خدا مجھے ایسی پارسائی نہ دے۔

*خدا مجھے ایسی پارسائی نہ دے*

_____حمزہ شعیب

جیسے جیسے سردی کی شدت بڑھ رہی ہے ویسے ویسے مذہبی اپاہجوں کے کمبل اور رضائی کی گرمی سوشل میڈیا پہ امس پھیلانے لگی ہے. اُدھر عیسائیوں کے پاپائے اعظم نیم برہنہ لڑکی کی تصویر کو لائک پہ لائک کر رہے ہیں تو إدھر جمعہ کے مبارک دن گجرات میں ایک مفتی صاحب کی ہونے والی شادی پر ہندوستانی کٹھ ملوں کی بیہودگی اور “مفتی موج مشن” کی ٹرینڈنگ چل رہی ہے اور ان کی حرکتوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ کسی دینی ادارے سے فیضیاب نہیں بلکہ سلاخوں کے پیچھے قید مشہور زمانہ پنڈتوں سے اکتساب کیے ہیں.

میں سمجھ رہا تھا کہ اس “مفتی موج مشن” کا بھوت صرف ہمارے طلبہ اخوان یا نئے نئے فارغین حضرات پر ہی سوار ہوگا لیکن کچھ ایسے اللہ والے بھی محترمہ ثنا خان کے حسن کے اسیر نظر آئے جن کی صاحبزادیاں بھی ثنا خان کی ہم عمر یا ان سے سال دو سال بڑی ہوں گی (_میں ایسے کئی کٹھ ملوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جن کا پاؤں تو قبر میں ہے لیکن ۲۰ سال پرانی ڈی پی لگاکر فیس بک پر جوانی کا جوش دکھا رہے ہیں_). اس سے زیادہ حیرانی تو اردو کے ان صحافی برادران کی پوسٹ پر ہوئی جو کل تک گلناز خاتون کو انصاف دلانے اور عفت نسواں پہ دکھاوٹی پٹاخے پھوڑ رہے تھے لیکن آج ان کی بھی ذہنی خباثتیں خوب ابال مار رہی ہیں.

اسی طرح معروف دینی درسگاہ دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی ہولڈر ایک فیسبکیا مفتی کے اعصاب پر ثناء کا حسن اس قدر سوار ہوا کہ وہ کف افسوس ملتے ہوئے مفتی انس (ثناء خان کے شوہر نامدار) کو لعنتی تک قرار دے دیا اور ایک ندوی صاحب نے تو یہ لکھ کر حد ہی کر دی کہ :”ثناء خان نے مفتی صاحب کے پیار میں پاگل ہو کر بالی وڈ کو خیر باد کہا” (گویا وہ ان کے دل کا حال جانتے ہوں). اور اس مفتی موج مشن کا جادو اتنا زود اثر ثابت ہوا کہ خود مفتی انس اور ثناء خان بھی اس کے سحر سے بچ نہیں سکے (_ جیسا کہ زیر نظر تصویر میں مفتی صاحب کا پوز مشاہدہ کر سکتے ہیں _) اس کے علاوہ اور بھی ایسی ایسی واہیات اور بکواس کی جارہی ہے جو بیان کرنے کے قابل نہیں…..

مگر سوال یہ ہے کہ مولوی ملا کیا اب اس حد تک گر گئے ہیں کہ اپنی جنسی حیوانیت کا اظہار بر سرِ عام کرنے لگے؟ ثنا خان کی تصویر کی تشہیر کرنے والے مفتیان عظام کے پاس کیا ماں اور بہن نہیں ہے؟ کیا ثناء خان کے علاوہ کوئی اور خاتون ہے ہی نہیں جو ان احمقوں کی جیون ساتھی بن سکے ؟ آخر یہ لوگ اپنی رہی سہی عزت کا جنازہ اتنی دھوم دھام سے کیوں نکال رہے ہیں؟ جب ہندوستان کی اکثریت اور لبرلز کی نظر میں لفظ *فتویٰ* کو گالی سمجھا جا رہا ہو تب ایسی صورت حالت میں لفظ *افتاء* اور *مفتی* کو سوشل میڈیا پر ثنا خان کے زلف و رخ کا اسیر بنا کر پیش کرنا؛ کیا علماء بیزاری کا ذریعہ اور مخالفین کو ہنسنے کا موقع دینے جیسا نہیں ہے؟ کیا مفتی انس صاحب خود بھی اپنے آپ کو *لنگور کے ہاتھ میں انگور* جیسی کہاوت پہ صادق آنے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں؟ جب انہیں معلوم ہے کہ ان کی شادی چرچے میں ہے اور لوگوں کے درمیان ہنسی مذاق اور کھیل تماشہ بنی ہوئی ہے تو کیا انہیں الگ الگ پوز میں فوٹو کھنچواکر سوشل میڈیا پہ اپلوڈ کرنا یا کرانا زیب دیتا ہے؟ اسی طرح نیم برہنہ تصویر کے لائک والے آپشن پر عیسائیوں کے پاپائے اعظم کی انگشت مبارک کیا خود سے دب جاتی ہے یا دبا دی جاتی ہے، آخر ماجرا کیا ہے ؟؟ َ⬇

https://www.dailymail.co.uk/news/article-8969923/Vatican-demands-answers-Instagram-Popes-model-photo-like.html

اللہ ہمیں ایسی پارسائی سے بچائے جس کا مکھوٹا کسی حسینہ کے حسن کا بھی سامنا نہ کر پائے. اخیر میں مفتی صاحب اور محترمہ ثنا صاحبہ کے حق میں اللہ ہماری یہ دعا اور مبارکبادی قبول فرمائے: بارك الله لھما وبارك عليهما وجمع بينهما في خير

 

نوٹ : کٹھ ملا اور اپاہج کا لفظ علماء حق کے لیے قطعاً استعمال نہیں کیا گیا ہے کیونکہ علماء حق انبیاء کرام کے وارث ہیں اور تاریکی میں چراغ کی مانند ہیں، اللہ ان کا سایہ تادیر ہم پہ قائم رکھے آمین

 

hsfaaiz9@gmail.com

متعلم : جامعہ اسلامیہ سنابل ،نئ دہلی

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *