ندا فاضلی آشنا آراضی کے شاعر ہیں:مصطفیٰ علی

ندا فاضلی آشنا آراضی کے شاعر ہیں : مصطفیٰ علی

 

” بزم آگہی ادب” کی جانب سے اوکھلا جامعہ نگر عظیم ڈیری، بٹلہ ہاؤس میں بعد نماز مغرب “ندا فاضلی کی شاعری” پر ایک ادبی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا. جس میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے شرکت کی.

پروگرام کے آغاز میں صدر مجلس محمد اشرف یاسین نے کہا کہ ندا فاضلی کی شاعری کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان کی شاعری کا مطالعہ انہیں کے ایک قول کی روشنی میں کرنے کی ضرورت ہے: “میری شاعری نہ صرف ادب اور اس کے قارئین کے رشتے کو ضروری مانتی ہے  بلکہ اس کے معاشرتی سیاق  کو اپنا معیار بھی بناتی ہے۔ میری شاعری بند کمروں سے باہر نکل کر چلتی پھرتی زندگی کا ساتھ نبھاتی ہے۔ اُن حلقوں  میں جانے سے بھی نہیں ہچکچاتی جہاں روشنی بھی مشکل  سے پہنچ پاتی ہے۔ میں اپنی زبان تلاش کرنے، سڑکوں پر، گلیوں میں، جہاں شریف  لوگ جانے سے کتراتے ہیں، وہاں جاکر اپنی زبان لیتا ہوں۔ جیسے میر، کبیر، اور رحیم کی زبانیں۔ میری زبان نہ چہرہ پر داڑھی بڑھاتی ہے اور نہ پیشانی پر تلک لگاتی ہے”۔

ندا فاضلی کی شاعری کی تفہیم کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر مصطفیٰ علی نے اپنا پیپر پڑھا جس میں انہوں نے ان کی شاعری کے تمام اصناف سے متعدد حوالے دے کر ان کو آشنا اراضی کا شاعر ثابت کیا.انہوں نے ندا کی اہم نظموں میں “چھوٹے شہر کی رات”، “سلیقہ”، “دور کا ستارہ”، “مرمت کی ضرورت”، “چوتھا آدمی”، “پیدائش”، “کیمرے کے سامنے”، “فرق اگر ہے تو اتنا ہے”، “دو کھڑکیاں”، “کھلونے”، “سماجی شعور”، “بوڑھا”، “اتفاق”، “فرصت” اور “سانپ تالی بجا رہا ہے” وغیرہ کو شمار کرایا جبکہ انہوں نے “انتشار”، “فقط چند لمحے”، “کتنے دن بعد”، “پہلا پانی،” “سردی”، “بس یوں ہی جیتے رہو”، وغیرہ کو ندا کی معمولی نظمیں کہہ کر اس کی وضاحت بھی دی.  ندا فاضلی کو آشنا اراضی کا شاعر قرار دینے کے لیے انہوں نے چند غزلیہ اشعار، گیتوں اور دوہوں کو بھی پیش کیا. جیسے :

گھر کی دہلیز سے گیہوں کے کھیت تک

چلتا پھرتا کوئی کاروبار آدمی

یا پھر یہ گیت :

بادل میرے گاؤں بھی آؤ

مسجد پیچھے سوکھ رہے ہیں تال تلاؤ، پھر ان کو بھر جاؤ، چوپالوں میں کتھا سناؤ، پنجرے کی مینا سے بولو، بنیا ڈنڈی مار رہا ہے، دال نمک اچھے سے تولو، کھول کے اپنی مہنگی گٹھری، سستی ہاٹ لگاؤ۔

یا یہ دوہے

اب مل میں کس کام کے بنکر ماتا دین

سو چرخوں کی روئی کو کاتے ایک مشین

 

سیتا، راون، رام کا کرے وبھاجن لوگ

ایک ہی تن میں دیکھیے تینوں کا سنجوگ

 

مصطفیٰ علی نے ندا فاضلی کے کلیات (شہر میں گاؤں) سے متعدد اشعار پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ :

سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا

کھڑکی کا پردہ کھینچ دیئے رات ہوگئی۔

جیسے درجنوں اشعار جو ہمیں ان کے کلیات میں ملتے ہیں وہ مہمل بالکل بھی نہیں ہیں بلکہ ان میں شعری لوازمات کا استعمال ہوا ہے اور ہمیں شعر کی تفہیم کے لیے تمام شعری لوازمات کا جاننا ضروری ہے، نہیں تو ہم درست نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔علی نے یہ بھی کہا کہ ندا کی شاعری وہاں معراج حاصل کر لیتی ہے جہاں لطافت احساس میں شدت کرب موجزن ہو.

جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ اُردو کے ریسرچ اسکالر طاہر عزیز نے کہاکہ ندا کی شاعری کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان کی زندگی کے بارے میں جاننا بھی بہت ضروری ہے. کیونکہ ان کی شخصیت کا ان کی شاعری پر بہت گہرا اثر پڑا ہے. ندا فاضلی نے جس سے عشق کیا تھا وہ ایک سڑک حادثہ میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔اس کی وفات کا پتہ انہیں تختہ سیاہ کے اطلاع نامے کو دیکھ کر اس وقت ہوا جب وہ اس سے اپنے عشق کا اظہار کرنے کلاس روم میں گئے تھے.

اس کی تائید کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے طالب علم نعمان غنی نے کہا کہ ہجرت کا کرب ان کی شاعری میں جابجا بکھرا پڑا ہے، محض نو سال ہی کی عمر میں تقسیم ہند کا سانحہ پیش آگیا اور انہیں اپنے عزیزوں سے جدا ہونا پڑا.

پروگرام میں شامل دیگر طلبہ نے بھی اپنی دلچسپی کے مطابق متعدد سوالات کیے۔

واضح رہے کہ اس نشست کی نظامت کے فرائض ضیاء الرحمن نے انجام دیا جبکہ محمد کیف کے کلماتِ تشکّر پر مجلس کے اختتام کا اعلان ہوا۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *