کثرت مدارس باعث رحمت۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

 

“کثرت مدارس باعث رحمت ہے ”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از: عرفان ابوطلحہ تیمی ارریہ بہار۔

 

 

یقیناً اللہ رب العالمین کے ہم پر بیشمار احسانات اور ان گنت نعمتیں ہیں جنہیں ہم شمار نہیں کر سکتے ہیں جیساکہ رحمن کا یہ فرمان :” وان تعدوا نعمت الله لا تحصوھا” یعنی اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گنا اور شمار کرنا چاہے تو وہ شمار نہیں کر سکتے ہیں ۔

 

پیارے قارئین کرام! ان ہی نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت مدارس اسلامیہ اور دینی یونیورسٹیاں ہیں جو کہ مسلم امت کے لیے دینی قلعہ اور پاور ہاؤس کے مانند ہیں جہاں سے ہزاروں ناخواندہ بچے وبچیوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ وپیراستہ کیا جا تا ہے، قوم کے نہالوں کو مدارس جیسے پاور ہاؤس یا فیکٹری سے زنگ آلود عقل و دماغ کو تیار کیا جاتا ہے پھر ان کی پیداوار اپنی علمی لیاقت کی بنیاد پر اپنے معاشرے میں پھیلے برائیوں کا خاتمہ کرتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری رہتا ہے۔ساتھ ہی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کی تاریخ “مدرسہ صفہ ” سے ملتی ہے، جہاں سے سیکڑوں صحابہ کرام اور علم کے جیالوں نے اپنی اپنی علمی تشنگی بجھائی ہے، اسی “مدرسہ صفہ ” کے بدولت پورے عالم میں علم کی تاباں قندیلیں روشن ہوئی ہیں، پھر دھیرے دھیرے ناخواندگی کی شرح کم ہوتی گئی اور سنہ 1947ءکےبعد وطن عزیز میں خصوصاً جماعت اہل حدیث کے لوگوں نے ملکر مدرسہ “احمدیہ سلفیہ آرہ” کی سنگ بنیاد رکھی اور یہ عظیم کام شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ خاص محمد ابراہیم آرمی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر رفقاء نے سرانجام دیا ہے۔

اسی طرح پورے آب و تاب کے ساتھ مدارس اسلامیہ اور یونیورسٹوں کے جال پھیل گئے۔ ذیل میں چند مدارس کے اسماء اور ان کے کارنامے قلم بند کیے جا رہے ہیں ۔

 

1۔ جامعہ احمدیہ سلفیہ پٹنہ آرہ، ان کے بانی محمد ابراہیم آرمی اور ان کے رفقاء۔ ساتھ ہی ان کی خدمت بہت زیادہ ہیں کیونکہ پٹنہ آرہ اور دیگر جہات کے طلبہ کسبِ فیض ہوئے، خالص کتاب اللہ وسنت رسول ﷺ کی تعلیم ابھی بھی دی جا رہی ہے، جنکی بین ثبوت ہر گاؤں میں سلفی علماء کرام کی ٹیم موجود ہیں۔

 

2۔ جامعہ امام ابنِ تیمیہ مشرقی چمپارن، ان کے بانی و مؤسس سماحۃ العلامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ نوراللہ مرقدہ ہے۔

یہ ادارہ تاسیس اول ہی سے قوم کے فرزندوں کی فلاح وبہبود اور انہیں ایک اچھا انسان بنانے کے لئے دینی وعصری تعلیم سے آراستہ وپیراستہ کرتا آرہا ہے یعنی قوم کے بچے اور بچیوں کی دنیا و آخرت دونوں سنوارنے میں کماحقہ حق ادا کر رہاہے۔

اس جامعہ سے پڑھ کر طلبہ پوری دنیائے عالم میں اپنا نام روشن کر رہے ہیں ، چاہے سیاسی میدان میں ہو، یا دینی مجال میں، تصنیف وتالیف میں ہو،

الغرض ہر میدان میں ابنائے تیمیہ اپنا لوہا منواتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس کے مؤسس نے تقریباً ہر زبان میں کتابیں لکھی ہیں جنہیں دنیا فراموش نہیں کر سکتی ہے۔

3۔ جامعہ سلفیہ بنارس و دربھنگہ، جامعہ سنابل دہلی، ریاض العلوم دہلی، جامعہ فیض عام مئو، جامعہ عالیہ، دار الحدیث اثریہ، جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم شنکر پور سپول، جامعہ مفتاح العلوم بیرا کمال، جامعہ اسلامیہ مدینہ العلوم حمید نگر بابوآن ارریہ بہار وغیرہ کے بھی عظیم الشان کارنامے ہیں جنہیں بیان کرنا امر محال ہے۔

قارئین کرام! لیکن مقام افسوس کہ آج حکومت کی نگاہیں ہمارے مدارس ومکاتب اور مساجد پر ٹکی ہوئی ہیں کبھی اپنے بیان میں مدارس کو دہشتگردی کا اڈہ قرار دیتی ہے تو کبھی مدارس کو بند کرنے کی ناکام کوششیں اور باتیں کرتی ہے، حالانکہ انہیں مدارس ومکاتب سےپڑھ کر نکلنے والے مجاہدین نے اس گنگا جمنی تہذیب والے دیش کو انگریز کے چنگل سے آزاد کرانے میں اپنا تن من دھن سب قربان کر دیا تھا پھر بھی انہیں دہشت گرد اور فتنوں کا اڈہ بتا رہے ہیں،

 

دوستو! حیف در حیف اُس شخص پر ہے کہ جب مدارس پر کیچڑ اچھالتے ہیں اور انہیں اختلاف وفتنون کا جڑ بتاتے ہیں اپنی تحریر وتقریر کے اندر، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑا بےوقوف اور نادان دنیا میں کوئی نہیں ہے کیونکہ خود مدارس کے اندر رہ کر دس سالہ زندگی گزاری ہو، جنہیں پیشاب و پاخانہ کرنے اور بولنے، کھانے پینے،رہن سہن کا ڈھنگ نہیں تھا اس سے مدارس ہی نے سیکھائی ہو، پھر اسی کے خلاف زبان درازی؟ یہ تو نچلے درجے کی بےوقوفی اور نادانی کی بین دلیل ہے۔

ہاں اگر یہ کہا جائے کہ مدرسے کے چلانے والوں کی نیت محض پاڑٹی پولٹی ہو تو صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی نے فرمایا: انما الاعمال بالنیات” یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

 

قارئین!

میں یہی کہوں گا کہ کسی بھی چیز کو جب بھی ہم لوگ دیکھیں تو یہ دھیان رکھیں کہ اس کے دو پہلو ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کثرت مدارس یعنی بہت زیادہ مدرسوں کا ہونا ہم سب کے لیے رحمت ہے زحمت نہیں۔

سوال کیسے؟۔

جواب یہ ہے کہ جس گاؤں میں زیادہ مدرسے ہونگے اس گاؤں میں تعلیمی معیار زیادہ ہوگا اور وہ سماج و معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، بے روزگاری سے معاشرہ بچے گا، اور زیادہ طلبہ کی کھپ تیار ہو گی۔

الغرض کثرت مدارس کا ہونا یہ عیب نہیں ہے بلکہ ان کو صحیح طریقے سے منظم نہ کرنا، اور ٹھوس تعلیم نہ دینا بلکہ غیر منظم طریقے سے چلانا اور اپنی جاگیر سمجھنا عیب ہے۔

 

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ مدارس اسلامیہ، اسلامی دانشگاہ اور پوری انسانیت کے لیے فلاح وبہبود کے ضامن ہیں کیونکہ اس پاور ہاؤس کے ذریعے اسلام کی صاف وشفاف تعلیمات کو دنیا کے گوشے گوشے میں بہم پہنچایا جاتا ہے۔

اس لیے ہمیں اس کی حفاظت اور صفائی خود کرنی ہوگی کہ مدارس کے اندر انسانیت کا ہی درس دیا جاتا ہے، مدارس ہمیشہ پوری انسانیت کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونے کا درس دیتے ہیں اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مدارس کے اندر مذہبی تعلیم کے علاوہ اور دوسری تعلیم نہیں دی جاتی ہو، اگر کسی کو شک ہو تو مدارس میں آکر دیکھے اور ان کے طلبہ سے پوچھےکہ آپ کیا کیا پڑھتے ہو ، تب حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔ جب کہ ادھر کئے سالوں سے عام طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ مسلم لڑکے اور لڑکیاں سرکاری تمام امتحانات میں زیادہ کوئلی فائی ہو رہے ہیں۔ ایسے میں مدارس پر کیچڑ اچھالنا اور انہیں فتنوں کی آماجگاہ قرار دینا یہ کم عقلی کی دلیل ہے، اور ہمارے لئے شرم کی بات یہ ہوگی کہ اگر ہم خود اسلامی تعلیمات سے لیس ہوں، اور کہے کہ کثرت مدارس باعث فتنہ ہےتب تو ہماری حکومت کو موقع مل جائےگا اور ہمارے مدارس پر تالے پڑ جائیں گے، اس لئے اس طرح کی جملہ بازی سے بچیں وگرنہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔

اللہ تعالیٰ تو ہمیں دین کی صحیح فہم عطا فرما آمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *