بچوں کو دینی تعلیم دینا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔

بچوں کو دینی تعلیم دینا والدین کی اہم ذمہ داری ہے !

 

تحریر : نازیہ اقبال فلاحی

معلمہ : معہد حفصہ للبنات زھراء باغ بسمتیہ ارریہ ، بہار

 

بچوں کو بچپن ہی میں اچھی تعلیم دلانے کا عمدہ نظم و انتظام کرنا چائیے ، اور بچے کو علم حاصل کرنے کا پورا موقع دینا چائیے ، کیونکہ بچپن میں علم کا حاصل کرنا آسان ہوتا ہے ، اور اس کا اثر بھی بہت مستحکم اور گہرا ہوتا ہے ، ایک حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن میں حاصل کردہ علم کا بڑا فائدہ بیان کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو علم انسان اپنی کم سنی میں سیکھتا ہے ، وہ دلوں میں اس طرح ثبت ہو جاتا ہے ، جیسے پتھر پر کندہ کئے گئے احکام ، اور بڑے ہونے کے بعد جو علم حاصل کیا جاتا ہے ، وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئ پانی پر لکھے ۔ ( طبرانی )

فی الواقع تعلیم بچوں کا واجبی حق ہے ، اور تعلیم ماں باپ کی اہم ذمہ داری ہے ، اور بچوں کے لیے ماں باپ کی طرف سے سب سے قیمتی تحفہ تعلیم ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے کہ کوئ باپ اپنے بچہ کو اس سے بہتر کوئ عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو اچھی تعلیم و تربیت دے ۔ ( ترمذی )

بچوں کی تعلیم کا آغاز قرآن مجید کی تعلیم سے کرنا چائیے ، قرآن مجید پڑھنے اور یاد کرنے کا شوق دلانا چائیے ، اور اس کی صبح و شام تلاوت کرنے کی تلقین کرنی چائیے ، ایک حدیث میں ہے کہ قرآن پڑھنا سیکھنے اور سیکھانے والا تمام لوگوں میں سب سے بہتر و افضل ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے ، جس نے قرآن کریم پڑھنا سیکھا اور دوسرے کو پڑھنا سیکھایا ۔ ( بخاری )

اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ بچوں کو قرآن کریم پڑھنا سیکھانا ، اگلے اور پچھلے گناہوں کی تلافی کا بہترین ذریعہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے بیٹے کو ناظرہ ( دیکھ کر ) قرآن کریم پڑھنا سیکھا دے تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ ( طبرانی )

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرمودات کا نتیجہ تھا کہ حضرات صحابہ کرام بھی بچوں کے دلوں میں قرآن مجید کی عظمت ، حرمت و برکت بٹھاتے تھے ، اور ان کو قرآن مجید پڑھنا سیکھاتے تھے ، اور تلاوت کا پابند بناتے تھے ، اور اس کی ترغیب و تاکید فرماتے تھے ، اس سلسلہ میں ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس سے منقول طویل اثر کا یہ جملہ کس قدر قابل توجہ ہے کہ ” سورہ الملک اپنے گھر والوں کو بھی سیکھا دو ، اسی طرح اپنی تمام اولاد ، اپنے گھر کے بچوں اور اپنے پڑوس کے بچوں کو سیکھا دو ، کیونکہ یہ سورہ ( جہنم اور قبر کے عذاب سے ) نجات دلانے والی ہے ۔ ( تفسیر ابن کثیر و سلسلة الاحادیث )

فی الواقع بچوں کو ناظرہ قرآن پاک پڑھنا سیکھانے کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کرانا ، اسلامی عقائد و عبادات سے واقف کرانا ، نماز ، روزہ کا پابند بنانا ، نماز کی تمام دعاوں کو یاد کرانا ، اور نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھانا نہایت ہی ضروری ہے ہیں ، اور یہ ماں باپ اور معلم و مربی کی بڑی ذمہ داریاں ہیں ۔

جب بچوں کی عمر سات سال ہو جائے تو ان کو نماز کا پابند بنانا اور ان کو تاکید کرنا ماں باپ کی اہم ذمہ داریاں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” ( لوگو! ) اپنے بچوں کو سات برس کی عمر میں نماز ( پڑھنے ) کا ( ترغیبی ) حکم دو ، اور دس برس کی عمر میں نماز ( نہ پڑھنے ) پر ان کو مارو ” ۔ ( ابو داود )

نماز کی ترغیب و تاکید کی طرح ہی بچوں کو اسلامی عبادات کا شوق دلانا اور ان کا پابند بنانا روشن مستقبل کے ضامن ہیں ، اور دونوں جہاں کی کامیابی کے موجب ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ” نہیں ہے کوئ بچہ جو اللہ تعالی کی عبادت میں نشو و نما پائے ، یہاں تک کہ اسے موت آجائے ، مگر اللہ تعالی اسے ننانوے صدیق کے برابر اجر و ثواب دیں گے ” ۔ ( طبرانی )

بچوں کے دل و دماغ میں اللہ تعالی کی جلالت و کبریائ ، قرآن و حدیث کی عظمت و حرمت کا احساس پیدا کرنا ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت کی عقیدت و محبت اور حضرات صحابہ کرام اور اسلاف عظام کے احترام و اکرام کے جذبات کو بیدار کرنا ، بچوں کی دین سے وابستگی کے لیے اور دنیا و آخرت دونوں جگہ میں کامیابی و کامرانی کے لیے نہایت ہی اہم ضروری ہیں ۔

اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی اولاد کو دینی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی دین شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *