“دكتور ضياءالرحمان اعظمي رحمه الله : حيات وخدمات “

‌”دكتور ضياءالرحمان اعظمي رحمه الله : حيات وخدمات ”

‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‌از: طارق انور سلفی ارریہ بہار۔

‌بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

‌بلاشبہ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کسی فرد وبشر کو انکار نہیں، چاہے وہ کسی بھی دین ومذہب سے تعلق رکھتاہو،حتی کہ دہریہ اور ملحد بھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتے-یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے صاحب علم و قلم افراد ہمیشہ سے دنیا میں چلے آرہے ہیں، ان میں سے چند قد آور شخصیات کو تو بعد از وفات دبستان شریعت قرار دیا گیا، انکی وفات کے بعد بھی انہیں ان کے کارنامے زندہ رکھتے ہیں -ان ہستیوں میں سے ایک ہستی علم و شریعت کا بحر ذخار، اعلیٰ تعلیم وتربیت سے مزین، اخلاق وآداب میں مثیل، طریقہ دعوت وتبلیغ سے واقف، بحث وتحقیق میں عظیم، بہت ساری تصنیفات وتالیفات کے مالک، دکتور ضیاء الرحمان اعظمی رحمہ اللہ ہیں، جنکی فرقت جاودانی سے عالم اسلام میں پژمردگی چھا گئی، اہل علم اور ارباب فکر ونظر اور حاملین کتاب وسنت کی صفوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا جس کا فی الوقت پر ہونا نا ممکن سا لگتا ہے

‌مجھ کو بتلائے کوئی چارہ ہو

‌علم کا کیسے اب اجارہ ہو

‌کیسےاب پورا یہ خسارہ ہو

‌موت عالم ہے موت انسانی

‌ دکتور رحمہ اللہ کو باری تعالی نے دولت ایمان کے ساتھ دولت علم وعمل سے بھی نوازاتھا ،ایک غیر مسلم گھرانہ کا مولود ،قبول اسلام کے بعد علم ومعرفت کی برکتوں سے اتنا مالامال کہ اچھے اچھے باحثین ومحققین پیچھے رہ جائیں ۔۔سچ ھے اخلاص و للہیت اورجھد مسلسل میں بڑی طاقت ھوتی ھے۔اوریہ دونوں چیزیں آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی تھیں ۔اللہ قبول فرمائے اوردکتوررحمہ اللہ کےمدفن پررحمتوں کی بارش برسائے،قدرت کے نظام حیات کے مطابق آپ بھی کرونا کے وبائی سال 2020/1441 میں حدیث رسول کا یہ مہر درخشاں ارباب زمانہ کی نگاہوں سے ہمیشہ ہمیش کے لئے غروب ہو گئے۔اللھم اغفرلہ وارحمہ رحمة واسعة،

‌ذیل میں اسی محدث و فقیہ کی حیات مستعار کے بعض گوشوں کی تفصیلات نذر قارئین کرنا چاہتا ہوں و باللہ التوفیق

‌ *نام ونسب* :

‌ابواحمدمحمد عبداللہ اعظمی، المدنی الازھری المعروف ب ” ضیاء الرحمن الاعظمی”

‌اسلام سے پھلے آپکا نام “بانکے رام” اوروالد کانام” سکھدیو”تھا، قبول اسلام کے بعد “امام الدین” نام پڑا، پھر حالات کی مجبوریوں کی وجہ سےاسے “محمد ضیاء الرحمن اعظمی” نام میں تبدیل کرنا پڑا،بعد میں چل کر سعودی نیشلٹی کے حصول کے لئے محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن الاعظمی نام رکھناپڑا، آپکی کنیت “ابواحمد “اورلقب “ضیاء”ھے۔علامہ البانی رحمہ اللہ آپ کو ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ پر ماجستر(ایم۔اے) کرنے کی وجہ سے “صاحب ابی ھریرۃ” کھاکرتے تھے۔

‌ *مولد ومسکن* :

‌آپ کی پیدائش 1943 ء مطابق 1362ھ میں ھندوستان کے صوبہ اترپریش کے معروف وزرخیزعلاقہ اعظم گڑھ کے بلریاگنج گاؤں میں ایک غیر مسلم گھرانے میں ھوئی ۔ والدین نے نام “بانکے رام “رکھا۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے بانکے لال۔

‌ #خاندانی حیثیت اور قبول اسلام #

‌شیخ رحمہ اللہ دھوبی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔عام طور سے بعض حضرات نے انکی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بتایا کہ یہ برھمن خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن انہوں نے خود بیان دیا تھا اور بتایا تھا کہ شیخ دھوبی خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔شبلی کالج اعظم گڑھ میں زیر تعلیم تھے۔1959ء میں غالبا15 سال کی عمررھی ھوگی ،کتابوں کے مطالعے اوراسلام میں رغبت بڑھی، مولانا مودودی کی کتاب “ستیہ دھرم ” (جس کا اُردو ترجمہ دین حق ہے) اس سے انکی جستجو کی پیاس اور شدت اور بڑھ گئی اور پھر تحقیق شروع کی،پنڈتوں اور مسلم علماء سے دونوں مذاہب کی حقیقت کو جاننے کی بھر پور کوشش کی۔اور دونوں مذاہب کی کتابوں کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کئےاور دوران مطالعہ اسلام کا رد کرنے کا داعیہ بھی پیدا ہو گیا۔مگرجیسے جیسے میں تحقیق کر تاگیا ویسے میرے سامنے یہ آشکارا ہوتی گئی کہ ہندو مذہب حقیقت میں کوئی معقول فطری تعلیمات پر مشتمل نہیں ہے، اورپھرخواجہ حسن نظامی کے” ھندی ترجمہ قرآن” نے دل کے بند دروازے کھو ل دئے اوراسکے بعد ایک دن کسی حلقہ درس میں قرآن مجید کی آیت کریمہ

‌مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللهِ أَوْلِيَاء كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ. (العنکبوت ٢٩: ٤١) ”جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کار ساز بنا رکھا ہے، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جو گھر بناتی ہے اور سب سے بودا گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش لوگ (اس حقیقت سے ) باخبر ہوتے””

‌ کی شرح وتفسیرجب کانوں سے ٹکرائی ،تو بے ساختہ معبودان باطلہ کے کمزوراورپھسپھسے گھروں سے نکل کر رب کائنات کی چوکھٹ پہ آنے کا شوق اور بڑھ گیا۔ ، بس کیا تھا کلام الھی کو دل دے بیٹھے اورقرآن کی اس عنکبوتی تعبیر نے ایسا کھینچا کہ پھرکلمہ پڑھ کر دائرے اسلام میں داخل ہوگئے ۔ اورز ندگی میں اسلام کے لئے ھجرتوں پر نکل پڑے،، مختلف جگھوں پر تعلیم حاصل کرتے ھوئے مدینہ پھونچے وسیع مطالعہ، عمدہ تحقیق اورذاتی جدوجھدواخلاص کی بنیاد پر بھت آگے نکل گئے اوراللہ نے قسمت ایسی جگائی کہ عالم اسلام کے صف اول کے محققین ومولفین اور سپاہی میں شمار کئے جانے لگے۔اورجیساکہ قبول اسلام کے بعد امام الدین نام رکھا گیا تھا فی الحقیقت علم کے آفتاب اور دین کے ایک امام بن کر ابھرے اوراپنی علم ومعرفت کی ضیاءپاش کرنوں سے عالم اسلام کومنور کرگئے۔ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء

‌ *تعلیمی مراحل :*

‌* ابتدائی تعلیم مڈل اسکول بلریاگنج

‌*ھائی اسکول مالتاڑی، بلریاگنج

‌*میٹرک /شبلی کالج اعظم گڑھ

‌*قبول اسلام کے بعد رامپوردرسگاہ اسلامی وککرالہ بدایوں درسگاہ اسلامی

‌*عربی وشرعی علوم یعنی عالمیت وفضیلت: جامعہ دار السلام، عمرآبادتامل ناڈو. سن۔۔1961ءتا 1966ء

‌*گریجویشن( بی ۔اے):کلیۃ الحدیث الشریف، الجامعۃ الاسلامیۃ المدینۃ المنورۃ سن ۔۔۔۔۔1967ءتا1970ء

‌ *ماجستیر(ایم ۔اے): جامعۃ الملک عبد العزیز، مکۃ المکرمۃ، جو اَب جامعۃ أم القریٰ کے نام سے جانی جاتی ہے۔یھاں آپ نے ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی کےاشراف میں “ابوھریرۃ فی ضوء مرویاتہ بشواھدھاوحال انفرادھا”کے عنوان پرایم ۔اے کا مقالہ لکھا اور1392-1393ھ /1972-1973ء میں مناقشے کے بعد ڈگری ملی ۔۔

‌ *دکتوراہ(پی۔ ایچ۔ڈی : جامعۃ الأزھر، مصر۔یھاں آپ نے ڈاکٹر ابو شھبہ کے اشراف میں” دراسۃ وتحقیق کتاب : اقضیۃ النبی صلی الله عليه وسلم للامام ابن الطلاع المالکی “”پرسن 1397ھ/1977ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

‌ *معروف اساتذۂ کرام* :

‌آپ نے جن اساتذہ و شیوخ سے کسب فیض کیا ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، ان میں سے چند مشہور اساتذہ یہ ھیں۔

‌1.مولانا عبدالواجدبن عبداللہ رحمانی متوفی 1409ھ (آپ سے صحیح بخاری پڑھا۔)

‌2.مولانا عبدالسبحان بن محمد نعمان اعظمی( آپ سے صحیح مسلم پڑھا)۔

‌3.مولانا محمد ظھیرالدین رحمانی( آپ سے سنن ابو داود پڑھا۔)

‌5. مولانا ابوالبیان حماد عمری

‌6.،مولانا عبدالکبیر عمری

‌5.علامہ شیخ عبد اللہ بن حمید رحمہ اللہ (چیف جسٹس سعودی عرب)

‌6.علامہ شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ (وائس چانسلر جامعہ اسلامیہ اور پھر مفتی اعظم سعودی عرب)

‌7.علامہ محمد الامین شنقیطی رحمہ اللہ صاحب اضواء البیان مدینہ منورہ

‌8.علامہ مختارامین شنقیطی، مدینہ منورہ

‌9.ڈاکٹر تقی الدین الھلالی المغربی، مدینہ منورہ

‌10.ڈاکٹر محمد محمد ابوشھبہ، جامعہ ازھر مصر

‌11.ڈاکٹر محمد محمد السماحی، جامعہ ازھر مصر

‌12.ڈاکٹر محمد امین مصری، جامعہ ام القری، مکہ مکرمہ

‌13۔علامہ عبدالمحسن بن حمد العباد، مدینہ منورہ

‌14.ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی، جامعہ ام القری مکہ مکرمہ

‌⚫شیخ البانی رحمہ اللہ سے بھی ملاقات اور آپکی علمی مجلسوں میں بارھاشرکت واستفادہ کا موقع ملا ھے۔البانی رحمہ اللہ ملاقات پرآپ کو “”یا صاحب ابی ھریرۃ”” کھ کر پکارتے تھے۔

‌ *تعلیم وتدریس* :

‌- ۱۳۹۹ھ/1979ء میں جامعہ اسلامیہ میں بطورِمدرس متعین ہوئے۔ اورکلیۃ الحدیث میں علوم حدیث اورادیان ومذاھب جیسے اھم ترین مواد پڑھانے کی ذمہ داری ملی،رفتہ رفتہ پروفیسر کے عھدے تک پھونچے اور اسی کلیہ کے کلیدی ذمہ دار یعنی” عمیدالکلیہ “بھی مقرر کئے گئے۔

‌-تدریس کے ساتھ ڈاکٹریٹ کے مقالوں کی نگرانی اور ان کے مناقشے بھی کرتے رھے۔آپ کو درس وتدریس میں بڑا ملکہ حاصل تھا، ہزاروں طلبہ کو اپنے علم سے فیضیاب کیا، حدیث اور علم کی خدمت کے لیے آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی،

‌ *دعوتی دورےواسفار* :

‌ شیخ رحمہ اللہ چونکہ ایک داعی تھے ۔جامعہ کی طرف سے مختلف ملکوں میں تعلیمی ودعوتی دورے پربھیجے جاتے تھے، کبھی یہ وفد کی شکل میں ھوتا اورکبھی انفرادی بھی ۔اس ضمن میں آپ نے

‌ہندوستان، پاکستان، مصر، اردن، آسٹریلیا،سری لنکا، انڈونیشیا، ملیشیا، نیپال، برطانیہ، الامارات العربیۃ وغیرہ جیسے ممالک کے متعدد دورے کئے اورمختلف موضوعات پر لیکچرز اورمحاضرات بھی دئے ۔۔

‌ *مناصب اورذمہ داریاں* :

‌*ايم .اے کی تعلیم کے دوران شیخ محمد بن علی الحرکان کے دور نظامت میں رابطہ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ میں مختلف مناصب پر فائز رہے اور آخر میں انچارج ہیڈ آفس جنرل سکریٹری (مدیر مکتب الأمین العام لرابطۃ العالم الاسلامی) رہے۔

‌*مدیر البحث العلمی

‌*مدیر مکتب الجالیات التابعۃ للجامعۃ الإسلامیۃ

‌*رکن مجلۃ الجامعۃ الاسلامیۃ

‌ *عمید کلیۃ الحدیث

‌ < تلامذہ> :

‌شیخ رحمہ اللہ نے مدینہ یونیورسٹی جیسے عالمی ادارہ میں برسھابرس، تعلیم دی ھے ،جھاں پوری دنیا سے مسلم طلباء علم کی تشنگی بجھانے کی خاطر حاضر ھوتے ھیں، اس لئے آپ کے شاگردوں کا احصاء ممکن نھیں،

‌*تصنیفی وتالیفی اور تحقیقی خدمات* :

‌آپ کی تصانیف و تالیفات نمایاں خدمات کا ایک شاہ کار نمونہ ہیں، آپ نے مختلف علوم و فنون میں بہت سے صفحات پر خامہ فرسائی کی ہے ،آپ نے عربی زبان میں بہت ساری کتابیں لکھیں، جن میں احادیث مبارکہ کی چند ضخیم کتابوں کی تخریج وتحقیق بھی شامل ہیں

‌ذیل میں آپ کی تصنیفات و تالیفات اور خدمات جلیلہ کو قلمبند کرنے کی سعی کر رہا ہوں –

‌# مسجدِ نبوی میں دروس :مدینہ یونیورسٹی سے ریٹائرمنٹ کے بعد جامعہ کے جن پروفیسران اوراساتذہ کو حرم نبوی میں تدریس کی سعادت ملی اس میں آپ کی بھی شخصیت ھےیھاں آپ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی مختصر تشریح وتعلیق اورحافظ ابن کثیر کی اختصار علوم الحدیث کی شرح کیاکرتے تھے اورایک اچھی تعداد طلبہ وزائرین کی آپ سے فیض اٹھاتی تھی ۔

‌# ھندی اور عربی میں مقالات کی کتابت اور تألیف کتب۔

‌# جامعہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد مسجد نبوی کے دروس کے سوا تمام سرگرمیوں کو آپ نے موقوف کردیا اورپوری یکسوئی سے ” الجامع الکامل “کی ترتیب وتصنیف میں مصروف ہو گئے ۔اوراس طرح کئی سالوں کی محنت کے بعدیہ عظیم موسوعی کام پایہ تکمیل کو پھونچا

‌ عربی تصانیف:

‌(1) أبو هریرة في ضوء مرویاته ۔یہ ماجستر کا رسالہ ھے جو انتہائی وقیع اورشاندارھے۔متعدد ایڈیشن چھپ چکے ھیں ۔

‌(2) أقضیة رسول الله ﷺ لابن الطلاع (ت 497 هـ) دراسۃ وتحقیق واستدراک

‌یہ پی ایچ ڈی یعنی دکتوراہ کا رسالہ ھے۔۔

‌(3) دراسات في الجرح والتعدیل

‌اسے الجامعۃ السلفیۃ، بنارس نے ۱۹۸۳م میں شائع کیاتھا بعد میں مختلف کتب خانوں نے اسکی اشاعت کی ۔

‌(4) المدخل إلی السنن الکبری للبیهقي (ت 458 هـ)

‌یہ امام بیہقی کی مشہور کتاب ’’السنن الکبری‘‘ کا مقدمہ ہے جو اب تک ناپید تھا، ڈاکٹر صاحب نے خدابخش لائبریری پٹنہ سے اس کا قلمی نسخہ حاصل کیا اور اس کو اپنی تحقیق وتعلیق اورعلمی مقدمے کےساتھ شائع کرایا،

‌(5) دراسات في الیهودیة والنصرانیة

‌اس میں بطورمذھب یھودیت ونصرانیت کی تاریخ، آغاز، اورتحریفات کا ذکرھے ۔

‌(6) فصول في أدیان الهند :الھندوسیۃ، والبوذیہ والجینیہ، والسیخییۃ وعلاقۃ التصوف بھا۔یہ برصغیر میں بت پرستی اورشرک وکفر میں مبتلا مذاھب مذکورہ کی تاریخ ھے۔

‌(7) فتح الغفور في وضع الأیدي علی الصدور للعلامة محمد حیاة السندي (ت 1163 هـ) دراسۃ وتحقیق

‌یہ علامہ محمد حیات السندی رحمہ اللہ کی کتاب ہے، جو نماز میں سینے پر ھاتھ باندھنے کے موضوع پربھترین کتاب ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تحقیق۔

‌(8) ثلاثة مجالس من أمالي ابن مردویه (ت 410 هـ) دراسہ وتحقیق

‌(9) معجم مصطلحات الحدیث ولطائف االاسانید ۔

‌(10) المنة الکبری شرح وتخریج السنن الصغری للحافظ البیهقي (ت 458 هـ)

‌یہ امام بیہقی کی کتاب ’’السنن الصغری‘‘ کی شرح وتخریج ہے۔اور9 جلدوں میں ھے۔

‌(11) التمسک بالسنة في العقائد والأحکام

‌(12) تحفة المتقین في ما صح من الأذکار والرقی والطب عن سید المرسلین

‌(13) الجامع الکامل في الحدیث الصحیح الشامل

‌جلدیں: ۱۲ طبع اول: دار السلام، الریاض 2016م​

‌تاریخِ اسلام میں یہ وہ پہلی کتاب ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی تمام صحیح حدیثوں کو مختلف کتب ِ احادیث جیسے مؤطات، مصنفات، مسانید، جوامع، صحاح، سنن، معاجم، مستخرجات، أجزاء اور أمالی سے مؤلف نے جمع کیا

‌(14) کتاب الأدب العالي

‌یہ مختصر’’الجامع الکامل‘‘ کاایک باب ھے۔جوجامعہ دارالسلام عمرآباد سے شائع ھواھے۔

‌(15)تلخیص کتاب ابوھریرہ فی ضوء مرویاتہ

‌(16)دراسات فی الیھودیۃ والمسیحیۃ وادیان الھند ۔

‌(17)سیرۃ المصطفی الصحیحۃ علی منھج المحدثین ۔زیر طبع ھے۔

‌(18)اختصار الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل

‌یہ الجامع الکامل کا مختصر ھے جو پانچ جلدوں میں ھے اورزیر طبع ھے۔

‌(19) قرآن کی شیتل چھایا ۔ھندی

‌(20) قرآن مجید کی انسائیکلوپیڈیا۔ ھندی

‌(21)گنگا سےزمزم تک ۔۔۔جس میں شیخ نے اپنی آپبیتی لکھی ھے۔ابھی مسودہ ھے زیر طبع ھے

‌ *منھج وعقيده :*

‌مرحوم شيخ رحمہ اللہ نے اگرچہ جماعت اسلامی کے لٹریچر اوردیگر لوگوں کی کاوشوں اورخود اپنے بحث وتحقیق اورمطالعہ کے بعد اسلام قبول کیا مگر ابتداء سے ھی وہ کتاب وسنت کے صحیح راستے پر گامزن تھےاس كا اندازه قارئین مذکورہ تصانیف وتالیفات سے لگا سکتے ہیں، آپ عقیدہ وفقہ اور جملہ علوم و فنون میں میں مسلک سلف کے علمبردار تھے، منہج سلف کے ترجمان تھے،۔بالخصوص جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی اوروھاں کے سلفی مشائخ اورتوحید وسنت کے صاف ستھرے ماحول نے آپ کو مزیداستحکام عطافرمایا،عالم اسلام کے سلفی اساطین اورشیخ ابن باز وعلامہ البانی رحمھم اللہ جیسے مایہ ناز اھل علم سے ملاقات واستفادہ نیز مسلسل حدیث رسول کی خدمت نے انھیں فکری انتشار اوراس راہ کی پراگندگیوں سے بچا لیا،

‌ دکتور ضیاءالرحمن الاعظمى رحمه الله نے آخری عمر کے ایام میں جماعت اسلامی اور اس کے بانی کے منھج سے برأت کا اظہار کیا تھا۔

‌.وفات سے دوماہ قبل آپ نے اپنے منھج وعقیدہ کے سلسلے میں ایک وضاحتی تحریر بعنوان “چند وضاحتیں “”خود شائع کیا ۔۔جس میں تقلید اور غیر سلفی مناھج سے اپنی دوری اورخالص اھل حدیث ھونے کا خلاصہ کردیاھے۔لکھتے ھیں۔۔۔””نہ تو میں خاندانی حنفی ھوں اورنہ سلفی بلکہ خاندانی تو میں ھندو ھوں، مجھے سلفیت وراثت میں نھیں ملی بلکہ یہ محض اللہ کا کرم اور اس کا احسان ھے کہ میں نے سلفیت کو اختیار کیا، اوراس بات کا ذکر بارھا میں نے اپنے مضامین میں بھی کیا ھے۔””

‌اسی طرح آپ نے ایک واقعہ کے پس منظر میں لکھا ھے کہ میں بلوغ المرام پڑھنے کے زمانے سے ھی رفع الیدین کرتا ھوں۔لکھتے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

‌ان تمام امور اور خصوصی طور پر الجامع الکامل جیسے عظیم موسوعی کتاب کی تصنیف جو صرف صحیح احادیث کا مجموعہ ھے، اوراسکے علاوہ آپ کے دیگر تحقیقی کام بھی آپکے سلفی رخ کی تعیین کردیتے ھیں، فللہ الحمد والمنہ

‌ *شادی اوراولاد:*

‌دکتوررحمہ اللہ کی شادی پھلے مدینہ منورہ میں ایک ھندوستانی خاتون سے ھوئی، نکاح وغیرہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نےخود پڑھایا اورولیمہ بھی آپ ھی کے خرچ پرکیا گیا، مگر انکا کچھ سالوں کے بعد انتقال ہوگیا، بچے نھیں تھے،،

‌دوسری شادی ایک پاکستانی خاتون سے ھوئی جوابھی بھی باحیات ھیں اورانکے سلسلے سے دکتور کی کل چار اولادیں ھیں :

‌-1-د۔ اسعد یہ ڈاکٹراورطبیب ھیں ۔۔

‌2-احمد۔۔۔یہ الیکٹرک انجینیر ھیں ۔۔

‌3-اسید ۔۔یہ کمپیوٹرانجینیر ھیں ۔

‌4-بیٹی کا نام فاطمہ ھے جو حافظہ قرآن ھے اورکمپیوٹر کی تعلیم مکمل کرچکی ھے.

‌اللہ سب کو اولاد صالح بنائے اوردکتور کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔آمین

‌ *وفات :*

‌قبول اسلام کی لذتوں سے آشنائی اورپھر صراط مستقیم پر گامزن ھونے کی سعادت کے بعدپوری زندگی علم وفضل اوربحث وتحقیق اورخدمت اسلام میں لگادی ۔کرونا کی وبائی بیماری سے پوری دنیا گذر رھی تھی کہ اسی زمانے میں آپ کو19 ذی قعدہ 1441ھ/ 10 جولائی 2020ء کوکچھ حرارت اورتھکان سی محسوس ھوئی، مدینہ کے نیشل گارڈ کے خصوصی اسپتال (مستشفی الحرس الوطنی )میں ایڈمٹ کئے گئے، مگر وقت موعود آ پھونچااوربلآخر علم وفضل کایہ آفتاب اپنی ضیاپاش کرنیں بکھیر کر20 دنوں کے بعد عین ظھر کے وقت عرفہ کے مبارک دن 9 ذی الحجہ 1441ھ/30جولائی 2020ء بروزجمعرات افق عالم سے غروب ھوگیا ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔اللھم اغفرلہ وارحمہ

‌آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

‌➖➖

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *