں، کہ جن کی بناپر یہ ملک ایک عظیم اسلامی ملک بنا ہے، جس کی نظیر موجودہ دور میں نہیں ملتی۔

. اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس ملک کی حفاظت فرمائے، اسےدن دونی رات چوگنی ترقی عطافرمائے، یہاں کے امراء و علماء سے مزید دین کی خدمت کا کام لیتارہے، انہیں حاسدین کے حسد و ماکرین کے مکروفریب سے محفوظ رکھے، آمین یارب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *